حضور ﷺ کا حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دعوت دینا

0
114

حضور ﷺ کا حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دعوت دینا

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور ﷺ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا دونوں نماز پڑھ رہے تھے، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا :اے محمد! یہ کیا ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا: یہ اللہ کا وہ دین ہے جسے اللہ نے اپنے لیے پسند کیا ہے اور جسے دے کر اپنے رسولوں کو بھیجا۔ میں تم کو اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں جو کہ اکیلا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور لات و عزّی دونوں بتوں کا انکار کردو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ایسی بات ہے جو آج سے پہلے میں نے کبھی نہیں سنی، اس لیے میں اپنے والد ابوطالب سے پوچھ کر ہی اس کے بارے میں کچھ فیصلہ کروں گا۔ آپ ﷺ نے اس بات کو پسند نہ فرمایا کہ آپ کے اعلان سے پہلے آپ کا راز فاش ہوجائے۔ تو اُن سے فرمایا: اے علی! اگر تم اسلام نہیں لاتے ہو تو اس بات کو چھپائے رکھو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسی حال میں رات گزاری پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کے دل میں مسلمان ہونے کا شوق پیدا فرما دیا۔ اگلے روز صبح ہوتے ہی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: کل میرے سامنے آپ نے کیا بات پیش فرمائی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو کہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور لات و عزّی کا انکار کردو اور اللہ کے تمام شریکوں سے براءت کا اظہار کرو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کی بات مان لی اور اسلام لے آئے اور ابوطالب کے ڈر سے آپ کے پاس چھپ چھپ کر آتے رہے اور اپنے اسلام کو چھپائے رکھا بالکل ظاہر نہ ہونے دیا۔

حَبَّہ عُرَنی کہتے ہیں: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایک دن منبر پر ہنستے ہوئے دیکھا اور اس سے پہلے کبھی اتنا زیادہ ہنستے ہوئے نہیں دیکھا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے دانت ظاہر ہوجائیں۔ پھر فرمایا: مجھے ابو طالب کی ایک بات یاد آئی کہ ایک روز ابوطالب ہمارے پاس آئے اور میں بطنِ نخلہ میں حضور ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔ تو انھوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! تم دونوں کیا کررہے ہو؟ حضور ﷺ نے اُن کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے کہا کہ تم دونوں جو کچھ کررہے ہو اس میں کوئی حرج نہیں ہے (اور سجدہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ میرے سُرین (سجدہ کی حالت میں) میرے سے اوپر ہوجائیں یعنی میں سجدہ نہیں کرسکتا۔ یہ کہہ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے والد کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے ہنسے، پھر فرمایا: اے اللہ! میرے علم کے مطابق آپ کے نبی ﷺ کے سوا اس اُمت میںسے کسی بندے نے مجھ سے پہلے آپ کی عبادت نہیں کی ہے۔ یہ بات تین دفعہ کہی اور فرمایا: میں نے تمام لوگوں سے سات سال پہلے نماز پڑھنی شروع کردی تھی۔

حیاۃ الصحابہؓ اردو جلد اول ص ۷۴

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here