زمین بھر سونا – Zameen Bhar Soona

0
369

زمین بھر سونا

مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمزمین بھر سونار رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو انہوں نے تکلیف کا اظہار کیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو جزع فزع کرنے پر گویا ملامت کرتے ہوئے کہا امیرالمومنین! اگر یہ بات ہوئی یعنی اگر آپ ﷺ کی صحبت میں رہے ہیں اور آپ ﷺ کی صحبت بہت اچھی رہی ہے، کہ ان کا حق صحبت اچھا ادا کیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ دنیا سے رخصت ہوئے تو حضور اکرم ﷺ آپ سے بہت خوش اور راضی تھے، پھر آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہے اور ان کے ساتھ بھی آپ کی صحبت بہت اچھی رہی کہ انکا حق صحبت بھی بہت اچھا ادا کیا، پھر جب وہ آپ سے جدا ہوئے تو آپ سے وہ بھی خوش اور راضی تھے پھر آپ اپنے ایام خلافت میں مسلمانوں یعنی ان کے صحابہ کی صحبت میں رہے اور ان کے ساتھ بھی آپ کی صحبت بہت خوب رہی، اب اگر آپ ان سے جدا ہوں گے تو وہ آپ سے راضی ہوں گے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا جو ذکر کیا اور آپ کے راضی اور خوش ہو کر رخصت ہونے کا تو یہ محض اللہ کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت اور خوشنودی کا تم نے جو ذکر کیا ہے وہ بھی محض اللہ تعالیٰ کا ایک احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے اور اب جو تم مجھ کو جزع فزع کرتے دیکھ رہے ہو وہ تمہارے اور تمہارے دوستوں کے سبب سے ہے (یعنی اس خوف سے کہ میرے بعد کہیں تم فتنہ میں مبتلا نہ ہوجاؤ) اللہ کی قسم اگر میرے پاس زمین بھر سونا ہوتا تو عذاب الٰہی کے بدلے میں اس کو قربان کردیتا اس سے پہلے کہ میں اس کو دیکھوں۔

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر۹۳۶

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here