Itlay main Honay wala aik tareekhi Haadsa

0
239

Itlay main Honay wala aik tareekhi Haadsa

ایک رات میں ہزاروں انسان پتھر بن گئے

آج سے تقریبا دو ہزار سال پہلے ایک خوفناک آسمانی آفت کا شکار ھو کر یوں تباہ برباد ہوا کہ گویا یہ شہر اس زمین پر کبھی موجود ہی نہیں تھا
یہ واقع ہے اٹلی کے شہر پومپی کا. جو ایک آتش فشاں پہاڑ سے چند میل کے فاصلے پر واقع تھا. اور اس کی آبادی تقریبا بیس ہزار افراد پر مشتمل تھی. تاریخی روایات اور وہاں سے ملنے والے کھنڈرات کے مطابق یہ اپنے زمانے کا جدید اور تھذیب یافتہ شہر تھا. جو کہ نا صرف بہترین نقشوں کے حامل پختہ اینٹوں اور پتھروں سے بنے مکانات پر مشتمل تھا بلکہ نکاسی آب اور دیگر ناگزیر ضروریات زندگی کو مد نظر رکھتے ہوۓ تعمیر کیا گیا تھا.یہاں کے مکینوں کو جس طرح قدرت نے انتہائی فیاضی سے اپنی نعمتوں سے نواز رکھا تھا . لیکن اس کے برعکس یہ لوگ اخلاقی پستی کا شکار ھو کر انسانی اقدار سے دور ھو چکے تھے. جوا ، زنا اور شراب جیسی لعنتیں عام تھیں

اور پھر قانون فطرت جوش میں آیا . یہ اناسی صدی عیسوی کا ایک خوفناک ترین دن تھا. جن پومپی کے پڑوس میں واقع آتش فشاں نے ایک گھمبیر اور آتش گیر مادے کی صورت میں اعلان موت کر دیا. اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے جیتے جاگتے انسانوں کی یہ بستی موت کا رزق بن کر رہ گئی
تقریبا ساڑھے سولہ سو سال تک پومپی کا یہ قبرستان انسانی آنکھوں سے اوجھل رہا. اور پھر سترہ سو اڑتالیس میں آثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے یہ انکشاف کرتے ھوے دنیا کو حیران کر دیا کہ قدیم رومن سٹی کے کھنڈرات اس حال میں موجود ہیں کہ راکھ اور مٹی کے پہاڑ تلے دبے ہوۓ اس شہر کی بیشتر عمارات نہ صرف قائم و دائم ہیں بلکہ اپنی عظمت رفتہ کی داستان بہ زبان حال سنا رہی ہیں. وہ ٹیم یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ ملبے ، راکھ اور اور پتھر کی انتہائی موتی سطح کے نیچے ان مذکورہ عمارات اور شہر کی وسیع گلیوں میں اس حادثے کا شکار ہونے والے انسانوں کے لاشے اوندھے منہ پڑے ہوۓ دکھائی دیئے. اور ان کے سامنے خشک روتی کے ٹکڑے اور دیگر سامان خردونوش بھی موجود تھا. جن کے اوپر راکھ کی ایک موتی تہ چڑھ چکی تھی

تحقیقی مراحل کو عبور کرنے کے بعد یہ راز ظاہر ہویئے کہ پومپی کا یہ شہر آٹھ سو قبل مسیح میں آباد کیا گیا تھا.جس میں شاندار اور خوبصورت بنگلے پختہ گلیوں کے اطراف میں قطار در قطار کھڑے تھے. اس کے علاوہ وہاں سے ایک ایسا اسٹیڈیم بھی برآمد ہوا جو کہ نہ صرف جدید طرز تعمیر کا حامل تھا بلکہ اس میں بیس ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش موجود تھی. محققین کے نزدیک پومپی کی آبادی کا تخمینہ بھی قریب قریب اتنا ہی بنتا ہے. محققین کہتے ہیں کہ اس کے پڑوس میں واقع یہ آتش فشاں پہاڑ جو کہ لاکھوں سال پرانا ہے اس سے پہلے سترہ سو قبل مسیح میں بھی ایسی ہی تناہی کی وجہ بن چکا ہے

جس میں سے ابلنے والا لاوا بائیس میل بلندی تک آسمان میں دیکھا گیا تھا اور پندرہ میل تک پھیلے ہوۓ تمام گاؤں اور قصبات اس کی نذر ھو گئے. اور اس کے بعد یہ ایک بار پھر پومپی کے شہر پر غضبناک ہوا. جس کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے کی بدولت آگ ، پتھر، خاک ، اور آتش گیر ہواؤں کے علاوہ ابلنے والا لاوا اس قدر بلند تھا کہ اسے سینکڑوں میل کی دوری سے بھی دکھا جا سکتا تھا. محققین اسے صنوبر کے درخت سے تشبیہ دیتے ہوۓ کہتے ہیں کہ بلندی پر جا کر اس آتش گیر مادے کی لہریں جب مختلف شاخوں کی صورت اختیار کرتے ہوۓ زمین پر آئیں تو اس پر بسنے والی ہر چیز کو بھسم کر دیا

ایک معروف محقق اور مصنف pliny کہتا ہے کہ میں نے خود وہاں جا کر اس جگہ کا معاینہ کیا اور وجان کی تباہ کاریوں کو دیکھتے ھوے یہ محسوس کیا کہ شاید یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہے. جس نے پوری بستی کو دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں ٹن ملبہ کے نیچے دفن کر دیا اس کے نزدیک حادثے کے وقت شاید دو ہزار افراد وہاں موجود تھے. جن میں سے ایک بھی زندہ نہ بچ سکا. اور اس کے آس پاس کے قصبات بھی اپنے پیچھے کھنڈرات چھوڑتے ھوے انسانی زندگی سے بیگانہ ھو گئے.
خواتین و حضرات پومپی کے اس تباہ حال شہر کی باقیات میں کھنڈرات نما اجڑے مکانات اور انسانی ڈھانچے آج بھی درس عبرت دیتے ہوۓ ملتے ہیں

اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شئیر کریں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here