بحیرہ مردار سے متعلق دلچسسپ حقائق

0
218

بحیرہ مردار سے متعلق دلچسسپ حقائق

بحیرہ مردار کو انگریزی زبان میں Dead Sea کہا جاتا ہے اور یہ دنیا کی سب سے بڑی نمکین جھیل ہے یہ زمین پر سطح سمندر سے سب سے نچلا مقام ہے، جو 420 میٹر (1378 فٹ) نیچے واقع ہے۔ البتہ یہ بحیرہ مردار کے حوالے سے انتہائی عام معلومات ہیں جن سے ہر کوئی واقف ہے لیکن آج میں اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں سے بحیرہ مردار سے متعلق جو معلومات شئیر کرنے جارہا ہوں اس سے لوگوں کی ایک بڑی اکثریت ناواقف ہے۔
جیسے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ بحیرہ مردار کو “ مردار “ کیوں کہتے ہیں؟ یا پھر اس میں اتنا زیادہ نمک کیوں ہے؟
ایسے ہی کچھ دلچسپ سوالات کے جوابات حاضر ہیں

بحیرہ مردار دنیاکی سب سےبڑی نمکین جھیل ہے، جس کے مغرب میں مغربی کنارہ اور اسرائیل اور مشرق میں اردن واقع ہے۔ علاوہ ازیں یہ دنیا کی سب سے گہری نمکین پانی کی جھیل بھی ہے، جس کی گہرائی 330 میٹر (1083 فٹ) ہے۔ بحیرہ مردار 67 کلومیٹر (42 میل) طویل اور زیادہ سے زیادہ 18 کلومیٹر (11 میل) عریض ہے۔

بحیرہ مردار کو “ مردار “ کیوں کہتے ہیں؟
بحیرہ مردار کو “ مردار “ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ بہت زیادہ نمک ہونے کی وجہ سے اس میں کسی بھی جاندار کا اس جھیل میں زندہ رہنا ناممکن ہے۔تاہم چھوٹے اجسام کے جراثیم ضرور اس کی تہہ میں پائے جاتے ہیں۔ جن پر نمک کا اثر نہیں ہوتا۔

یہ ایک بڑی جھیل ہے سمندر نہیں ہے
بحیرہ مردار کو یوں تو سمندر کہا جاتا ہے لیکن تکنیکی اعتبار سے یہ ایک کھارے پانی کی ایک جھیل ہے جس میں اردن کے دریا کا پانی بھی آ کر گرتا ہے۔ اور Red Sea کے قریب ہونے کی وجہ سے بھی اس کو سمندر کہہ دیا جاتا ہے۔

بحیرہ مردار اتنا نمکین کیوں؟
بحیرہ مردار میں دیگر سمندر کے مقابلے میں 9.6 گنا زائد نمک پایا جاتا ہے یہاں تک کہ بحیرہ مردار میں شامل ہونے والا دریائے اردن کا میٹھا پانی بھی اس پر کوئی اثرات مرتب نہیں کرتا۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ بحیرہ مردار اتنا نمکین کیوں ہے؟ اس کی بنیادی وجوہات “بارش کا پانی“ اور اس کے اردگرد “چٹانیں” ہیں۔
چونکہ بارش کا پانی تیزابی ہوتا ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ یہ چٹانوں کو توڑ دیتا ہے اور اس یہ مزید تیزابی ہوجاتا ہے اس تیزاب میں سوڈیم اور کلورائیڈ کثیر تعداد میں شامل ہوجاتے ہیں اور سوڈیم کلورائیڈ کو نمک بھی کہا جاتا ہے۔

منفرد موسم کی وجہ سے دھوپ متاثر نہیں کرتی
بحیرہ مردار کے اردگرد کی سرزمین بنجر اور صحرائی ہے- یہاں تقریباً 330 دن انتہائی دھوپ رہتی ہے٬ یہاں کی ہوا میں نمی کی سطح انتہائی کم ہے جبکہ بارش بھی بہت کم ہوتی ہے- لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ یہاں جتنی دیر بھی دھوپ میں رہیں سورج کی شعاعیں آپ کی جلد کو متاثر نہیں کریں گی۔

نمک کی موٹی تہہ ڈوبنے نہیں دیتی
اگر تیراکی کے شوقین نہیں ہیں یا آپ کو تیراکی نہیں آتی تو بحیرہ مردار آپ کے لیے بہترین جگہ ہے نمک کی وجہ سے اس سمندر کا پانی بھاری ہے اور یہ انسان کو ڈوبنے نہیں دیتا اور وہ صرف پانی کے اوپر تیرتا رہتا ہے۔

صحت کے لیے بہترین
بحیرہ مردار کی منفرد آب و ہوا کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں آپ کو اضافی آکیسجن حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے آپ خود کو تروتازہ اور پرسکون محسوس کرتے ہیں۔ قدیم وقتوں سے بحیرہ مردار کو صحت کے لیے بہترین قرار دیا جاتا ہے۔اور ہمیشہ سے ہی بحیرہ مردار طبی ماہرین کے درمیان انتہائی مقبول رہا ہے۔ اور متعدد تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ مقام جلدی بیماریوں سے نجات کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے سیاح اس جھیل پر کثیر تعداد میں آتے ہیں۔ (ہماری ویب سے ماخوذ)

اسلامی روایات کے مطابق اس جھیل کے کنارے کسی پچھلی امت پر عذاب نازل ہوا تھا۔ یا تو حضرت لوط علیہ السلام کی قوم تھی یا پھر حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم تھی۔ اس کے کناروں پر ان برباد قوموں کے آثار ملے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل یہ ثابت ہوا کہ یہ کرہ ارض کا پست ترین مقام ہے۔ آج بھی اس کے ساحلی نشیبی علاقے میں جو سدوم کا مسکن تھا کافی تعداد میں سلفر پائی جاتی ہے۔شائد عذاب کی وجہ سے ہی یہاں سنگلاخ چٹانیں ہیں اور کوئی نباتات جاندار موجود نہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here