داڑھی کے طبی فوائد، ملا اور مولوی کا مذاق اڑانے والوں کے لیے جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں

0
509

داڑھی کے طبی فوائد، ملا اور مولوی کا مذاق اڑانے والوں کے لیے جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں

مغربی ممالک میں داڑھی کے خلاف تعصب پھیلانے کے لئے عموماً نام نہاد سائنسی تحقیقات میں بیان کیا جاتا تھا کہ چہرے پر بال موجود ہونے سے جلد میں کچھ خاص قسم کے بیکٹیریا جمع ہو جاتے ہیں، اور اسی بناء پر داڑھی سے پرہیز کا مشورہ دیا جاتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طویل تحقیقات کے بعد اب اسی بات کو داڑھی کے طبی فوائد کا بنیادی ترین جزو تسلیم کر لیا گیا ہے۔
مسلمانوں میں1400سال سے پہلے سے دراڑھی رکھنے کی خوبصورت روایت چلی آ رہی ہے اور اب پہلے دفعہ جدید مغربی سائنس نے بھی اسکے بے شمار فوائد کو تسلیم کر لیا ہے۔برطانیہ میں ڈاکٹر ایڈ ین مونٹی اور دیگر سائنسدانوں نے انسانی صحت پر داڑھی کے بے شمار مثبت اثرات دریافت کئے ہیں جن میں سے چند اہم کا ذکر درج ذیل ہے
شیو کے دوران جلد پر زخم آنے سے فولی کلیٹس باربی نامی بیماری پیداہو جاتی ہے جس میں ایک بیکٹریا جلد میں انفیکشن پیداکرد یتا ہے ، داڑھی رکھنے سے یہ مصیبت قریب بھی نہیں آئی۔
داڑھی اور مونچھوں کے بال گردوغبار اور پولن زرات کو اپنی طرف کھینچ کرناک اور نظام تنفس میں جانے سے روکتے ہیں اور یوں الرجی سے تحفظ مل جاتاہے ۔
چہرے کے گھنے بال جلد کو سورج کی الڑوائلٹ شعاعوں سے بچا کر جلد کے کینسر سے 90سے 95فیصد تک تحفظ فر اہم کردیتے ہیں ۔
چہرے کی جلد پر دھوپ اور ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے جھریاں پڑنے کا عمل شروع ہو جاتاہے جبکہ داڑی کی صورت میں جھریوں کا مسئلہ بہت ہی کم رہ جاتا ہے ۔
شیو کرنے سے بال جلد کے اندر تک کٹ سکتے ہیں اور جب یہ دوبارہ بڑھتے ہیں
تو ان میں سے کوئی جلد اندر ہی بڑھ کر دانوں اور کیل سہاسوں کا سبب بن جاتاہے ۔داڑھی اس مسئلہ سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
دمہ کی مشہور برطانوی ڈاکٹر ڈیبوراویڈل کہتی ہیں کہ داڑھی کے بال دمہ پیدا کرنے والے خطرناک جرثوموں سے پھیپڑوں کو بچاتے ہیں اور انسان کو دمہ جیسی فوزی بیماری سے تحفظ مل جاتاہے۔
داڑھی سے جلد دھول مٹی سے محفوظ رہتی ہے جس سے پولن الرجی کا خطرہ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے ۔ داڑھی کے بال کسی چھلنی کی طرح ہوا کو فلٹر کرتے رہتے ہیں ۔ یہ اسی طرح کام کرتے ہیں جیسے ناک کے بال۔ لہذا جب بھی آپ سانس لیں گے نقصان دہ گیسز سے پاک آکسیجن ہی آپ کے اندر داخل ہوگی ۔اس کے علاوہ شیونگ جیل میں کئی اقسام کے کیمیکل پائے جاتے ہیں۔ جب داڑھی ہوتی ہے تو شیونگ جیل کا استعمال بھی کم ہی ہوتا ہے جس سے جلد انفیکشن وغیرہ سے بھی بچی رہتی ہے ۔
سردیوں میں داڑھی سے جلد گرم رہتی ہے اور سردی زکام جیسے مسائل سے انسان بچا رہتا ہے ۔ داڑھی جتنی بڑی ہوگی آپ سردی سے اتنا ہی زیادہ بچے رہیں گے ۔ ساتھ ہی یہ سردیوں کی ٹھنڈ ہوا سے بچا کر جلد کو خشک بھی نہیں ہونے دیتی ۔ بالوں میں موجود سبیشیئس گلینڈقدرتی طور پر جلد کو نم رکھتی ہے
داڑھی عام طور پر مسلمانوں یا انتہائی مذہبی رجحان کا نشان سمجھی جاتی ہے مگر درحقیقت مردوں کا یہ زیور ان کی صحت کے لئے بھی انتہائی مفید ہے۔یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔سدرن کوئنزلینڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق داڑھی رکھنے سے مردوں کو ایک فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ سورج سے خارج ہونے والی مضر شعاعوں سے محفوظ رہتے ہیں۔تحقیق کے مطابق سورج کی شعاعوں سے بالوں سے آزاد چہرے کے مقابلے میں داڑھی کا حصہ ایک تہائی کم متاثر ہوتا ہے۔
اسی طرح ایک اور الگ تحقیق جو برمنگھم ٹرائیکلوجی سینٹر نے کی، میں بتایا گیا ہے کہ وہ مرد جو پولن الرجی کے باعث دمہ کا شکار ہوجاتے ہیں، ان کو اس چیز سے بچانے کیلئے داڑھی اور مونچھیں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ مونچھیں ناک کی نسوں کو الرجی سے تحفظ فراہم کرتی ہیں جن سے پھیپھڑوں تک پولن سے پاک ہوا آرام سے پہنچتی ہے۔
جلدی ماہر ڈاکٹر لوئے کی ایک تحقیق کے مطابق چہرے پر موجود بال جلد کو جوان اور اچھی حالت پر رکھتے ہیں جس سے عمر بریدگی کا عمل سست ہوجاتا ہے۔
ڈاکٹر لوئے کے مطابق داڑھی سے منہ دھونے کے بعد بھی جلد پر نمی برقرار رہتی ہے جو ہوا سے چہرے کو خشک ہونے سے بچاتی ہے اور جلد سکیڑنے سے بچتی ہے۔
اسی طرح کیرول واکر نامی برطانوی ماہر کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گھنی داڑھی تھوڑی کے نیچے بڑھے تو اس سے گلے کا درجہ حرارت بڑھتا ہے اور یہ چیز لوگوں کو ٹھنڈ یا دوسرے معنوں میں فلو اور کھانسی وغیرہ سے بچاتی ہے۔
کیرول کے مطابق بال آپ کو گرم رکھتے ہیں، لمبی اور گھنی داڑھی سرد ہوا کو روک کر گلے کا درجہ حرارت بڑھاتی ہے اس طرح سرد موسم میں آپ موسمی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
شیو سے جتنا زیادہ نقصان جلد کو پہنچتا ہے شاید جسم کے کسی اور حصے کو نہیں پہنچتا۔ دراصل شیو کا نشتر جلد کو مسلسل رگڑتا رہتا ہے اور ہر آدمی کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ چہرے پر ایک بھی موجود نہ ہو، تاکہ چہرے کے حسن اور نکھار میں کمی واقع نہ ہو، اس کے لیے بار بار ایک تیز استرے یا بلیڈ سے جلد کو چھیلا جاتا ہے، جس سے چہرے کی جلد حساس (Sensitive) ہوجاتی ہے اور طرح طرح کے امراض کو قبول اور حصول کی صلاحیت پیدا کرلیتی ہے۔
کُند استرا یا بلیڈ چہرے پر پھیرنے میں زیادہ طاقت استعمال کرنی پڑتی ہے، جس سے جلد مجروح ہوتی ہے، یہ زخم آنکھوں سے نظر نہیں آتے، لیکن ان کی جلن کا احساس ہوتا رہتا ہے اور جب جلد پر کوئی خراش آجائے تو جراثیم کو داخلے کا راستہ مل جاتا ہے۔ اس طرح داڑھی مونڈنے والا طرح طرح کے امراض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔چہرے پر پہلے معمولی پھنسیاں نکل سکتی ہیں، پھر(Impeigo) کے علاوہ ایک خصوصی جلدی سوزش جسے حجام کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، یعنی Sycosis bardacجیسی خطرناک جلدی امراض لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض ایسے خطرناک چھوتی امراض چہرے پر اور پھر اس کے ذریعہ پورے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
وہ امراض مندرجہ ذیل ہیں:
(1) چہرے کے مہاسے
(2) چہرے کی جلد کی خشکی
(3) کیل اور چھائیاں
(4) ناک پر دانے ؍کیل
(5) عام پھوڑے پھنسیاں
(6)ایکزیما
شیو کا مسلسل استعمال غدود ونخامیہ پر برے اثرات ڈالتا ہے۔ بلکہ اس گلینڈ کی وجہ سے اعصابی نظام اور جنسی نظام بہت متاثر ہوتے ہیں۔ مشاہدات اور تجربات کی رو سے ایسے مریض دیکھے گئے ہیں، جنھوں نے جب اس عمل کو ترک کیا تو وہ مذکورہ امراض سے بچ گئے یا پھر وہ امراض کم ہوگئے۔
داڑھی مردوں کی شخصیت کے نکھار میں اہم کردار ادا کرتی ہے ، بین الاقوامی سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ داڑھی اور بڑھی ہوئی شیو رکھنے والے مرد زیادہ پرکشش ، چوکس اور صحت مند ہوتے ہیں۔
یونیورسٹی آف سدرن کوئینزلینڈ کی تحقیق کے مطابق چہرے پر بال ہونا مردوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں ، تحقیق سے داڑھی کے حیران کن فوائد سامنے آئے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چہرے پر داڑھی نہ صرف مردوں کی شخصیت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے بلکہ اس سے صحت میں بھی فوائد حاصل ہوتے ہیں اور اس میں سائنسی شواہد بھی موجود ہیں۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چہرے پر بال 90 سے 95 فیصد الٹرا وائلٹ شعاعوں سے جلد کو محفوظ رکھتے ہیں جس کی وجہ سے مرد جلد کے کینسر جیسے موذی مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
داڑھی پولن اور گرد سے بھی انسانی چہرے کو محفوظ رکھتی ہے جس کی وجہ سے دمے اور دیگر مہلک بیماریاں انسان کے قریب نہیں آتی ہیں۔
داڑھی انسانی جلد میں نمی کو برقرار رکھتی ہے جس کی وجہ سے ہوا لگنے کے باوجود جلد میں خشکی نہیں رہتی ہے اور انسان کا چہرہ پورا دن ترو تازہ رہتا ہے۔
اخبار دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق سائنسی جریدے جرنل آف ہاسپٹل انسپکشن میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ داڑھی رکھنے کی صورت میں جلد کو متعدد قسم کے انفیکشن سے تحفظ مل جاتا ہے جبکہ داڑھی کی وجہ سے ایک خاص قسم کا بیکٹیریا جلد پر موجود رہتا ہے جو کہ انفیکشن اور دیگر بیماریوں کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔
سائنسدانوں نے یہ اہم انکشاف بھی کیا ہے کہ داڑھی کے سبب جلد پر پائے جانے والے مفید بیکٹیریا کو نئی اینٹی بائیوٹک ادویات تیار کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، جو کہ انفیکشن سے بچاؤمیں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ اس تحقیق کے دوران ہسپتال اسٹاف کے 408 ارکان کے چہروں سے نمونے لے کر ان کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ داڑھی والے افراد کی نسبت کلین شیو والے افراد کے چہرے کی جلد پر ایم آ رایس اے نامی نقصان دہ بیکٹیریا تین گنا زیادہ پایا جاتا ہے، جو کہ اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت رکھتا ہے اور انفیکشن کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح فوڈ پوائزننگ، عمومی انفیکشن اور سانس کی انفیکشن کا سبب بننے والے سٹیفی لوکوکس اوریس نامی بیکٹیریا کی مقدار کلین شیو والوں کی جلد پر 10 گنا زیادہ پائی گئی۔ تحقیق کاروں کے مطابق شیونگ کے دوران جلد پر نظر نہ آنے والی انتہائی معمولی خراشیں مضر صحت بیکٹیریا کے جمع ہونے کا سبب بنتی ہیں کیونکہ بیکٹیریا ان خراشوں میں رہائش پذیر ہوجاتے ہیں اور مخصوص آلات کے بغیر انہیں دیکھنا یا ان کا پتہ چلانا ممکن نہیں ہوتا۔
دوسری جانب، یونیورسٹی کالج لندن کے مائیکرو بائیالوجسٹ ڈاکٹر ایڈم رابرٹ کا کہنا ہے کہ تجربات کے دوران داڑھی والے افراد کی جلد سے لئے گئے نمونوں سے خاص قسم کے بیکٹیریا پیدا کئے گئے ہیں جو کہ صحت کو نقصان پہنچانے والے بیکٹیریا کو ہلاک کردیتے ہیں۔ ڈاکٹر رابرٹس کا کہنا تھا کہ پچھلے 30 سالوں کے دوران کوئی نئی اینٹی بائیوٹک دوا نہیں آئی جبکہ موجودہ اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف جراثیموں کی مزاحمت بڑھتی جارہی ہے۔ا یسی صورتحال میں یہ تحقیق عظیم سائنسدان الیگزینڈر فلیمنگ کی پینسلین کی دریافت جیسا تاریخی کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
باریش چہرے کی جلد پر موجود مفید بیکٹیریا کی دریافت کے بعد توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ اس کی مدد سے آنے والے وقت میں نئی اینٹی بائیوٹک ادویات تیار کی جاسکیں گی۔
جی اب مل گیا جواب؟ اب حسن نثار سے کہیں کہ مولویوں کے ساتھ دس گالیاں ان یورپی سائنسدانوں کو بھی دے لینا جو ان جدید تحقیقات سے داڑھی کے بیشمار طبی فوائد کا بیان کر رہے ہیں۔ خیال کرنا سائنس کو مولوی کہ کر سائنس کا انکار نہ کر دینا مولوی کے تعصب میں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here