المومنین حضرت سیدتنا سودہ بنت زمعہ رضی اللّہ تعالیٰ عنہا

0
368

 المومنین حضرت سیدتنا سودہ بنت زمعہ رضی اللّہ تعالیٰ عنہا

ام المومنین حضرت سیدتنا سودہ بنت زمعہ رضی اللّہ تعالیٰ عنہا ان ازواجِ مطہرات میں سے ھیں جن کا تعلق خاندان قریش سے ھے، آپ کے والد کا نام” زمعہ” اور والدہ کا نام” شموس بنت عمرو” ھے، پہلے آپ اپنے چچازاد” سکران بن عمرو” کے نکاح میں تھیں، اسلام کی ابتدا ھی میں یہ دونوں میاں بیوی مسلمان ھو گئے تھے، ایک قول کے مطابق ھجرت حبشہ سے واپسی پر مکہ مکرمہ میں آپ کے شوھر کا انتقال ھو گیا ( المواہب اللدنیۃ،405/1)
حضرت سیدتنا سودہ بنت زمعہ رضی اللّہ تعالیٰ عنہا بہت ھی دیندار، سلیقہ شعار اور بے حد خدمت گزار خاتون تھیں، آپ حضور صلی اللّہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے احکامات پر خوب عمل پیرا ھوتی تھیں۔( زرقانی علی المواھب 4/377.
آپ دراز قد جبکہ حسن و جمال اور سیرت میں منفرد تھیں۔ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللّہ تعالیٰ عنہا آپ کے اوصافِ حسنہ کو دیکھ کر آپ پر بہت زیادہ رشک فرمایا کرتی تھیں۔۔
جب حضرت سیدتنا خدیجہ رضی اللّہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ھو گیا تو حضرت خولہ بنت حکیم نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیک وسلم آپ سودہ بنت زمعہ سے نکاح فرما لیں۔ آپ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللّہ تعالیٰ عنہا کے اس مخلصانہ مشورہ کو قبول فرمایا چنانچہ حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللّہ تعالیٰ عنہا نے پہلے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللّہ تعالیٰ عنہا سے بات کی تو انہوں نے رضامندی ظاہر کی،پھر آپ کے والد سے بات کی تو انہوں نے بھی خوشی سے اجازت دے دی، یوں آپ کا نکاح اعلان نبوت کے دسویں سال میں منعقد ھوا۔
۔۔( سیر اعلام النبلاء۔513/3)
آپ پردے کا اتنا اہتمام کرتی تھیں کہ بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنا بھی پسند نہ فرماتیں۔ چنانچہ جب آپ نے فرض حج ادا فرما لیا تو کہا: میرے رب العالمین نے مجھے گھر میں رھنے کا حکم فرمایا ھے، لہذا خدا کی قسم! اب موت آنے تک گھر سے باہر نہ نکلوں گی، راوی فرماتے ہیں: اللّہ عز و جل کی قسم! آپ گھر سے باہر نہ نکلیں یہاں تک کہ آپ کا جنازہ ھی گھر سے نکالا گیا۔( در منثور، 599/6)
آپ حضرت سیدتنا سودہ بنت زمعہ رضی اللّہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ماہ شوال المکرم میں 54 ھجری کو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللّہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ھوا۔ آپ کی قبر انور جنت البقیع میں ھے۔۔
خواتین سے گذارش ھے کہ وہ ضرور پڑھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔ طالبِ دعاء۔۔۔!: مدنی شاھد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here