Zindagi Khatam ho jae ge par zindagi ka kaam aur zimedarian kabhee khatam nahee ho hoon ge

0
437

زندگی ختم ہو جاۓ گی پر زندگی کا کام اور زمہ داریاں کبھی ختم نہیں ہونگی

ایک فقیر دریا کنارے بیٹھا تھا۔ کی نے پوچھا بابا کیا کر رہۓ ہو؟ فقیر نے کہا انتظار کر رہا ہوں کے مکمل دریا بہ جاۓ تو پھر پار کروں۔ اس آدمی نے کہا کیسی بات کرتے ہو بابا۔ مکمل پانی کے انتظار میں تو تم کبھی دریا پار نہیں کر پاؤگے۔

فقیر نے کہا یہی تومیں تم لوگوں کو سمجھانا چاہتا ہؤں کے تم لوگ جو ہمیشہ کہتے رہتے ہو کے ایک بار گھر کی ذمہ داریاں پوری ہوجاۓ تو پھر نماز پڑھونگا، داڑھی رکھوں گا، حج کروں گا، خدمت کروں گا۔۔۔۔۔ جیسے دریا کا پانی ختم نہیں ہوگا ہمیں اس پانی سے ہی پار جانے کا راستہ بنانا ہے۔

اسطرح زندگی ختم ہو جاۓ گی پر زندگی کا کام اور زمہ داریاں کبھی ختم نہیں ہونگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here