نظر حیران، دِل ویران، میرا جی نہیں لگتا

0
68

نظر حیران، دِل ویران، میرا جی نہیں لگتا

نظر حیران، دِل ویران، میرا جی نہیں لگتا
بچھڑ کے تم سے میری جان! میرا جی نہیں لگتا

کوئی بھی تو نہیں ہےجو،پُکارے راہ میں مجھ کو
ہوں میں بے نام اِک انسان، میرا جی نہیں لگتا

ہے اِک انبوہ قدموں کا رواں ان شاہراہوں پر
نہیں میری کوئی پہچان، میرا جی نہیں لگتا

جہاں ملتے تھے ہم تم اور جہاں مِل کر بچھڑتے تھے
نہ وہ دَر ہے، نہ وہ دالان، میرا جی نہیں لگتا

ہوں پہچانے ہوئے چہرے تو جی کو آس رہتی ہے
ہوں چہرے ہجر کے انجان، میرا جی نہیں لگتا

یہ سارا شہراک دشتِ ہجومِ بے نیازی ہے
یہاں کا شور ہے ویران، میرا جی نہیں لگتا

وہ عالم ہے کہ جیسے میں کوئی ہم نام ہوں اپنا
نہ حِرماں ہے نہ وہ درمان، میرا جی نہیں لگتا

کہیں سر ہے کہیں سودا، کہیں وحشت کہیں صحرا
کہیں میں ہوں، کہیں سامان، میرا جی نہیں لگتا

میرے ہی شہرمیں،میرے محلہ میں،میرے گھر میں
بُلا لو تم مجھے مہمان،میرا جی نہیں لگتا

میں تُم کو بھول جاؤں،بھُولنے کا دُکھ نہ بھُولوں گا
نہیں ہے کھیل یہ آسان، میرا جی نہیں لگتا

کوئی پیمان پورا ہو نہیں سکتامگر پھر بھی
کرو تازہ کوئی پیمان،میرا جی نہیں لگتا

کچھ ایسا ہے کہ جیسے میں یہاں ہوں ایک زِندانی
ہیں سارے لوگ زنداں بان،میرا جی نہیں لگتا

جون ایلیا

امامہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here