Aik charwaha or Bakriyaan aik buhat he sabq amooz urdu kahani

0
243

Aik charwaha or Bakriyaan aik buhat he sabq amooz kahani 

چرواہا اور بکریاں

ایک دن چرواہا اپنی ساری بکریوں کو چرا کر لایا اور باڑے میں ہانک کر باڑے کے سارے دروازے بند کر دیے، اسی اثناء میں کچھ بھیڑیے بھی بھوک کی شدت کی وجہ سے ادھر آنکلے لیکن چونکہ سارے دروازے بند تھے اس لیے انھیں بڑی مایوسی ہوئی،وہ غور و فکر اور تدبیریں کرنے لگے کہ بکریوں تک رسائی کیسے ممکن ہو وہ غور و فکر کے سمندر میں ڈوبے بکریوں کی آزادی کے حربے تلاش کر رہے تھے اچانک ان کے شیطانی ذہن میں ایک ترکیب در آئی کہ وہ چرواہے کے گھر کے سامنے بکریوں کی آزادی کے لیے مظاہرہ و احتجاج کریں گے،چنانچہ وہ دیر تک بکریوں کے باڑے کے ارد گرد احتجاجی مظاہرہ کرتے رہے، بکریوں نے جب یہ دیکھا کہ بھیڑیے انکی آزادی کے لیے مظاہرہ کر رہے ہیں تو وہ ان سے بہت متأثر ہوئیں، انکی آنکھوں میں آزادی کی چمک در آئی اور وہ یکسر بھلا بیٹھیں کہ یہ مظاہرے محض دکھاوا ہیں وہ انکی دسیسہ کاریوں کو سمجھ نہ سکیں ان کے ذہن میں تو آزاد ہونے کی دھن سوار تھی آزادی کے کیڑے نے انھیں بڑی زور سے کاٹا تھا وہ اس بات سے بلکل بے بہرہ تھیں کہ وہ اسی وقت تک محفوظ ہیں جب تک اس چار دیواری میں مقید ہیں یہ قید ہی در حقیقت انکی محافظ تھی، خیر، ان بکریوں نے باڑے کی دیواروں پر اپنی مضبوط سینگوں کی ٹکریں مارنا شروع کر دیں اور دروازوں کو پیٹنے لگیں یہاں تک کہ وہ دروازہ ٹوٹ کر دور جا پڑا جو بیچارہ ان کے حفاظتی قلعے کا نگہبان تھا، پھر کیا یہ جا وہ جا لگیں صحراء کی جانب سر پٹ دوڑنے بھیڑیوں نے بازی مار لی تھی بھیڑیے خوشی کی مضرابیں اور مسرت کے شادیانے لگے بجانے ناچتے گاتے ہو لیے اپنے شکار کے پیچھے بلآخر انھیں ایک کشادہ وادی میں جا کے محصور کر لیا چرواہا چیختا رہا چلاتا رہا لیکن بے سود کوئی فائدہ نا ہوا اس کی چیخ و پکار کا، وہ رات بکریوں کے لیے بڑی بھیانک اور تاریک ترین رات تھی اور بھیڑیوں کے لیے تو دعوت کی رات تھی، اگلے دن جب چرواہا بکریوں کی خبر گیری کو صحراء کی طرف گیا تو اس نے پھٹی ہوئی لاشوں اور خون آلود ہڈیوں کے سوا کچھ نا پایا بکریاں اپنے انجام کو پہنچ چکی تھیں انھوں نے وہ کاٹ لیا تھا جو بویا تھا
یہ مغربی اور دیسی لبرل بھیڑیے جب آپ کو اپنے گھروں کی چار دیواری میں اور نقاب و ججاب کی مضبوط و محفوظ فصیلوں کی پناہ میں دیکھتے ہیں اور آپ تک رسائی حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا تو پھر یہ بلکل انہیں بھیڑیوں کی طرز پر آپ کی آزادی کے لیے جھوٹے مظاہرے کرتے ہیں نعرے لگاتے ہیں آپ کے حقوق کی بات کرتے ہیں یہ بھیڑیے دراصل آپ کی آزادی کے خواہاں نہیں ہیں بلکہ یہ آپ تک رسائی حاصل کرنے کی آزادی چاہتے ہیں یہ چاردیواریاں جو آپ کو قید لگتی ہیں دراصل یہ یہی آپ کی محافظ ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here