“رب”

0
510

“رب”

ایک بزرگ نے لکھا ہے کہ ایک درویش کی ہمیں اطلاع ملی ، اسکی زیارت کیلئے گئے، صبح کی نماز کا وقت تھا وہ بزرگ جو میزبان تھے انہوں نے جماعت کرائی۔ یہ جو مہمان درویش تھا ، اس نے بھی نماز پڑھی، اس نے دیکھا کہ نماز پڑھانے والے کا تلفظ صحیح نہیں ہے۔ اس درویش نے نماز توڑ کر اپنی الگ پڑھ لی کیونکہ وہ عربی ٹھیک نہیں پڑھ رہا تھا، الفاظ کی زیر زبر کا فرق آگیا تھا، تو یہ درویش انہیں ملے بغیر چلے آئے۔ وہ غصے میں جو مہمان درویش تھا وہ کہتا ہے کہ میں جنگل سے گزر رہا تھا آگے دیکھتا ہوں تو ایک شیر میری طرف آرہا ہے پوری طاقت کے ساتھ۔ اس لئے میں بہت ڈرا۔ پھر وہ جو میزبان بابا تھا چھڑی ہاتھ میں لے کر آگیا اور کہا تم ہمارے مہمان کو ڈراتے ہو، تمہیں شرم نہیں آتی، یہ ہمارا مہمان ہے، وہ شیر غرایا اور چلا گیا، مہمان ڈر گیا، میزبان سے کہتا ہے سرکار یہ طاقت آپ نے کہاں سے حاصل کی؟ انہوں نے فرمایا تجھے طاقت سے کیا تو اپنا تلفظ درست کر اور اپنی نماز الگ پڑھا کر۔ مہمان کا نام تھا داتا گنج بخش رح آپ لکھتے ہیں کہ واقعہ میرے ساتھ ہوا۔
تو صورت اتنی سی ہے کہ روح کا تلفظ اور ہے اور آپ کے قلب کا تلفظ اور ہے۔ کیا مقفٰی ہونے سے اللہ زیادہ خوش ہوجاتا ہے اور کیا مرصع ہونے سے اللہ زیادہ خوش ہو جاتا ہے؟ سیدھا سادا “رب” ہے، پنجابی زبان والا “رب”کہو یا ہندی والا “رب” کہو تب بھی بات آسان ہے۔ اللہ کہتا ہے کہ جس طرح بھی پکارو گے میں تمہاری بات سمجھتا ہوں۔ صرف وہی تو ہے جو سمجھتا ہے۔اتنی عربی کافی ہے جتنی تم پڑھتے رہتے ہو۔۔
واصف علی واصف

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here