Rajab ka maheena or is ki fazeelat- رجب کا مہینہ اور اس کی فضلیت

0
232

رجب کا مہینہ
سال کے خاص مہینوں میں ایک خاص مہینہ ”رجب المرجب “ بھی ہے،اس مہینے کی سب سے پہلی خصوصیت اس مہینے کا ”اشہر حرم “میں سے ہونا ہے،(صحیح البخاری،کتاب بدء الخلق،باب ماجآء فی سبع أرضین،رقم الحدیث:۳۱۹۷،دار طوق النجاة)۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:” ملتِ ابراہیمی میں یہ چار مہینے ادب واحترام کے تھے ،اللہ تعالی ٰ نے ان کی حرمت کو برقرار رکھا اور مشرکینِ عرب نے جو اس میں تحریف کی تھی اس کی نفی فرما دی“۔(معارف القرآن للکاندھلوی:۳/۴۳۱،بحوالہ حاشیہ سنن ابن ماجہ، ص:۱۲۵)
رجب کی پہلی رات
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: جب نبیِ اکرم ﷺ رجب کے مہینہ کا چاند دیکھتے تو یہ دعا فرمایا کرتے تھے:”اللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي رَجَبَ وَشَعْبَانَ و بلِّغْنا رمَضَان“(مشکاة المصابیح، کتاب الجمعہ ،الفصل الثالث،رقم الحدیث:۱۳۶۹،دارالکتب العلیہ) ترجمہ:اے اللہ ! ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما،اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا دے۔
ملا علی قاری رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ: ”ان مہینوں میں ہماری طاعت و عبادت میں برکت عطا فرما،اور ہماری عمر لمبی کر کے رمضان تک پہنچا؛ تا کہ رمضان کے اعمال روزہ اور تراویح وغیرہ کی سعادت حاصل کریں“۔(مرقاة المفاتیح:۳/۴۱۸،دارالکتب العلمیہ)
ماہِ رجب کے چاند کو دیکھ کر نبی کریم ﷺ دعا فرماتے تھے ،اسی کے ساتھ بعض روایات سے اس رات میں قبولیتِ دعا کا بھی پتہ چلتا ہے ، جیسا کہ ”مصنف عبدالرزاق“میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک اثر نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا :”پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتی وہ شبِ جمعہ،رجَب کی پہلی رات، شعبان کی پندرہویں رات،عید الفطر کی رات اور عید الاضحیٰ کی رات“ ہے۔(مصنف عبد الرزاق،رقم الحدیث: ۷۹۲۷،۴/۳۱۷،المجلس العلمی)

سال کے خاص مہینوں میں ایک خاص مہینہ ”رجب المرجب “ بھی ہے،اس مہینے کی سب سے پہلی خصوصیت اس مہینے کا ”اشہر حرم “میں سے ہونا ہے،(صحیح البخاری،کتاب بدء الخلق،باب ماجآء فی سبع أرضین،رقم الحدیث:۳۱۹۷،دار طوق النجاة)۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:” ملتِ ابراہیمی میں یہ چار مہینے ادب واحترام کے تھے ،اللہ تعالی ٰ نے ان کی حرمت کو برقرار رکھا اور مشرکینِ عرب نے جو اس میں تحریف کی تھی اس کی نفی فرما دی“۔(معارف القرآن للکاندھلوی:۳/۴۳۱،بحوالہ حاشیہ سنن ابن ماجہ، ص:۱۲۵)
رجب کی پہلی رات
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: جب نبیِ اکرم ﷺ رجب کے مہینہ کا چاند دیکھتے تو یہ دعا فرمایا کرتے تھے:”اللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي رَجَبَ وَشَعْبَانَ و بلِّغْنا رمَضَان“(مشکاة المصابیح، کتاب الجمعہ ،الفصل الثالث،رقم الحدیث:۱۳۶۹،دارالکتب العلیہ) ترجمہ:اے اللہ ! ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما،اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا دے۔
ملا علی قاری رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ: ”ان مہینوں میں ہماری طاعت و عبادت میں برکت عطا فرما،اور ہماری عمر لمبی کر کے رمضان تک پہنچا؛ تا کہ رمضان کے اعمال روزہ اور تراویح وغیرہ کی سعادت حاصل کریں“۔(مرقاة المفاتیح:۳/۴۱۸،دارالکتب العلمیہ)
ماہِ رجب کے چاند کو دیکھ کر نبی کریم ﷺ دعا فرماتے تھے ،اسی کے ساتھ بعض روایات سے اس رات میں قبولیتِ دعا کا بھی پتہ چلتا ہے ، جیسا کہ ”مصنف عبدالرزاق“میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک اثر نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا :”پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتی وہ شبِ جمعہ،رجَب کی پہلی رات، شعبان کی پندرہویں رات،عید الفطر کی رات اور عید الاضحیٰ کی رات“ ہے۔(مصنف عبد الرزاق،رقم الحدیث: ۷۹۲۷،۴/۳۱۷،المجلس العلمی)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here