بوڑھا برگد – Old banyan

0
467

بوڑھا برگد

 تحریر : محمد ضیاء اللہ زاہدؔ شجاع آبادی

گاٶں کے مشرقی کنارے پر واقع عید گاہ میں بوڑھے برگد کا درخت گاٶں کی آبادی کی پچھلی تین نسلوں سے خدمت سر انجام دے رہا ہے ۔ اس دوران اس بوڑھے برگد کے اپنے بھی تین ادوار گزر چکے ہیں۔ بابا جی بتاتے ہیں کہ جہاں آج یہ بوڑھا برگد کھڑا ہے وہاں ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا ایک کنواں ہوتا تھا جو پورے گاٶں کے واسیوں کی پیاس بجھاتا تھا۔ پھر یہ ہوا کہ زمانے کی دست برد نے اس کنویں کو خشک کردیا اور اس کے کنارے یہ برگد پلا اور بڑھ کر جوان ہوا اور آج بڑھاپے کو پہنچ چکا ہے۔ صبح دم جب انسان سوئے ہوتے ہیں ، اس برگد پر موجود کووں کی کائیں کائیں سے صبح کے آثار کا پتا چلتا ہے۔ طلوعِ آفتاب سے قبل جب سبھی پرندے اس برگد پر اپنی اپنی آواز میں خالقِ کائنات تسبیح کے گن گاتے ہیں تو دل کو بہت سکون ملتا ہے۔ اب بھی صبح دم جب کوا ، مینا ، چڑیا ، کوئل ، بلبل اور فاختہ اپنی اپنی بولیوں میں صبح ہونے کی خوشی میں مستانے ہوکر راگ چھیڑتے ہیں تو ایک سماں بندھ جاتا ہے۔

رات کی تاریکی گئے دنوں کا نوحہ بیان کرتی ہے جب اس برگد پر بیسیوں جگنو ایک ڈال سے دوسری کی طرف اڑتے تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ شاید کوئی شادی ہے جہاں بتیوں سے گھر کو سجایا گیا ہے۔ بچپن میں ہمارا موسمِ گرما عموماً اس برگد کے سائے میں کھیلتے کودتے گزرتا تھا۔ یہاں ہم باندر کلا، کانگا ، لڈو اور پیٹو گرم جیسے دیسی کھیل زیادہ اور کبھی کبھار کرکٹ بھی کھیل لیا کرتے تھے۔ موسمِ گرما کی تعطیلات میں بھی ہمارا یہیں پر پڑھائی کے بہانے کھیل کود میں وقت گزرتا تھا۔ دوپہر کو واپڈا کے ظلم کے ستائے بچے، بوڑھوں کا یہاں جمگھٹا ہوتا تھا۔ وہ کیا خوب دن تھے جب یہاں رونقیں ہی رونقیں ہوتی تھیں ۔ زمانے کے انقلاب نے اس برگد کے سائے میں بچپن گزارنے والوں کو شہروں کی تنگ فضاٶں میں دھکیل دیا۔ اب اس برگد کے اپنے بھی پرائے ہوگئے ۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اب اس پر یاسیت کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔ کوئی بھی تو نہیں جو دوپہر کو اس برگد پر کچھ دیر کےلیے بیٹھنے والے ان پرندوں کے نغمے سنے جو راہ بھٹک کر کچھ دیر سستانے کو یہاں بیٹھ جاتے ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں سے اس برگد کے پتے، ڈالیاں اور غنچے ادھ موئے سے لگنے لگے ہیں ۔ یہاں دن میں بھی اب ویرانی کا بسیرا ہوتا ہے ، گاٶں کے بچے اب اس طرف کا رخ کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔ یہ برگد ہردم شکوه کناں رہتا ہے کہ جس گاٶں کی آبادی کی تین نسلیں اس کے سائے میں کھیلیں ، چوتھی نسل آخر اس سے اس قدر بیگانہ کیوں ہوئی ۔ اب اس بیچارے بوڑھے برگد کو کون بتائے کہ اب گاٶں کے بچوں کے کھیلنے کےلیے موبائل ، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ جیسی چیزیں دستیاب ہیں۔ اب زمانے کے جینے کے طور طریقے بدل گئے ہیں۔ اب وہ پہلے جیسے کھیل اور پہلے جیسا ماحول نہیں رہا۔ انسان ترقی کرگیا ہے اور زندگی بہت مصروف ہوگئی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here