کیسا میں ہم سفر تمہارا ہوں

0
337

کیسا میں ہم سفر تمہارا ہوں

کیسا میں ہم سفر تمہارا ہوں
ساتھ ہوں منتظر تمہارا ہوں
مجھ سے پوچھا مرا تعارف جو
کہہ دیا مختصر تمہارا ہوں
خود جو ٹوٹا تجھے بنانے میں
میں وہی کوزہ گر تمہارا ہوں 

ہو سکے تم نہ میرے پل کے لئے
اور میں عمر بھر تمہارا ہوں

سایہ میرا تو میرے بس میں نہیں
پر ہے وعدہ شجر تمہارا ہوں

ہم کو منظور ہر قیامت ہے
وہ جو کہہ دے اگر تمہارا ہوں

روک رکھا ہے ایک صحرا نے
ضد کرے میں ہی گھر تمہارا ہوں

تم تو دنیا کے ہوگئے ابرک
اور میں بے خبر تمہارا ہوں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here