امت کی بیٹیاں – UMMAT KE BAITIAN

0
336

امت کی بیٹیاں

میری امت کی روزے دار بہنو ! ڈھائی بجے رات کو اٹھ کر سب کی من پسند سحری بنانا ، کوئی آواز لگاتا ہے کہ “ہاف فرائی انڈا میرے لیے” کوئی کہتا ہے “بوائل انڈا کھاؤں گا” کوئی پراٹھا مانگتا ہے ، کوئی سادی روٹی ، کسی کو کھجلہ پھینی چاہئیے ، کسی کو لسّی ، کوئی اوملیٹ کھاتا ہے اس ایک آدھ گھنٹے میں یہ امت کی مائیں بہنیں سب کچھ حاضر کر دیتی ہیں اور آخر میں کچن میں کھڑے کھڑے سحری کرتی ہے ، آخر وقتوں میں بھاگ بھاگ کر پانی بھی پلاتی ہے ، پھر قرآن کی تلاوت بھی کرنی ہوتی ہے نوافل بھی پڑھنے ہوتے ہیں ۔ تھوڑی سی نیند لے کر گھر کے اور امور بھی دیکھنے ہوتے ہیں ، پانچ بجے سے پھر افطار کی تیاری کرنی ہوتی ہے ، کچن میں ٹمپریچر اگر نوٹ کریں تو پینتالیس سے اوپر ہی ہوتا ہوگا ۔ دن بھر بچوں پر ٹھنڈا پانی بھی ڈال رہی ہوتی ہے ، کہیں بجٹ کی کمی کے باوجود عید کی تیاری کی پلاننگ بھی کرنی ہوتی ہوگی ، اور اس بجٹ میں رہ کر خوش اسلوبی سے یہ کام بھی انجام دیتی ہے ، اس کو یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ گھر کے مردوں کا روزے کی وجہ سے دماغ ساتویں آسمان پر ہوتا ہے ، غصہ ناک پر ہوتا ہے ، کہیں ساس کے بڑھاپے سسر کی ضعیفی میں سخت باتوں کو بھی مسکرا کر برداشت کرتی ہے ۔ اصل روزہ تو تمہارا ہوتا ہے میری امت کی بہنو ! بیٹیو ! ماؤں تمہارا روزہ ہوتا ہے ۔ بھائیو ! بس تھوڑا سا ساتھ دے دو مسکرا کر شکریہ کہہ دیا کرو ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here