Khazaanoon say Bhary Khufiya Ghaar urdu Story

0
210

خزانوں سے بھرے خفیہ غار
جِن کا راز دنیا میں بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں !!
۔۔۔۔

ویسے تو دنیا بھر کا ادب سونے کے خزانوں کی کہانیوں سے بھرا ہوا ہے۔ لوک داستانوں میں بھی آپ کو ایسے قصوں کی بھرمار ملے گی جن کا تعلق کہیں چھپے ہوئے خزانوں اور ان کی تلاش میں نکلنے والے مہم جوؤں کی داستانوں سے ہے۔ لیکن ان میں سے کتنے حقیقی طور پر موجود ہیں اور کتنی کہانیاں ایسی ہیں جو واقعی حقیقی ہیں اور ان میں فرضی واقعات کا دخل نہیں۔

اس بارے میں شاید آپ کوئی بات حتمی انداز میں نہ جان سکیں کیونکہ ان خزانوں اور ان کہانیوں سے متعلق کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔ جو لوگ ان خزانوں تک پہنچے ہیں، وہ ان کے بارے میں تفصیلات بتانے سے احتراز کرتے ہیں۔ تاہم ان میں سے وہ کہانیاں جو ایریزونا کے سونے کے خزانے کے بارے میں ہیں، انکے بارے میں اس جیسی دوسری کہانیوں کی طرح کا ابہام موجود نہیں ہے۔
گو اس خزانے تک پہنچنے والے کم ہی زندہ واپس آسکے لیکن جو چند ایک زندہ لوٹنے میں کامیاب ہوئے، ان سے حاصل ہونے والی تفصیلات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ خزانہ واقعی موجود ہے کیونکہ انہوں نے اس عظیم خزانے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

اس خزانے کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ اس کی حفاظت ماورائی قوتیں کرتی ہیں اور اس کی تلاش میں جانے والا زندہ بچ کر واپس نہیں آتا۔ عام طور پر اس خزانے کی جگہ کو ’لوسٹ ڈچ مین مائن‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ غار ایسے پہاڑ میں موجود ہے جس کے بارے میں ایریزونا کے مقامی لوگوں میں کئی طرح کی توہمات موجود ہیں۔
1890ء سے پہلے تک اس خزانے کے بارے میں بہت سی کہانیاں مشہور تھیں لیکن کسی کو اس خزانے کے اصل مقام کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔ عام طور پر ایریزونا ہی کا نام لیا جاتا تھا لیکن ایریزونا تو بہت وسیع علاقہ ہے جس میں لاتعداد پہاڑ اور کھلے میدان ہیں۔ 1890ء ہی میں ایریزونا کے ریڈ انڈینز مہم جوؤں ہی نے اس غار کا سراغ لگایا۔ تب سے اب تک اس غار میں جانے والوں کی تعداد سینکڑوں پر مشتمل ہے جبکہ ان میں سے کم ہی زندہ لوٹے اور صرف انہی کو واپس آنا نصیب ہوا جن کو اس خزانے میں سے کچھ حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہو سکی ہے۔

اس غار کی حفاظت کی ذمہ داری اپاچی ریڈ انڈینز کے قبیلے نے سنبھالی ہوئی ہے۔ ان کے لیے یہ غار ایک مقدس جگہ ہے جس کی وہ پوجا پاٹ کرتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس میں ان کے دیوتا رہتے ہیں اور اس میں داخل ہونا اصل میں دیوتاؤں کی بے حرمتی کے مترادف ہے۔ اپاچی ریڈ انڈینز کے قبیلے ہمیشہ ان خرانوں کی حفاظت کے لیے وہاں مامور رہتے تاکہ اپنے دیوتاؤں کے اثاثے کو لالچی لوگوں سے بچا سکیں۔
یہ قبیلے غار کے اندر ہی رہتے اور خزانے کے ہرطرف سخت ناکہ لگائے رکھتے ہیں۔ اس ناکے کو توڑنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہا کیونکہ اپاچی ریڈ انڈینز کو غار کے سبھی راستوں کا علم تھا اور انہوں نے خزانے کی حفاظت کا ایسا نظام تیار کر رکھا تھا جس میں سے اپنے لیے بچاؤکی صورت پیدا کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس علاقے میں انگریز مہم جوؤں کے آنے سے بہت پہلے ہسپانوی مسیحی راہب پہنچے جنہیں مقامی لوگوں نے اس غار کے بارے میں بتایا لیکن انہوں نے بھی اس غار کی حرمت کی پاس داری کی اور اس میں داخل ہونے کی غلطی نہیں کی لیکن ایسی پاسداری انگریز فوجوں اور مہم جوؤں کے لیے ممکن نہیں تھی کیونکہ ان غار کے آس پاس سونے کی بہت باریک قلمیں عام مل جاتی تھیں اور اس بات میں کسی کو شک نہیں تھا کہ سونے کا منبع غار کے اندر ہی کہیں موجود ہے۔

اولین مہم جوؤں کی ہلاکت کے بعد لوگوں نے اس غار کا رخ کرنا چھوڑ دیا۔ بعدازاں ہسپانوی فوجوں نے جب اس علاقے کو فتح کیا تو ہسپانوی حکومت نے اس کے مختلف حصے بیچ دیئے۔ جس پہاڑ میں یہ غار موجود تھا، وہ سپین کے ایک رئیس ڈون میگوئل پیرالٹا نے خریدا۔ اس نے اپاچی ریڈانڈینز کی فوج کو شکست دینے کے لیے ایک مسلح ٹولہ تیار کیا اور غار پر حملہ کر دیا لیکن غار کے اندر جا کر انہیں علم ہوا کہ یہ اتنی پیچیدہ ہے کہ اس میں جا کر انسان گم ہو جاتا ہے اور اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپاچی قبیلے کے لوگ حملہ آوروں کو مار دیتے ہیں۔
ڈون میگوئیل بہت مشکل سے اپنی جان بچا کر نکلا۔ اس کے مسلح ٹولے میں سے کوئی کبھی غار سے باہر نہیں نکل سکا۔ ڈون میگوئل کی خزانے کی مہم کی تفصیل امریکہ کے معروف میگزین “دی وولچرز” میں چھپی تو اس خزانے کی شہرت امریکا اور اس سے باہر یورپ بھر میں پھیل گئی لیکن کسی مہم جو کو پھر بھی اس غار کا رخ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔

1871ء میں ڈون میگوئیل کے پوتے والٹر میگوئیل نے اپنے دو جرمن دوستوں کے ساتھ مل کر اس غار میں داخل ہونے اور خزانے تک پہنچنے کا منصوبہ بنایا۔ اصل میں اس کے ہاتھ ایسی شے لگی تھی جس نے اس کی کامیابی کو غار میں داخل ہونے والے سابقہ مہم جوؤں کی نسبت زیادہ یقینی بنا دیا تھا۔
یہ شے ایک نقشہ تھا جو اس کے داد ا نے غار میں اپنی ناکام مہم جوئی کے نتیجے میں تیار کیا تھا۔ یہ حتمی نقشہ نہیں تھا اور نہ ہی اس میں واضح راستوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ کیونکہ یہ نقشہ یادداشت کی بنا پر تیار کیا گیا تھا اور ایک ایسے شخص نے تیار کیا تھا جسے نقشہ جات کی تیاری کے بارے میں کچھ معلومات نہیں تھیں اور نہ ہی اس نقشے کو کبھی اس فن کے کسی ماہر کو دکھایا گیا تھا۔ لیکن اس نقشے سے غار کی اندرونی ساخت اور مختلف راستوں کے بارے میں خام انداز میں قبل از وقت علم ہو سکتا تھا اور یہی سہولت ایسی تھی جو اس سے پہلے غار میں داخل ہونے والے مہم جوؤں کو حاصل نہیں تھی۔

1872ء میں یہ تینوں دوست اسلحہ سے لیس ہو کر غار میں داخل ہوئے۔ وہاں انہیں جو کچھ پیش آیا‘ اسے والٹر میگوئیل نے تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب “Gold of Arizona” میں بیان کیا ہے۔
وہ بتاتا ہے کہ ان تینوں کو کسی بھی موقع پر کوئی اپاچی ریڈانڈین دکھائی نہیں دیا۔ شاید وہ غار میں رہنے کی وجہ سے بہت شرمیلے ہو گئے تھے اور انسانوں کے سامنے آنے سے کتراتے تھے یا پھر یہ بھی ان کے عقیدے کا ایک حصہ تھا کہ اس شخص کے سامنے نہیں آنا ہے جو ان کے دیوتاؤں کی بےحرمتی کی نیت سے آیا ہو لیکن ان تینوں پر ہر طرف سے تیر مسلسل برستے رہے اور انہیں اپنے آس پاس مختلف راستوں میں ریڈ انڈینز کی نقل و حرکت کا احساس ہوتا رہا۔ ان تیروں کی بوچھاڑ سے والٹر کے دونوں ساتھی گھائل ہوئے لیکن انہوں نے اپنا سفر موقوف نہیں کیا اور ایک دوسرے کی مدد سے ایسے مقام تک پہنچ گئے جہاں انہیں لگا کہ اس سے آگے سارے کا سارا پہاڑ سونے ہی کا بنا ہوا تھا کیونکہ انہیں آگے سونے کے علاوہ اور کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

وہاں ہر چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا پتھر سونے ہی کا بنا ہوا تھا۔ وہ اپنے ساتھ تھیلے لے گئے تھے جن میں انہوں نے وہ پتھر بھر لیے اور واپسی کے لیے بھاگے لیکن جوں جوں وہ غار کے دھانے کے قریب پہنچے تیروں کی بوچھاڑ میں بھی اضافہ ہوا اور وہ بمشکل ایک تھیلا ہی غار سے باہر تک لا پائے۔ جونہی وہ غار سے باہر نکلے، تیروں کی بوچھاڑ ایک دم سے موقوف ہوگئی۔
جیساکہ انہوں نے پہلے سے طے کر رکھا تھا انہوں نے وہ سونا آپس میں برابر تقسیم کرلیا۔ اس واقعے کے بعد والٹر میگوئل نے وہ علاقہ ہی چھوڑ دیا اور فرانس میں جا کر بس گیا۔ جتنا سونا وہ اپنے ساتھ لے آیا تھا وہ اگر چہ بہت کم تھا لیکن اس کی مدد سے اس نے وہاں نئے سرے سے ایک ٹھاٹھ کی زندگی شروع کی اور فارغ وقت میں اپنی مہم سے متعلق مضامین لکھ کر اخبار میں چھپواتا رہا جو بعدازاں کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے۔

تاہم اس خزانے سے فیضیاب ہونے والوں میں ایک ڈاکٹر ابراہام تھورنے بھی شامل تھا جو 1875ء میں ایریزونا کے مضافات میں تعینات تھا اور اسے اپاچی ریڈانڈینز کے چند افراد کا علاج کرنے کا اتفاق ہوا تھا۔ ایک موقع پر جب اس قبیلے کا سردار اتنا بیمار ہو گیا کہ جڑی بوٹیوں سے کئے جانے والے تمام علاج بےاثر ثابت ہوئے اور اس کے زندہ رہنے کی امید باقی نہ رہی تو انہوں نے ڈاکٹر ابراہام سے رجوع کیا تاکہ اگر کوئی امکان اس سردار کو بچانے کا ہو سکے تو ڈاکٹر ابراہام کے ذریعے اسے سامنے لایا جائے۔ ڈاکٹر ابراہام نے فوراً ہی مرض کو تشخیص کر لیا۔ مریض کو ایک زہریلے کیڑے نے کاٹا تھا اور اس سے اس کے جوڑوں اور اعصاب میں اینٹھن پیدا ہوئی تھی جس سے اس کی موت یقینی معلوم ہوتی تھی۔

ڈاکٹر ابراہام نے اسے زہر رفع کرنے والے انجکشن لگائے اور خون میں زہر کا اثر زائل کرنے کے لیے دوائیں دیں۔ مریض چند ہی دنو ں میں مرض کی سنگین کیفیت سے باہر نکل آیا۔ اس احسان کا بدلہ اپاچی قبیلے کو لوگوں نے ڈاکٹر ابراہام کو یوں دیا کہ اسے غار میں آنے کی دعوت دی اور اسے سونے کے ذخائر کے سامنے لا کر کہا کہ جتنا سونا وہ یہاں سے لے جا سکتا ہے، لے جائے۔
جو سونا ڈاکٹر ابراہام جیبوں میں بھر کر غار سے باہر لانے میں کامیاب ہو سکا، اس کی مالیت چھ ہزار ڈالر سے زیادہ تھی لیکن اس رقم نے ڈاکٹر ابراہام میں اس خزانے تک پھر سے پہنچنے کی خواہش بیدار کی جو دس سال بعد والٹر کی کتاب شائع ہونے کے بعد ممکن ہو سکی۔ اس نے فرانس میں جا کر والٹر کو تلاش کیا اور اس سے وہ نقشہ حاصل کیا جس کی مدد سے اس نے غار کے اندر جانے کا منصوبہ بنایا۔

اگلا مرحلہ ایسے افراد کا جتھہ تیار کرنا تھا جو مسلح ہو اور اس کے ساتھ غار میں داخل ہو کر سونا حاصل کرنے میں اس میں مدد کر سکے لیکن وہ جتھہ قابل اعتبار بھی ہونا چاہئے کہ سونا حاصل کرنے کے بعد وہ اسے ڈاکٹر کے حوالے بھی کر دے اور صرف اپنے حصے پر ہی نظر رکھے۔ یہ ایک مشکل مرحلہ تھا۔ اس مقصد کے لیے اس نے اپنے دو بھائیوں اور ملازموں کو اپنے ساتھ ملایا اور 1886ء کے دسمبر میں سخت سردی کے موسم میں ہر طرح سے تیار ہو کر وہ سب لوگ غار میں داخل ہو گئے۔
عجیب بات یہ ہوئی کہ انہیں کسی طرح کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہوا جس کا ذکر والٹر نے اپنی کتاب میں کیا تھا۔ تاہم وہ ہر طرح سے چوکس تھے لیکن ایک اور عجیب بات بھی ہوئی کہ غار میں نقشے کے مطابق کوئی راستہ نہیں تھا۔ یاتو والٹر نے ڈاکٹر ابراہام کو غلط نقشہ دیا تھا یا پھر اپاچی ریڈانڈینز نے نہایت چالاکی سے کام لیتے ہوئے غار میں موجود راستوں کے جال کی ترتیب تبدیل کر لی تھی۔

اس غار میں وہ راستوں میں بھٹک جانے کی وجہ سے رات بھر وہاں رکے۔ تمام رات انہوں نے جاگ کر گزاری لیکن صبح ہونے کے قریب وہ سو گئے بس یہی ان سے سب سے بڑی غلطی ہوئی جس کی انہیں بہت بھاری قیمت چکانی پڑی۔ صبح ان میں سے صرف ایک ہی فرد جو ڈاکٹر ابراہام کا چھوٹا بھائی تھا‘ زندہ بچا۔ اس نے یہ ہولناک منظر دیکھا کہ اس کے سبھی ساتھیوں کے گلے کٹے ہوئے تھے جبکہ ڈاکٹر ابراہام ان میں موجود نہیں تھا۔ وہ خوف کے عالم میں واپسی کے راستے کی طرف بھاگا اور دیر تک راستوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے کے بعد آخر غار سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس شخص کا نام آئزک تھورنے تھا۔ وہ ایریزونا سے فرار ہو کر سیدھا کیلی فورنیا پہنچا جہاں وہ اگلے کئی سال تک خوف کے مارے خاموش رہا۔

1899ء میں جب وہ کینسر کی وجہ سے بستر مرگ پر تھا اس نے اخبارات کے صحافیوں کو اپنے گھر مدعو کیا اور انہیں تیرا سال پہلے ایریزونا میں پیش آنے والے واقعات تفصیل کے ساتھ بیان کئے۔ یہ سارا واقعہ امریکا کے معروف روزنامہ واشنگٹن پوسٹ میں تفصیل کے ساتھ چھپا اور یوں ایک بار پھر سے ایریزونا کے سونے کے خزانے والا معاملہ میڈیا میں خوب زور و شور سے زیر بحث آیا۔ اس کے بعد نہ کبھی ڈاکٹر ابراہام کی گمشدگی کے بارے میں ہی کسی کو کچھ علم ہو سکا اور نہ صرف اس نقشے کا ہی کوئی سراغ ملا جو ڈاکٹر ابراہام کے پاس تھا اور جو اس نے پیرس میں والٹر سے حاصل کیا تھا۔

1903ء میں نیویارک ٹائمز میں معدوم ہوجانے والے اپاچی قبیلے کے ایک فرد کے انٹرویو نے ایک بار پھر ایریزونا کے غار کے بارے میں لوگوں کی توجہ کو اپنی جانب کھینچا۔ اس شخص کا نام جیک اپاچی تھا اور اس کا تعلق اس مسلح جتھے سے تھا جس کے فرائض منصبی میں غار کے سونے کے ذخائر کی حفاظت کرنا شامل تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ان ذخائر کو غار کی گہرائیوں میں غرق کرنے میں بھی لگے رہتے تھے۔ جن کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ وہاں ان کے دیوتاؤں کا مسکن تھا اور جو ناراض ہو سکتے تھے اگر انہیں مسلسل سونے کی خوراک نہ ملے۔ ایک بار جب اس مسلح جتھے کے چند افراد نے سونے کو حاصل کر کے وہاں سے فرار ہونے کا منصوبہ بنایا تو انہیں دیوتا کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا اور یہی اپاچی قبیلے کا اختتام بھی تھا۔

دیوتاؤں نے ناراض ہو کر آتش فشاں کا دھانا کھول دیا اور ایسا زلزلہ اس علاقے میں آیا جس نے غار سمیت ہر شے کو تہس نہس کر دیا۔ یوں وہ غار ہمیشہ کے لیے زمین کی گہرائیوں میں غرق ہو گئی۔ جیک اپاچی اپنے قبیلے میں سے بچ نکلنے والے چند افراد میں سے ایک تھا جو نیویارک میں آکر آباد ہوا اور اس نے مزدور کی حیثیت سے اپنا کیریئر شروع کیا۔ جیک اپاچی کو نیویارک کے مقامی ٹی وی سٹیشن نے بھی مدعو کیا اور اس سے طویل انٹرویو کیا۔ اس انٹرویو کو اس سٹیشن کے علاوہ کئی اور ٹی وی سٹیشنوں سے بھی نشر کیا گیا۔ اس کے بعد مختلف موقعوں پر کئی ایک مہم جوؤں نے یہ دعوی کرتے ہوئے کہ انہیں ایریزونا کے غار کا اصل نقشہ ہاتھ لگا ہے‘ اس غار کی تلاش کی لیکن کسی کو اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

ایریزونا کے غار آج بھی دنیا بھر کے مہم جوؤں کے لیے ایک راز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ اسطورہ عوام میں اتنا مقبول ہوا کہ اس پرہالی و وڈ نے ایک فلم بھی بنائی جس کا نام “کنگ سولومنز مائنز” رکھا گیا۔ اس فلم کی کہانی اصل میں والٹر اور ڈاکٹر کو پیش آنے والے واقعات کو بنیاد بنا کر ترتیب دی گئی تھی۔ ہوسکتا ہے کبھی یہ راز دنیا کے سامنے خود کو آشکار کرے اور کوئی مہم جو ایریزونا کے غار تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے۔

لیکن اگر کوئی ایسا مہم جو وہاں تک پہنچ جاتا ہے تو کیا اسے واقعی وہاں سونے کا خزانہ ملے گا، اور کیا واقعی وہ اس کے بارے میں کچھ بتانے کے لیے غار سے باہر آپائے گا؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here