عہدے کے لیے با صلاحیت شخص کا انتخاب

0
345

عہدے کے لیے با صلاحیت شخص کا انتخاب

خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ولایت اور منصب کے لیے قوی اور امین شخص کو پسند کرتے اور کمزور شخص کو چھوڑ دیتے۔ اگرچہ یہ کمزور شخص بعض دیگر خصوصیات اور امتیازات کا مالک ہوتا۔ جیسے اسلام میں سبقت، نیک ہونا اور عالم ہونا۔ اس لیے کہ انسان کا صالح ہونا صرف اسی کو فائدہ دیتا ہے، کسی دوسرے کو نہیں، اور بہرحال قوت تو پوری امت کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ لہٰذا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کسی انسان کے ذاتی طور پر نیک ہونے کو نہیں دیکھتے تھے بلکہ منصب کے لیے اس کی صلاحیت کو دیکھتے تھے۔ اس لیے فرماتے کہ مجھے ایسے شخص کو مقرر کرنا مشکل ہوگا کہ اس کے مقابلے میں دوسرا قوی شخص موجود ہو۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہاں قوی حاکم سے مراد جسمانی طور پر قوی ہونا نہیں بلکہ فضیلت، تواضع، علم، قوتِ دلیل، قوتِ بیداری اور رعایا پر شفقت اور مہربانی کے لحاظ سے قوی ہونا مراد ہے۔ امیر المومنین چاہتے تھے کہ ان کے حکام لوگوں کے ساتھ سلوک اور رویہ میں میری طرح ہوں۔ اس لیے ایک دن ساتھیوں سے فرمانے لگے کہ مجھے کوئی ایسا شخص دکھاؤ جس کو میں مسلمانوں پر ان کے ایک اہم کام میں امیر مقرر کروں۔ انہوں نے عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا بتلایا تو فرمایا، کمزور اور ضعیف ہے۔ انہوں نے ایک دوسرے شخص کے بارے میں بتایا، فرمایا مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ ساتھیوں نے کہا کہ آخر آپ کیسے آدمی کو پسند کرتے ہیں؟ کیسے آدمی کا ارادہ ہے آپ کا؟ فرمایا، ایسا آدمی ہو کہ جب وہ امیر ہو تو ایسا معلوم ہو کہ ہ انہی میں ایک عام آدمی ہے۔ اور جب ان کا امیر نہ ہو تو لوگ اس کا اتنا احترام کرتے ہوں کہ گویا وہ ان کا امیر ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ یہ تو صرف ربیع بن زیاد رضی اللہ عنہ ہو سکتے ہیں، ان کے علاوہ ہمیں معلوم نہیں۔ امیر المومنین نے فرمایا، آپ لوگوں نے بالکل ٹھیک کہا۔

علامہ ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں فلاں قاضی کو قضا کے منصب سے ہٹاؤں گا اور ایسے شخص کو قاضی مقرر کروں گا کہ جب فاسق فاجر آدمی اسے دیکھے تو اس پر ہیبت اور خوف طاری ہو جائے۔

دوسری جگہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں فریاد کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے امین شخص کے کمزوری اور مضبوط شخص کے خیانت کی۔ علامہ سید سند رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۸۱۲ھ) نے کشاف کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس مضمون میں اللہ تعالیٰ سے شکایت کرنے کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو دونوں صفات سے نوازے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ قوی اور امین تھے اور دونوں اوصاف سے امداد حاصل کرتے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here