حالتِ حال میں کیا رو کے سناؤں تجھ کو

0
306

حالتِ حال میں کیا رو کے سناؤں تجھ کو

حالتِ حال میں کیا رو کے سناؤں تجھ کو
تو نظر آئے تو پلکوں پہ بٹھاؤں تجھ کو

خود کو اس ہوش میں مدہوش بنانے کے لئے
آیتِ حسن پڑھوں دیکھتا جاؤں تجھ کو

تو نہیں مانتا مٹی کا دھواں ہو جانا
تو ابھی رقص کروں ہو کے دکھاؤں تجھ کو

کر لیا ایک محبت پہ گزارا میں نے
چاہتا تھا کہ میں پورا بھی تو آؤں تجھ کو

اب میرا عشق دھمالوں سے کہیں آگے ہے
اب ضروری ہے کہ میں وجد میں لاؤں تجھ کو

کیوں کسی اور کی آنکھ کا قصیدہ لکھوں
کیوں کسی اور کی مدحت سے جلاؤں تجھ کو

اس نے اِک بار مجھے پیار سے بولا تھا احمد 
میرا دل ہے کبھی سینے سے لگاؤں تجھ کو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here