شقِ صدر کا واقعہ

0
464

شقِ صدر کا واقعہ

حلیمہ سعدیہ رسول اللہ ﷺ کی واپسی پر بہت خوش تھیں، اور یوں بادیۂ بنی سعد میں مزید تین سال یعنی کل پانچ سال گذر گئے، لیکن ایک روز نہایت عجیب واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے حلیمہ انتہائی خوفزدہ اور پریشان ہوگئیں۔ ہوا یہ کہ یہ بچہ ایک روز جب گاؤں کے دوسرے ہم عمر بچوں کے ہمراہ کھیل کود میں مشغول تھا کہ اچانک وہاں کوئی اجنبی نمودار ہوا، اور اس نے بچے کو زمین پر لٹا کر اس کا سینہ چاک کردیا، دوسرے بچوں نے جب یہ منظر دیکھا تو فوراً دوڑتے ہوئے حلیمہ کے گھر پہنچے اور بتایا کہ کسی نے محمد (ﷺ) کو قتل کردیا ہے۔ حلیمہ انتہائی پریشانی کے عالم میں وہاں پہنچیں تو دیکھا کہ گھبراہٹ کی وجہ سے آپ ﷺ کے چہرے کا رنگ قدرے بدلا ہوا ہے۔

درحقیقت وہ اجنبی شخص جبریل امین علیہ السلام تھے جو اللہ کے حکم سے وہاں آئے تھے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا سینہ چاک کر کے قلبِ مبارک باہر نکالا، اور اس میں سے سیاہ نقطے کی مانند جمے ہوئے خون کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکال کر یہ کہتے ہوئے پھینک دیاکہ ’’یہ شیطان کاحصہ ہے‘‘ (یعنی اس حصے کو دل سے نکال کرپھینک دیا تا کہ شیطان کبھی آپ ﷺ پر غالب نہ آسکے) پھر آپ ﷺ کے دل کو سونے کی طشتری میں رکھ کر آبِ زمزم سے دھویا، اس میں ایمان و حکمت کا جوہر بھرا، اور پھر اسے اسی طرح جوڑ کر سینے میں اس کے مقام پر رکھ دیا۔ (۱) دراصل یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے اپنے حبیب ﷺ کیلئے ایک قسم کا روحانی آپریشن اور سامانِ عصمت تھا۔

اس حادثہ کی وجہ سے حلیمہ سعدیہ بہت زیادہ گھبراگئیں، اور آپ ﷺ کی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے چند روز بعد آپ ﷺ کو مکہ شہر میں آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ کے پاس چھوڑ آئیں۔

(۱) ملاحظہ ہو حدیث: انّ رسول اللّہ ﷺ أتاہ جبریل و ھو یلعب مع الغلمان، فصرعہ فشقّ عن قلبہٖ فاستخرجہ … (مسلم: ۲۴۰، کتاب الایمان)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here