Yeh Munh or Masoor ki daal یہ منہ اور مونگ مسور کی دال

0
325

Yeh Munh or Masoor ki daal یہ منہ اور مونگ مسور کی دال

یہ منہ اور مونگ مسور کی دال

آجکل گھروں میں اکثر چکن بنایا جاتا ہے بچے اور نوجوان دال سبزی کے نام پر ناک بھوں چڑھاتے نظر آتے ہیں۔ کچھ خواتین بھی کاہل اور تن آسان ہو گئ ہیں کہ ڈبے کے مصالحوں اور فارمی چکن سے آدھے پونے گھنٹے میں مختلف ذائقوں کے سالن تیار ہو جاتے ہیں تو بھلا کیا ضرورت گھنٹوں مختلف اقسام کے روایتی کھانے ان کے اصلی مصالحوں اور اجزا کے ساتھ تیار کرنے کی! مجھے سخت حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیسی بد نصیب جنریشن ہے جو دال جیسی لذیذ اور مفید غذا سے محروم ہے۔ دال کو اگر درست طریقے سے بنایا جائے اور اس کے ساتھ ضروری لوازمات بھی پیش کئے جائیں تو دال بھی قورمے اور متنجن سے کسی طرح کم نہیں لگتی۔ کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں مٹی کے ہانڈی میں پکی کھٹی دال جس پر رائی زیرہ سرخ مرچ کا تڑکہ دیا جاتا تو محلہ محلہ بگھار کی خوشبو پھیل جاتی ۔
دالیں کئی اقسام کی ہوتی ہیں جیسے کہ مونگ، مسور، ماش، کالی مسور جس کو انڈیا میں راجما بھی کہا جاتا ہے، ارہر، چنا، وغیرہ۔ ماش یعنی اڑد کی دال خشک اور پھریری بنائ جاتی ہے۔ دال ماش پر 
پیاز کے بگھار کے ساتھ سبز مرچ ، ادرک کی ہوائیاں اور پودینہ ہرا دھنیا بھی کاٹ کر گارنش کیا جاتا ہے۔ پھریری یعنی بکھری بکھری خشک ماش کی دال بنانا بھی سگھڑ خواتین کا ہی کام ہے ورنہ اکثر اس میں پانی کی مقدار کا اندازہ نہیں کر پاتیں اور لیسدار لئ گوند جیسی دال بن جاتی ہے۔ یوپی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی گھرانے عموما” شامی کبابوں کے ساتھ ماش کی دال بھی بناتے ہیں ۔ باہر ہوٹلوں وغیرہ پر عام طور پر چنے کی دال ملتی ہے۔ لیکن چنے کی دال ہر ایک کو موافق نہیں ہوتی اور اکثر ہاضمے کے مسائل پیدا کردیتی ہے۔ مسور کی دال مزاج میں سرد خشک اور سوداوی ہوتی ہے جو خون کو گاڑھا کرتی ہے۔ مسور کی دال کے مضر اثرات کو خوب سارے لہسن اور دیسی گھی کے تڑکے سے کم کیا جاسکتا ہے۔ اکثر گھرانوں میں پنچ میل دال بھی تیار کی جاتی ے جس میں پانچ دالوں کو برابر برابر مقدار میں لے کر پکایا جاتا ہے۔ ان میں مونگ، مسور، ماش، چنا اور ارہر کی دال شامل ہوتی ہے۔ مونگ کی دال کو ماہرین مفید ترین بتاتے ہیں کہ یہ گرم تر ہوتی ہے۔ زود ہضم اور مقوی۔ اکثر کھچڑی بھی مونگ کی چھلکوں والی ہری دال یا دھلی دال سے بنائ جاتی ہے۔ کھچڑی بناتے وقت دال ہمیشہ دو حصہ اور چاول ایک حصہ ہونے چاہئیں۔ کمزور مریضوں کے لئے مونگ کی دال کی کھچڑی میں کم نمک اور کالی مرچ میں بنا بکرے کے گوشت کا شوربہ یا مرغی کا شوربہ ڈال کر کھلانا مقوی اور مفید ہوتا ہے۔ یوپی سے تعلق رکھنے والے اکثر گھرانوں میں سردیوں میں ماش کی چھلکوں والی دال کی کھچڑی جس پر خوب ساری پیاز اور دیسی گھی کا بگھار ہو لہسن ہرے دھنئے کی چٹنی اور شلجم کے اچار کے ساتھ کھائ جاتی ہے۔ 
اگر دال کا صحیح لطف اور بھرپور فائدہ اٹھانا ہے تو پھر مونگ اورمسور کی دال ملا کر بنائیے۔ دونوں دالیں برابر مقدار میں آدھی آدھی لے کر ان میں ھلدی، لال مرچ، لہسن، کتری ہوئ پیاز، اور نمک کے ساتھ پانی ڈال کر چڑھا دیجئے اور درمیانی آنچ پر پکنے دیجئے۔ پانی اتنا رکھئے کہ دال خوب اچھی طرح گلنے کے بعد بھی پتلی رہے۔ گاڑھی دال زرا بھی مزیدار نہیں لگتی۔ کچھ لوگ یہ مصالحے پہلے بھونتے ہیں اور پھر اس میں دال پانی ڈال کر پکاتے ہیں۔ اب یہ آپکی پسند اور ذائقے پر منحصر ہے۔ جب دال خوب اچھی طرح گل جائے تو اس کو ھلکا سا گھوٹ لیجئے۔ 
اب دال کے تڑکے یا بگھار کی باری آتی ہے۔ اس کے لئے فرائنگ پین میں تیل کے ساتھ رائ ، سفید زیرہ، پیاز کے لچھے، دو چار ثابت لال مرچ، لہسن اور کچھ لوگ چند کڑھی پتے بھی ڈالتے ہیں۔ جب یہ سب اشیا تیل میں کڑکڑا جائیں اور پیاز گلابی ہوجائے تو یہ دال کے اوپر الٹ کر فورا” پتیلی کا منہ ڈھک دینا چاہئے، اور تین چار منٹ تک نہیں کھولنا چاہئے تاکہ بگھار کی مہک اور ذائقہ دال میں اچھی طرح رچ بس جائے۔ کچھ لوگ بگھار کے ساتھ چار پانچ باریک گول ٹماٹر کے قتلے بھی ڈال دیتے ہیں جو الگ مزہ دیتے ہیں۔ عام طور پر ڈھابوں اور ھائ وے ریسٹورنٹس میں دال دیتے وقت اس پر لازمی بگھار کے ساتھ ٹماٹر کے قتلے بھی ڈالے جاتے ہیں ۔ ان تلے ہوئے ٹماٹروں سے دال مزید مزیدار ہوجاتی ہے۔ 
گرما گرم تازی روٹی پر دیسی گھی لگا کر ہرے دھنیے کی چٹنی کے ساتھ بھی دال انتہائ مزیدار لگتی ہے۔ راجما یا کالی مسور کی دال جس میں کچی کیری یا املی ڈال کر خوب گھوٹا گیا ہو۔ اس کے ساتھ پودینے کی چٹنی اور ابلے چاول اور اچار گرمیوں کی دوپہر کے لئے بہترین اور ہلکا لنچ ہے۔اس کے ساتھ اگر سرکے میں کتری ہوئ پیاز اور ہری مرچ ہو تو کیا کہنے۔

ہماری پسند کی دال وہ ہے کہ جب دال بگھارنے کے بعد فرائنگ پین میں زرا سا کچھ بگھار اور تیل باقی رہ جاتا ہے تو فورا” ہی بگھاری دال کی پتیلی سے دو تین ڈوئ دال نکال کر واپس گرما گرم فرائ پین میں ڈالی جاتی ہے تو چھن کی آواز کے ساتھ فرائ پین میں دال کے اندر ایک زبردست قسم کا ابال آتا ہے۔ بس یہ چھن والی فرائ پین کی دال ہماری پسندیدہ ترین ہے۔ اب آپ ایک ڈونگے یا گہری پلیٹ میں تازہ کرما گرم پھلکے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے ڈالئے اور اس کے اوپر فرائ پین والی دال انڈیل دیجئے۔ تین چار منٹ رہنے دیجئے تاکہ دال روٹی کے ٹکڑوں میں رچ بس جائے۔ اگر دال کم لگے تو اور ڈال لیجئے۔ اب اس دال میں بھیگے پھلکے کے ساتھ ٹماٹر پیاز کھیرے اور پودینے کا کچومر سلاد، زرا سا آم لہسوڑے کا اچار یا پھر مصالحہ بھر کر تلی ہوئ خستہ کراری ہری مرچ دال روٹی کے ساتھ چمچے کی مدد سے کھائیے اور بتائیے کہ کون کافر دال کو نا پسند کرسکتا ہے۔ چاولوں کے شوقین دال اور ان لوازمات کو ابلے ہوئے سفید چاولوں یا زیرہ پیاز والے بگھارے چاولوں کے ساتھ تناول فرمائیں۔
آیا سب کے منہ میں پانی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here