Aik baba ji or Mustansir Hussain tarar

0
238

Mustansir Hussain tarar ki aik mazakhiya tehreer

میں اس وقت پندرہ سولہ برس کا تھا اور پہلی مرتبہ ولایت جا رھا تھا۔ جہاز میں میری برابر کی نشست پرایک مولانا براجمان تھے وہ خاصے معصوم سے تھے۔

میں نے دریافت کیا، “کیوں چچا جان آپ کس سلسلے میں انگلستان جا رھے ھیں ؟؟

تو کہنے لگے “بیٹا میں کافروں کو مسلمان کرنے جا رھا ھُوں”

میں نے پوچھا ، “آپ کو انگریزی آتی ھے ؟”

کہنے لگےِ”نہیں آتی“ ، جس کو مسلمان ھونا ھوگا اُسے خود بخود میری زبان سمجھ آجائے گی.

ھم کراچی سے تہران ، قاہرہ ، ایتھنز رُکتے روم پہنچے ایئرلائن کی طرف سےاعلان کیا گیا کہ مسافر حضرات ایئرپورٹ کے ریستوران میں اپنی مرضی کا کھانا تناول فرمائیں بل کمپنی کے ذمہ ھوگا.

ریستوران میں بیٹھے تو میں نے ایک چکن روسٹ کا آرڈر دیا۔

آپ کیا کھائیں گے ؟ “میں نے اپنے ھم سفرچچا جان سے پوچھا تو انہوں نے کہا ، ”اُس گوری لڑکی سے کہو کہ میرے لیے اُبلی ھوئی سبزیاں لے آئے کیونکہ گوشت تو یہاں حلال نہیں ھوگا“ـ

میں نے بھی بُھوک کی وجہ سے اِس طرف دھیان نہیں دیا تھا بہرحال خُوشبودارمُرغ کے گرد انڈے اور آلو کے قتلے اور سلاد وغیرہ بہار دِکھا رھے تھے جب کہ گوری لڑکی نے ایک پلیٹ مولانا کے آگےرکھ دی جس میں ایک اُبلی گاجر اور دو ابلےآلو پڑے تھے سفری چچا جان نے گاجرکھانے کی کوشش کی مگر میرے روسٹ سے ان کی نظریں نہ ھٹتیں تھیں۔

بالآخر انہوں نے گرجدار آواز میں کہا ، “برخودار! اس گوری ھوٹل والی زنانی سے کہو میرے لیے بھی یہی مُرغ لے آئے “یہ شکل سے حلال لگ رھا ھے.

”مُستنصرحسین تارڑ“

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here