Ujre Hue Logon Se اجڑے ہوئے لوگوں سے

1
977

اجڑے ہوئے لوگوں سے

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں کے کتبے بھی پڑھا کر

کیا جانیے کیوں تیز ہَوا سوچ میں گم ہے؟
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر

اُس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گے
وہ جھوٹ نہ بولے گا مرےسامنے آ کر

اب دستکیں دے گا تو کہاں اے غم احباب!
میں نے کہا تھا کہ مرے دل میں رہا کر

وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے
ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر

اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے؟
تو حلقہء یاراں میں بھی محتاط رہا کر

میں مر بھی چکا ، مل بھی چکا موجِ ہوا میں
اب ریت کے سینے پہ مرا نام لکھا کر

پہلا سا کہاں ہے اب مری رفتار کا عالم
اے گردش دوراں ذرا تھم تھم کے چلا کر

اس رُت میں کہاں پھول کھلیں گے دلِ ناداں؟
زخموں کو ہی وابستئہ زنجیرِ صبا کر

اک روح کی فریاد نے چونکا دیا مجھ کو
تو اب تو مجھے جسم کے زنداں سے رہا کر

ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کردے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر

اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسن
دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here