اللہ کا دین ضرور چل کر رہے گا

0
477

اللہ کا دین ضرور چل کر رہے گا

حضور ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین وادیٔ حدیبیہ میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ اتنے میں بدیل بن ورقاء اپنی قوم خزاعہ کی ایک جماعت کو لے کر آئے اور یہ لوگ اہلِ تہامہ میں سے آپ ﷺ کے سب سے زیادہ خیر خواہ تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں کعب بن لُؤی اور عامر بن لُؤی کے پاس سے آرہا ہوں۔ انھوں نے حدیبیہ کے چشموں پر پڑاؤ ڈالا ہوا ہے اور (وہ لڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہوکر سارا سامان لے کر آئے ہیں حتی کہ) اُن کے ساتھ نئی بیاہی اور پرانی بیاہی اونٹنیاں بھی ہیں اور وہ آپ سے لڑنا چاہتے ہیں اور آپ کو بیت اللہ سے روکیں گے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہم کسی سے لڑنے کے لیے نہیں آئے بلکہ ہم تو عمرہ کرنے آئے ہیں۔ (ہم بہت حیران ہیں کہ وہ لڑائی کے لیے تیار ہوکر آگئے ہیں حالانکہ) لڑائیوں نے تو قریش کو بہت تھکا دیا ہے اور اُن کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو میں اُن سے ایک عرصہ تک کے لیے صلح کرنے کو تیار ہوں۔ اس عرصہ میں وہ میرے اور لوگوں کے درمیان کوئی مداخلت نہیں کریں گے (اور میں اس عرصہ میں دوسرے لوگوں کو دعوت دیتا رہوں گا) اگر دعوت دے کر میں لوگوں پر غالب آگیا (اور لو گ میرے دین میں داخل ہوگئے) تو پھر قریش کی مرضی ہے اگر وہ چاہیں تو وہ بھی اس دین میں داخل ہوجائیں جس میں دوسرے لوگ داخل ہوئے ہوںگے اور اگر میں غالب نہ آیا (اور دوسرے لوگوں نے غالب آکر مجھے ختم کردیا) تو پھر یہ لوگ آرام سے رہیں گے اور اگر وہ (اس دین میں داخل ہونے سے) انکار کردیں تو اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے !میں اُن سے اِس دین کے لیے ضرور لڑوںگا یہاں تک کہ میری گردن میرے جسم سے الگ ہوجائے (یعنی مجھے مار دیا جائے) اور اللہ کا دین ضرور چل کر رہے گا۔

حضرات حضرت مِسْور اورحضرت مروان سے یہی حدیث منقول ہے جس کے آخر میں یہ مضمون ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: قریش کی حالت پر بڑا افسوس ہے کہ لڑائی اُن کو کھا گئی ہے (یعنی لڑائی نے اُن کو بہت کمزور کردیا ہے اور وہ پھر لڑنے کے لیے تیار ہوگئے ہیں)۔ اس بات میں اُن کا کیا نقصان ہے کہ وہ مجھے دوسرے عربوں میں دعوت کا کام کرنے دیں اور بیچ میں مداخلت نہ کریں۔ اگر دوسرے عربوں نے غالب آکر مجھے ختم کردیا تو قریش کی دلی منشا پوری ہوجائے گی، اور اگر اللہ نے مجھے عربوں پر غالب کردیا تو وہ قریش بھی سارے کے سارے اسلام میں داخل ہوجائیں، اور اگر قریش اسلام میں داخلہ قبول نہ کریں تو مجھ سے لڑیں اور اس وقت اُن کے پاس قوت بھی ہوگی۔ قریش کیا سمجھتے ہیں، اللہ کی قسم! جس دین کو دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے میں اس کی وجہ سے اُن سے لڑتا رہوں گا یہاںتک کہ یا تواللہ تعالیٰ مجھے غالب کردے گا، یا یہ گردن میرے جسم سے الگ ہوجائے گی۔

حیاۃ الصحابہ اردو، جلد ۱ ،صفحہ ۶۵

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here