بحث سے بہتر ہے غور کریں  – PARDA SAB KE LIYE

0
397

سلام عليكم ورحمة الله

بحث سے بہتر ہے غور کریں ورنہ اگنور کریں 

بھائی!! وہ لڑکی تو دیکھ.. کیا لگ رہی ہے.. کیوں بھائی میں کیوں دیکھوں؟ کیا وہ دیکھنے کی چیز ہے جسے دیکھا جائے؟؟ یار دیکھ تو سہی بڑی بن ٹھن کے تیاری کے ساتھ نکلی ہے نمائش کرنے کا ہی انداز ہے، دیکھ تو سہی یار.. سوری بھائی میں پردہ کرتا ہوں.. ہیں…!! کیا کہا تو نے پردہ؟؟ دماغ تو ٹھیک ہے تیرا , پردہ تو لڑکیاں کرتی ہیں.. میرے بھائی مجھے پتا ہے کہ لڑکیوں کے لیے پردے کا حکم ہے پر بھائی لڑکوں کے لیے بھی پردے کا حکم ہے.. جہاں عورت کے لیے پردے کا حکم ہے وہاں مرد کے لیے بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم ہے اور یہ پردے کا حکم لڑکوں کو پہلے اور لڑکیوں کو بعد میں دیا گیا ہے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ ہمیں لڑکیوں کے پردے کا پتا ہے پر اپنے پردے کا پتا ہی نہیں.. مرد کا پردہ کیا ہوتا ہے؟؟ بھائی اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور آیت 30 میں کہا ہے : مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں.. پھر آیت 31 میں عورت کو پردہ کا حکم ہے.. میرے بھائی ہمیں 31 نمبر آیت کا تو پتا ہوتا ہے لیکن ہمیں 30 آیت کا سرے سے پتا ہی نہیں ہوتا

 آیت نمبر 2:

’’قل للمؤ منین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذلک ازکیٰ لھم ط ان اللّٰہ خبیر م بما یصنعون ۔ وقل للمؤمنٰت یغضضن من ابصارھن ویحفظن فروجھن ولا یبدین زینتھن الا ما ظھر منھا ولیضربن بخمر ھن علیٰ جیوبھن ولا یبدین زینتھن الا لبعولتھن او اٰبائھن او اٰبائبعولتھن او ابنآئھن او ابنآء بولتھن او اخوٰانھن او بنی اخوانھن او بنی اخوٰا تھن او نسآء ھن او ما ملکت ایمانھن او لتٰبعین غیر اولی الاربۃمن الرجال او الطفل الذین لم یظھر واعلیٰ عورت النسا ٓء ولا یضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن ط وتوبواالی اللّٰہ جمیعاًایہ المؤمنون لعلکم تفلحون۔‘‘

’’اے نبی مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ،یہ ان کیلئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ، جو کچھ وہ کرتے ہیں اﷲ اس سے با خبر رہتا ہے ۔ او راے نبی ﷺ مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں ، اور اپنی شرمگاہو ں کی حفاظت کریں او ر اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھا ئیں ۔ بجز اس کے جو خود ظاہر ہو جا ئے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رکھیں اور اپنا بناؤ سنگھا ر ظاہر نہ کریں مگر ان لوگوں کے سامنے شوہر ، باپ ، شوہروں کے باپ ، اپنے بیٹے ، شوہروں کے بیٹے ، بھائی اور بھائیوں کے بیٹے اور بہنوں کے بیٹے ، اپنے میل جول کی عورتیں ، اپنے مملوک (غلام )وہ زبر دست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں اور وہ بچے جو عورتوں کی پو شیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں ،وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہو ئی نہ چلا کر یں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپارکھی ہو اس کا لوگوں کو علم نہ ہو جائے اور اے مومنو! سب مل کر اﷲ سے توبہ کرو توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے ۔

عورت اگر پردہ نہیں کر رہی تو وہ اپنے اوپر سراسر ظلم کر رہی ہے، نامہ اعمال تو سیاہ ہو رہا ہے پر کوئی اوباش اس کی عزت پر ہاتھ بھی اٹھا سکتا ہے.. اس کی بے پردگی آخرت میں رسوائی کا سامان تو ہے پر دنیا میں بھی رسوا ہو سکتی ہے.. لہذاٰ..!! اس کا عمل اس کے ساتھ ہے تمہارے سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ فلاں پردہ کرتی تھی یا نہیں بلکہ *سوال یہ ہو گا کہ کیا تم نے اپنی نظر جھکائی تھی؟؟ کیا تم نے اپنا اپنا پردہ کیا تھا..؟؟ ہم عورتوں کے بے پردگی پر بڑھ چڑھ کر تنقید کرتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ حکم تو ہمارے لیے بھی ہے کہ نامحرم عورت کو دیکھ کر نگاہیں جھکا لیا کرو.. بے پردہ عورت کو دیکھنے کی اجازت آپ کو کس نے دی؟؟ *اگر عورت نے بے پردہ ہوکر اللہ کا حکم توڑا تو آپ نے بھی اس عورت کو دیکھ کر اللہ کا حکم توڑا.. یاد رکھیں کسی نامحرم عورت کو پردہ کروانا ہم پر فرض نہیں ہے لیکن اپنی نگاہیں نیچی رکھنا اور نامحرم کو نہ دیکھنا فرض ہے.. مرد سارا الزام عورت پر لگا کر خود کو بری الزمہ سمجھتا ہے.. افسوس کہ ہماری ساری نصیحتیں صرف دوسروں کے لیے ہی ہوتی ہی ہیں بات کا مقصد کسی کو سہی غلط ثابت کرنا نہیں نا ہی تنقید ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here