سو آدمیوں کا قاتل جنت میں کیسے گیا؟

0
230

سو آدمیوں کا قاتل جنت میں کیسے گیا؟

محمد بن بشار محمد بن ابی عدی شعبہ قتادہ ابوصدیق ابو سعید نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل کے ایک شخص نے ننانوے آدمیوں کو قتل کردیا تھا پھر اس کی بابت مسئلہ دریافت کرنے کو نکلا پہلے ایک درویش کے پاس آیا اور اس سے دریافت کیا کہ کیا (میری) توبہ قبول ہے ؟ درویش نے کہا نہیں اس نے اس درویش کو بھی قتل کردیا اس کے بعد پھر وہ یہ مسئلہ پوچھنے کی جستجو میں لگا رہا۔ کسی نے کہا فلاں بستی میں ایک عالم ہے ان کے پاس جا کر پوچھ لو ( چناچہ وہ چل پڑا لیکن راستہ ہی میں) اس کو موت آگئی (مرتے وقت اس نے اپنا سینہ) اس بستی کی طرف بڑھا دیا (جہاں جا کر وہ مسئلہ دریافت کرنا چاہتا تھا) رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں اس کے بارے میں باہم تکرار ہوئی (رحمت کے فرشتے کہتے کہ اس کی روح کو ہم لے جائیں گے کیونکہ یہ توبہ کا پختہ ارادہ رکھتا تھا عذاب کے فرشتے کہتے کہ اس کی روح کو ہم لے جائیں گے کیونکہ یہ سخت گنہگار تھا اسی اثناء میں اللہ نے اس بستی کو (جہاں جا کر وہ توبہ کرنا چاہتا تھا) یہ حکم دیا کہ اے بستی (اس سے) نزدیک ہوجا اور اس بستی کو (جہاں اس نے گناہ کا ارتکاب کیا تھا) یہ حکم دیا کہ تو دور ہوجا اور (فرشتوں کو حکم دیا کہ) دونوں بستیوں کی مسافت ناپو (دیکھو یہ مردہ کس بستی کے قریب ہے چنانچہ) وہ مردہ اس بستی سے (جہاں وہ توبہ کرنے جا رہا تھا) بالشت بھر نزدیک تھی اللہ نے اسے بخش دیا۔

صحیح بخاری، جلد دوم، حدیث نمبر۷۲۸

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here