دین اسلام ساری دنیا میں پہنچ کر رہے گا

0
417

دین اسلام ساری دنیا میں پہنچ کر رہے گا

حضرت ابوثعلبہ خُشَنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اَقدس ﷺ ایک مرتبہ سفرِ غزوہ سے واپس تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے مسجد میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی، اور آپ کو یہ بات پسند تھی کہ سفر سے واپسی پر پہلے مسجد میں جائیں اور اس میں دو رکعت نماز پڑھیں، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر جائیں اور اس کے بعد اپنی اَزواجِ مُطَہَّرات کے گھروں میں جائیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ سفر سے واپس تشریف لائے اور اپنی اَزواجِ مُطَہَّرات کے گھروں سے پہلے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے تو حضرت فاطمہ نے اپنے گھر کے دروازے پر آپ ﷺ کا استقبال کیا اور آپ کے چہرہ ٔاَنور اور آنکھوں کا بوسہ لینے لگیں اور رونے لگیں تو اُن سے حضور ﷺ نے فرمایا: کیوں روتی ہو؟ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی یہ حالت دیکھ کر رو رہی ہوں کہ آپ کا رنگ (سفر کی مشقت کی وجہ سے) بدل چکاہے اور آپ کے کپڑے پرانے ہوگئے۔ تو ان سے آپ ﷺ نے فرمایا: اے فاطمہ! مت روؤ، اللہ نے تمہارے باپ کو ایسا دین دے کر بھیجا ہے جس کو اللہ رُوئے زمین کے ہر پکے گھر میںاور ہر کچے گھر میں اور ہر اُونی خیمہ میں ضرور داخل کریں گے۔ جو اسلام میں داخل ہوں گے وہ عزت پائیں گے اور جو داخل نہیں ہوں گے وہ ذلیل ہوں گے اور دنیا کے جتنے حصہ میں رات پہنچتی ہے اتنے حصہ میں یہ دین بھی پہنچے گا یعنی ساری دنیا میں پہنچ کر رہے گا۔

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورِ اَقدس ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جہاں تک دن رات پہنچتے ہیں (یعنی ساری دنیا میں) یہ دین ضرور پہنچے گا، اور ہر پکے اور کچے گھر میں اللہ تعالیٰ اس دین کو ضرور داخل کریں گے، ماننے والے کو عزت دے کر اور نہ ماننے والے کو ذلیل کرکے۔ چنانچہ اسلام اور اہل اسلام کو اللہ پاک عزت دیں گے اور کفر کو ذلیل و رسوا کریں گے۔ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اس منظر کو اپنے خاندان میں اچھی طرح دیکھا کہ ان میں سے جو مسلمان ہوئے خیر و شرافت اور عزت نے اُن کے قدم چومے، اور جو کافر رہے وہ ذلیل ہوئے ان کو چھوٹا بننا پڑا اور جزیہ دینا پڑا۔

حیاۃ الصحابہ اردو، جلد ۱ ،صفحہ ۶۸ بحوالہ طبرانی و ابو نعیم فی الحلیۃ و حاکم

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here