حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آزمائش کا ایک واقعہ

0
444

حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آزمائش کا ایک واقعہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کیلئے آزمائشوں کے اس طویل سلسلے کی ابتداء خود ان کے گھر سے ہی ہوگئی تھی جب خود ان کے مشرک باپ آزر نے انہیں گھر سے نکال دیاتھا۔اس کے بعد انہیں اپنا وطن چھوڑنا پڑا اور ہجرت کی نوبت آئی، پھر آگ میں ڈالے گئے۔ آزمائشوں کے اسی سلسلے کے دوران آپ علیہ السلام کا اپنی اہلیہ محترمہ حضرت سارہ کے ہمراہ ایک ایسے علاقے سے گذر ہوا جہاں ایک بدکردار اور ظالم انسان کی حکمرانی تھی، اس نے اپنے کارندے چھوڑ رکھے تھے جن کے ذمے یہ کام تھا کہ اس علاقے سے گذرنے والے مسافروں اور قافلوں پر نظر رکھیں، اگر کبھی کسی قافلے میں کوئی خوبصورت عورت نظر آئے تو وہ اسے زبردستی اغواء کرلیں اور اس حکمران کے سامنے پیش کریں تاکہ وہ بدبخت اسے اپنی ہوس کا نشانہ بناسکے۔جب ان دونوں حضرات یعنی ابراہیم علیہ السلام اوران کی اہلیہ محترمہ حضرت سارہ کا گذر اس علاقے سے ہوا تو اس بدبخت حکمران کے کارندوں نے حضرت سارہ کو بالجبر اس حکمران کے پاس پہنچا دیا، جبکہ اس عجیب و غریب اور انتہائی پریشان کن اور نازک ترین صورتِ حال میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس مشکل سے نجات کیلئے اللہ سے فریاد اور دعاء و مناجات کاسلسلہ شروع کیا، ان برگزیدہ ہستیوں کا یہی مزاج تھا، یہی ان کا مذہب و مسلک تھا، اور یہی ان کا شیوہ و شعار تھا کہ ہر مشکل سے نجات کیلئے صرف اللہ کے سامنے دعاء و فریاد اور صرف اسی سے استعانت و التجاء…!ادھر اس بدبخت شخص نے حسبِ معمول بری نیت اور غلط ارادے سے حضرت سارہ کی طرف دست درازی کی، جس پر اس کا ہاتھ شل ہوگیا، جس پر اسے کچھ اندازہ ہوا کہ شاید یہ کوئی بزرگ خاتون ہیں اس لئے ان کی طرف دست درازی کی وجہ سے مجھے یہ سزا ملی ہے، لہٰذا اس نے ان سے کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ دوبارہ ایسی حرکت نہیں کروں گا، آپ میرے لئے دعاء کیجئے تا کہ میرا ہاتھ ٹھیک ہو جائے، حضرت سارہ نے اس کیلئے دعاء کی، جس کے نتیجے میں اس کا ہاتھ ٹھیک ہوگیا، مگر فوراً ہی اس نے پھر وہی حرکت کی اور پھراس کا ہاتھ مفلوج اور شل ہوگیا، اور اب دوبارہ اس نے منت سماجت اور خوشامد شروع کی کہ میرے لئے دعاء کیجئے اور یہ کہ اب میں ایسی حرکت ہرگز نہیں کروں گا، حضرت سارہ نے دوبارہ دعاء کی، جس پر اس کا ہاتھ درست ہوگیا، مگر اب پھر اس نے وہی حرکت کی اور پھر وہی ہوا، یوں تین بار یہی صورتِ حال پیش آئی، تب اسے یقین ہوگیا کہ یہ تو واقعی کوئی بہت ہی عظیم ترین اور پہنچی ہوئی خاتون ہیں اور اس نے سچی توبہ کی اور خوب منت سماجت کی، تب حضرت سارہ کی دعاء کے نتیجے میں اس کا ہاتھ درست ہوا تو اس نے نہ صرف یہ کہ حضرت سارہ کو آزاد کردیا اور جانے کی اجازت دی بلکہ ایک کنیز بھی بطورِ ہدیہ پیش کی اور خدمت کی غرض سے اسے بھی ان کے ہمراہ روانہ کیا، اس کنیز کا نام تھا ’’ہاجرہ‘‘۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here