بیمار دل کی علامات

0
548

بیمار دل کی علامات

انسان کو کیسے پتہ چلے کہ اس کا دل بیمارہے؟
اس سلسلہ میں حافظ ابن قیم رحمتہ اللہ نے کچھ علامت بتائی ہیں ۔ 
پہلی علامت: جب انسان فانی چیزوں کو باقی چیزوں پر ترجیح دینے لگے تو وہ سمجھ لے کہ میرا دل بیمار ہے ۔ مثلاً دنیا کا گھر اچھالگتا ہے مگر آخرت کا گھر بنانے کی فکر نہیں ہے ۔ دنیا میں عزت مل جائے مگر آخرت کی عزت یا ذلت کی سوچ دل میں نہیں ۔ دنیا میں آسانیاں ملیں مگر آخرت کے عذاب کی پرواہ نہیں ۔
دوسرے علامت:جب انسان رونا بند کردے تو وہ سمجھ لے کہ دل سخت ہوچکا ہے۔ کبھی کبھی انسان کی آنکھیں روتی ہیں اور کبھی کبھی انسان کا دل روتاہے ۔ دل کا رونا آنکھوں کے رونے پر فضیلت رکھتاہے۔یہ ضروری نہیں کہ انکھ سے پانی کا نکلنا ہی رونا کہلاتا ہے،بلکہ اللہ کے کئی بندے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کےدل رو رہے ہوتے ہیں گویا ان کی آنکھوں سے پانی نہیں نکلتا مگر ان کا دل سے رونا اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو جاتاہے اور ان کی توبہ کے لئے قبولیت کے دروازے کھل جاتے ہیں تو دل اور آنکھوں میں سے کوئی نہ کوئی چیز ضرور روئے اور بعض کی تو دونوں چیزیں رورہی ہوتی ہیں ۔آنکھیں بھی رو رہی ہوتی ہیں اور دل بھی رورہا ہوتاہے ۔
تیسری علامت :مخلوق سے ملنے کی تو تمنا ہو لیکن اسے اللہ رب العزت سے ملنا یاد ہی نہ ہو تو سمجھ لے کہ یہ میرے دل کے لیے موت ہے ۔ لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ ایسے تعلقات ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں ایک دوسرے سے ملنے کی تمنا ہوتی ہے وہ اداس ہوتے ہیں اور انہیں انتظار ہوتاہے مگر اللہ کی ملاقات یاد ہی نہیں ہوتی ۔
چوتھی علامت : جب انسان کا نفس اللہ رب العزت کی یاد سے گھبرائے اور مخلوق کے ساتھ بیٹھنے سے خوش ہو تو وہ بھی دل کی موت کی پہچان ہے ۔ اللہ کی یاد سے گھبرانے کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کا دل تسبیح پڑھنے اور مراقبہ کرنے سے گھبرائے ۔ اس کے لیے مصلیٰ پربیٹھنا بوجھ محسوس ہوتاہے ۔ ایک موٹا سا اصول سمجھ لو کہ اگر بندے کا اللہ کے ساتھ تعلق دیکھنا ہو تو اس کا مصلے پر بیٹھنا دیکھ لو۔ ذاکر شاغل بندہ مصلے پر اسی سکون کے ساتھ بیٹھتا ہے جس طرح بچہ ماں کی گود میں سکون کےساتھ بیٹھتا ہے اور جس کے دل میں کجی ہوتی ہے اس کے لیے مصلے پر بیٹھنا مصیبت ہوتی ہے وہ سلام پھیر کر مسجد سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ۔ کئی تو ایسے ہوتے ہیں کہ مسجد میں آنے کے ان کا دل آمادہ ہی نہیں ہوتا۔

ماخوذ از:” آج کا سبق “صفحہ 117
تالیف :مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here