اسلام زمانۂ جاہلیت کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے

0
292

اسلام زمانۂ جاہلیت کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے

حضرت وضین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ہم جاہلیت میں مبتلا لوگوں اور بتوں کے پجاری تھے۔ ہم اپنی اولاد کو قتل کردیا کرتے تھے۔ میری ایک بیٹی تھی جب وہ کچھ بڑی ہوئی تو جب بھی میں اسے بلاتا تو وہ میرے بلانے پر خوش ہوتی تھی۔ ایک دن میں نے اسے بلایا وہ میرے پیچھے آئی میں چلتا ہوا اپنے گھر کے کنویں کے پاس آگیا جو زیادہ دور نہیں تھا۔ میں نے اس بچی کا ہاتھ پکڑا اور اسے کنویں میں پھینک دیا اس نے مجھ سے آخری بات یہ کہی اے ابا جان اے ابا جان (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رونے لگے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دونوں آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری ہوگئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے حضرات میں سے ایک صاحب نے اس شخص سے کہا تم نے اللہ کے رسول کو غمگین کردیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان صاحب سے کہا رہنے دیں۔ اس نے وہ بات دریافت کی ہے جسے اہم سمجھا ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے کہا اپنی بات میرے سامنے دوبارہ بیان کرو۔ اس شخص نے دوبارہ بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رونے لگے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دونوں آنکھوں سے آنسوجاری ہو کر آپ کی داڑھی مبارک پر گرنے لگے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا:

لوگوں نے زمانہ جاہلیت میں جو کام کئے تھے اللہ نے انہیں درگزر کردیا ہے۔ اب تم نئے سرے سے عمل کا آغاز کرو۔

سنن دارمی، حدیث نمبر: ۲

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here