تخلیق انسانی کے چار طریقے

0
580

تخلیق انسانی کے چار طریقے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا اور حضرت حواء علیہاالسلام کو حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا فرمایا۔ قرآن کے اس فرمان سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ خلاّق عالم جل جلالہ نے انسانوں کو چار طریقوں سے پیدا فرمایا ہے:

1۔یہ کہ مرد و عورت دونوں کے ملاپ سے ،جیسا کہ عام طور پر انسانوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں صاف صاف اعلان ہے کہ

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ ٭ۖ (پ29،الدھر : 2)
بےشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا ملی ہوئی منی سے

2۔ یہ کہ تنہا مرد سے ایک انسان پیدا ہو۔ اور وہ حضرت حواء علیہاالسلام ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا فرمادیا۔

3۔یہ کہ تنہا ایک عورت سے ایک انسان پیدا ہو۔ اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو کہ پاک دامن کنواری بی بی مریم علیہا السلام کے شکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔

4۔یہ کہ بغیر مرد و عورت کے بھی ایک انسان کو خداوند ِ قدوس عزوجل نے پیدا فرما دیا اور وہ انسان حضرت آدم علیہ السلام ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مٹی سے بنا دیا۔

مزید تفصیل پڑھنے کے لئے وزٹ کریں۔
http://goo.gl/deDfmq

ان واقعات سے مندرجہ ذیل اسباق کی طرف راہنمائی ہوتی ہے۔

(۱)خداوند ِ قدوس ایسا قادر و قیوم اور خلاّق ہے کہ انسانوں کو کسی خاص ایک ہی طریقے سے پیدا فرمانے کا پابند نہیں ہے، بلکہ وہ ایسی عظیم قدرت والا ہے کہ وہ جس طرح چاہے انسانوں کو پیدا فرما دے۔ چنانچہ مذکورہ بالا چار طریقوں سے اس نے انسانوں کو پیدا فرمادیا۔ جو اس کی قدرت و حکمت اور اس کی عظیم الشان خلاّقیت کا نشانِ اعظم ہے۔
سبحان اللہ! خداوند ِ قدوس کی شانِ خالقیت کی عظمت کا کیا کہنا؟ جس خلّاقِ عالم نے کرسی و عرش اور لوح و قلم اور زمین و آسمان کو ”کُن” فرما کر موجود فرما دیا اس کی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ کے حضور خلقتِ انسانی کی بھلا حقیقت و حیثیت ہی کیا ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ تخلیق انسان اس قادر مطلق کا وہ تخلیقی شاہکار ہے کہ کائنات عالم میں اس کی کوئی مثال نہیں۔ کیونکہ وجود انسان عالم خلق کی تمام مخلوقات کے نمونوں کا ایک جامع مرقع ہے۔

(۲)ممکن تھا کہ کوئی مرد یہ خیال کرتا کہ اگر ہم مردوں کی جماعت نہ ہوتی تو تنہا عورتوں سے کوئی انسان پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی طرح ممکن تھا کہ عورتوں کو یہ گمان ہوتا کہ اگر ہم عورتیں نہ ہوتیں تو تنہا مردوں سے کوئی انسان پیدا نہ ہوتا۔ اسی طرح ممکن تھا کہ عورت و مرد دونوں مل کر یہ ناز کرتے کہ اگر ہم مردوں اور عورتوں کا وجود نہ ہوتا تو کوئی انسان پیدا نہیں ہوسکتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے چاروں طریقوں سے انسانوں کو پیدا فرما کر عورتوں اور مردوں دونوں کے شبہات کو ختم کردیا کہ دیکھ لو، ہم ایسے قادر و قیوم ہیں کہ حضرت حواء علیہا السلام کو تنہا مرد یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا فرما دیا۔ لہٰذا اے عورتو! تم یہ گمان مت رکھو کہ اگر عورتیں نہ ہوتیں تو کوئی انسان پیدا نہ ہوتا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تنہا عورت کے شکم سے بغیر مرد کے پیدا فرما کر مردوں کو تنبیہ فرما دی کہ اے مردو! تم یہ ناز نہ کرو کہ اگر تم نہ ہوتے تو انسانوں کی پیدائش نہیں ہو سکتی تھی۔ دیکھ لو! ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تنہا عورت کے شکم سے بغیر مرد کے پیدا فرمادیا۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر مرد و عورت کے مٹی سے پیدا فرما کر عورتوں اور مردوں کا منہ بند فرمادیا کہ اے عورتو! اور مردو! تم کبھی بھی اپنے دل میں خیال نہ لانا کہ اگر ہم دونوں نہ ہوتے تو انسانوں کی جماعت پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ دیکھ لو!حضرت آدم علیہ السلام کے نہ باپ ہیں نہ ماں، بلکہ ہم نے ان کو مٹی سے پیدا فرمادیا۔سبحان اللہ!سچ فرمایا اللہ جل جلالہ نے کہ

اللہُ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّہُوَ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ ﴿16﴾ (پ 13،الرعد:16)
اللہ ہر چیز کا بنا نے والا ہے اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے

وہ جس کو چاہے اور جیسے چاہے اور جب چاہے پیدا فرما دیتا ہے۔ اس کے افعال اور اس کی قدرت کسی اسباب و علل، اور کسی خاص طور طریقوں کی بندشوں کے محتاج نہیں ہیں۔ وہ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ہے۔

یعنی وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے (پ۳۰،البروج:۱۶)۔اس کی شان یَفْعَلُ اللہُ مَا یَشَاءُ وَیَفْعَلُ اللہُ مَا یُرِیْد ہے۔ یعنی جس چیز اور جس کام کا وہ ارادہ فرماتا ہے اسکو کرڈالتا ہے۔ نہ کوئی اسکی مشیت وارادہ میں دخل انداز ہو سکتا ہے، نہ کسی کو اسکے کسی کام میں چون و چرا کی مجال ہو سکتی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here