اپنا احتساب….

0
302

اپنا احتساب….

کھیت میں جب فصل بوئی جاتی ہے تو فصل کے ساتھ گھاس پھوس بھی اگتے ہیں…گہیوں کے پودے کے ساتھ ایک خودرو گھاس بھی اگتی ہے..اور سرسوں کے ہر پودے کے ساتھ ایک نکما پودا بھی بڑھنا شروع ہوتا ہے…

یہ آپنے آپ نکلنے والے گھاس پھوس فصل کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں…وہ کھیت کے پانی اور کھاد میں حصہ دار بن جاتے ہیں اور اصل فصل کو پوری طرح بڑھنے نہیں دیتے… کسان اگر ان خودرو پودوں کو بڑھنے کے لیے چھوڑ دے تو یہ ساری فصل خراب کر دیں…کھیت میں دانہ ڈال کر کسان نے جو امیدیں قائم کی ہیں وہ کبھی پوری نہ ہوں…

اس لیے کسان یہ کرتا ہے کہ وہ کھیت میں نلائی کا عمل کرتا ہے.. وہ ایک ایک خودرو پودے کو نکالتا ہے تاکہ کھیت کو ان سے صاف کر دے اور فصل کو بڑھنے کا پورا موقع ملے…

یہ نلائی کا عمل جو کھیت میں کیا جاتا ہے انسانی زندگی میں بھی مطلوب ہے اور اس کا شرعی نام محاسبہ ہے..انسان کا معاملہ بھی یہی ہے اس کو جب کوئی خوبی کی چیز حاصل ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ہی ایک “ نکمی گھاس “ اس کے اندر سے اگنا شروع ہوجاتی ہے..اس نکمی گھاس کو جاننا اور اس کو اپنے اندر سے نکال پھینکنا انتہائی ضروری ہے ورنہ انسان کا بھی وہی حال ہوگا جو بغیر نلائی کیے کھیت کا…

کسی کو اسباب و وسائل ہاتھ آجایں تو اس کے اندر بےپناہ خوداعتمادی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے..اقتدار مل جائے تو گھمنڈ پیدا ہوتا ہے.. اسی طرح دولت کے ساتھ بخل , علم کے ساتھ فخر , مقبولیت کے ساتھ ریا , اور سماجی عزت کے ساتھ نمائش کی نفسیات پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے… یہ تمام چیزیں گویا خودرو گھاس ہیں جو آدمی کی تمام خوبیوں کو کھا جاتی ہیں…ہر آدمی کو چاہیے کہ اس اعتبار سے اپنا نگران بن جائے کہ جب بھی اس کے اندر کوئی “نکمی گھاس” اگنے لگے تو وہ اس کو اکھاڑ کر پھینک دے…

مولانا وحیدالدین… خدا اور انسان…صفحہ 31…

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here