ایک نصیحت آموز واقعہ

0
534

ایک نصیحت آموز واقعہ

ایک زمانہ وہ تھا جس میں مخلص لوگ بڑے بڑے کارنامے نہایت خلوص سے انجام دیتے اور کسی کو محسوس تک نہ ہوتا ، حضرت شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے ’’عیون الأخبار‘‘ میں ایک عجیب و غریب نصیحت آموز واقعہ نقل فرمایا ہے کہ مسلم بن عبدالملک نے ایک مرتبہ کسی قلعہ کا محاصرہ کیا ، فتح کی کوئی شکل نظر نہ آئی، مسلم نے قلعہ کے ارد گرد نظر ڈالی تو ایک دیوار میں سوراخ نظر آیا، مسلم نے سپاہیوں سے کہا: کسی طرح اس سوراخ کے ذریعہ قلعہ میں داخل ہو جاؤ، مگر کسی نے پہل نہ کی، جب کچھ دیر تک کوئی اس کے لیے تیار نہ ہوا تو فوج میںسے ایک سپاہی آگے بڑھا اور کسی تدبیر سے سوراخ کے ذریعہ قلعہ میں داخل ہوگیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تھوڑی دیر میں قلعہ فتح ہوگیا، مسلم بن عبدالملک نے خوش ہو کر منادی کرائی کہ نقب (سوراخ کے ذریعہ قلعہ میں داخل ہونے )والا ہمارے پاس آئے، تاکہ اسے انعام و اکرام سے نوازا جائے، اعلان سن کر پہلے تو کوئی آگے نہ بڑھا، مگر جب مسلم نے قسم دے کر کہا تو ایک نقاب پوش آگے آیا اور کہا: نقب والے کی تین شرطیں ہیں، اگر وہ مان لی جائیں تو وہ اپنے آپ کو ظاہر کرے گا، ورنہ نہیں، کہا :وہ کون سی ہیں؟ تو آنے والے نے عرض کیا :

۔ صحیفے میں اس کا نام لکھ کر خلیفہ کے پاس نہ بھیجاجائے، تاکہ اس کی تشہیر نہ ہو۔

۔ اس کے لیے کوئی ایوارڈ وغیرہ کا التزام نہ کیا جائے، کہ وہ اپنا بدلہ آخرت میں رب العالمین سے لینا چاہتا ہے۔

۔ اس سے ہر گز یہ معلوم نہ کیا جائے کہ وہ کون ہے؟ اور کہاں سے تعلق رکھتا ہے؟ تاکہ سارا معاملہ رازمیں رہے اور اس کے خلوص میں کوئی فرق نہ آئے۔

مسلم نے کہا: اس کی تینوں شرطیں منظور ہیں، مگر نقب والے کو ہمارے پاس حاضر کیا جائے، آنے والا بولا :نقب والا آپ کے سامنے موجودہے، الحمدﷲ وہ اور کوئی نہیں، میں ہی ہوں، (ایسے ہی لوگ ’’ھٰذا عبدی حَقًّا‘‘کے مصداق ہیں) کہتے ہیںکہ مسلم بن عبدالملک اس مخلص کے خلوص سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس کے بعد ہمیشہ یہ دعا کیاکرتاکہ ’’یا اﷲ !مجھے نقب والے کے ساتھ رکھنا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here