عـــشق

0
472

عـــشق

عـــشق میں ہے رب کا جلوہ ، عـشق کوہِ طور ہے

عـشق كلمه، عـشق قرآں ، عشق سجدہ رب کو ہے
عشق مقتل ، عــشق قاتل ، عــــشق چکنا چُور ہے

عـشق اندر ، عـشق باہر ، عـشق ہے سر پر جنوں
عـــشق دریا آگ کا ہے ، عـــــشق تــو مسحور ہے

عشق مسجد،عشق مندر،عـشق ہی حق کی صدا
عشق قرنى(رض) ،عشق موسیٰ ، عـشق ہی منصور ہے

عـــشق مـــیری ابتدا اور عـــــــشق مــــیری انتہا
عــــــشق ہے گر امتحاں تو پھر مجھے منظور ہے

عشق مكه ، عشق كعبه ، عــشق رب کی ذات ہے
عـــــشق ذکرِ پاک ہے اور عــــــشق ہی تیمور ہے

عشق جنگل ، عشق صحرا ، عــشق تپتی ریت ہے
عـــشق میں وە ہی جلا جو عـــشق میں مقدور ہے

عشق من، میں عشق تن میں،عشق ہی میں گم ہوں میں
نام عاجز فقیرؔ کا بھی اب تو عـشق میں مذکور ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here