اے پتر مینوں کیڑھے عیسی کول لے کے چلا ایں

0
164

 اے پتر مینوں کیڑھے عیسی کول لے کے چلا ایں

غربت کا مارا عیسی دبئ کمانے پہنچا تو قسمت مہربان رہی۔ الٹے سیدھے دو چار جیک پاٹ لگے تو پیسوں میں کھیلنے لگا۔ ترقی کرتے کرتے بڑا بزنس مین بنا اوردفتر آسمان کو چھوتی عمارت میں بنا لیا۔ بوڑھے باپ کی یاد آئ تو اسے وزٹ ویزا بھیج کر بلوا لیا۔ ڈرائیور کو نشانی بتا کر ائیرپورٹ سے لینے بھیجا۔ باودی ڈرائیور باپ کو چمچماتی لمبی کار میں ائیرپورٹ سے لایا۔ دفتر والی بلڈنگ میں لگی شیشے والی لفٹ میں سوار کراکے اوپرلیجانے لگا۔ پہلی بارلفٹ میں سوار بوڑھا خوفزدہ ہوکر باہر کے مناظر دیکھ رہا تھا۔ ساتھ والی عمارتیں نیچے رہ گئیں۔ بادل بھی نیچے رہ گئے تو خوف سے نکلتی جان کے ساتھ ڈرتے ڈرتے ڈرائیور سے پوچھا ” اے پتر مینوں کیڑھے        عیسی کول لے کے چلا ایں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here