Uljhi Suljhi si Kahani Urdu Novel 03 Episode

0
326

Uljhi Suljhi si Kahani Urdu Novel 03 Episode by Areesha Abid

الجھی سلجھی سی کہانی

تیسری قسط۔

اس کا میٹرک کا رزلٹ آیا تو سب حیران تھے کیونکہ اس نے A گریڈ سے پاس کیا تھا۔

پھر بھی پھوپھو کو موقع مل گیا نکتہ چینی کا کہ ان کی کوئی سسرالی رشتے دار کی بیٹی نے تو A+ سے پاس کیا ہے اور کچھ ہی دن بعد اسی سسرالی رشتے دار نے امی کو کال کر کے مبارکباد دی کہ آپ اسے A+ سمجھیں 

” جن حالات اور زہنی مشکلات میں اس بچی نے پیپر دے ہیں یہ A  نہیںA+ گریڈ ہے، اچھے اچھوں کے ہوش اڑ جاتے ہیں فیل ہوجاتے ہیں آپ کی بیٹی نے تو پھر بھی اتنے اچھے نمبروں سے پاس کیا ہے”

“جی بہن اللّٰہ کا کرم ہے کہ اس نے اسے کامیاب کیا”

اب کیپ فارم پر کرنے تھے جس پر پھوپھو کی ضد تھی کہ آرٹس لو اس نے سائنس لی کیونکہ سائنس اس کا جنون تھا۔

پھوپھو

“کیا کرو گی سائنس لے کر اتنا پڑھ تو نہیں سکتی وہ میری سسرالی رشتے دار کی بیٹی نے بھی سائنس لی ہے لیکن وہ بچی پڑھنے والی ہے اس کا باپ ڈاکٹر بنانا چاہتا ہے اسے”

“میں بھی ڈاکٹر ہی بننا چاہتی ہوں پھوپھو میری بچپن کی خواہش ہے اور پپا بھی چاہتے تھے”

پھوپھو،

“لیکن پپا تو اب نہیں رہے اور لاکھوں روپے کون لائے گا ڈاکٹری پڑھنے کے لیے لاکھوں روپے لگتے ہیں ہم کہاں سے بھریں گے؟”

“ڈاکٹر نہ سہی مگر میں کچھ بھی پڑھ لوں گی سائنس کے شعبے میں ہی لیکن سائنس میرا جنون ہے۔”

پھوپھو،

“اچھا! دیکھ لو مرضی ہے باقی آرٹس لے لو تو اچھا ہے ہم نے بھی آرٹس ہی پڑھی ہے.”

اس نے نظر انداز کر کے وہی کیا جو اس کا دل تھا۔

امی کی عدت ختم ہوگئی تھی اور انہیں رسم کے مطابق اپنے میکے جانا تھا۔

اتنے سالوں میں امی 4۔ 5 بار ہی میکے گئی ہوں گی۔

ابھی بھی ان کو بھیجنے میں دادو پھوپھو آنا کانی کر رہی تھی۔

لیکن جب امی کے بھائی لینے آگے تو انہیں بھیجنا پڑا۔

ننھیال آکر وہ بہت خوش ہوئی کیونکہ کافی سال پہلے ماموں کی شادی پر آئی تھی تب اور اب کے درمیان 7 سال گزر گئے تھے۔

یہاں اس نے ماموں کی بیٹی سے دوستی کی وہ بھی اس سے تھوڑی فری تو ہوئی لیکن وہ اکثر عایشہ کو اگنور کرتی جو اس نے محسوس نہیں کیا کیونکہ اپنے ددھیال کی دور پرے کی ساری ہم عمر کزنز بہت  اچھی دوست تھی اور کسی قسم کی کوئی جیلسی بھی نہیں تھی سب ساتھ کھیلتی ساتھ باتیں کرتی کوئی ایک کو بھی اکیلا نہیں چھوڑتی تھیں۔

جبکہ ماموں کی بیٹی ماہا کا رویہ بہت عجیب سا تھا اس کے ساتھ۔

موڈ ہوتا تو بہت بات کرتی نہیں ہوتا تو ایسے اگنور کرتی جیسے عایشہ موجود ہی نہ ہو۔

اس بیچ چھوٹی خالہ اوران کی بیٹیاں اس کو ماہا سے بات کرتے دیکھ ایک دوسرے کو آنکھوں آنکھوں میں اشارے کرتی جس کی اصل کہانی اسے بعد میں جاکر پتہ چلنی تھی۔

وہ کافی دن گزارنے آے تھے اس دوران اس کی ماموں کے سب سے بڑے بیٹے بلال سے اچھی دوستی ہوگئی اس کو ہمیشہ سے بڑے بہن بھائی کا بہت شوق تھا۔

وہ بلال بھائی کے اندر اپنے پپا والی فیلنگ ایک بڑے بھائی کے طور پر محسوس کرنے لگی۔

یہ کچھ دنوں میں دادو پھوپھو نے کافی فون کیے جس میں عایشہ اور فیصل دونوں بہن بھائی کو تنبیہ کی گئی کہ وہاں رو دھو کر امی کو بولیں کہ گھر چلو ہمیں نہیں رہنا یہاں۔

جسے دونوں بہن بھائی بار بار ٹال مٹول کردیتےتھے کیونکہ اتنے سالوں میں ان دونوں کو وہاں اچھا لگ رہا تھا وقت گزرنا۔

واپس آکر دونوں بہن بھائی نے دادو پھوپھو سے خوب باتیں سنیں کہ اتنے سال ہم نے پالا جنہوں نے کبھی پوچھا تک نہیں ان کے گھر جا کر ہماری بات رد کردی۔

دو تین دن یہ سب رہا پھر نارمل ہوگیا۔

عایشہ کے کالج کے شروع ہونے پر نئے مسائل کھڑے ہوگئے دادو پھوپھو اکیلے جانے نہیں دینا چاہتی تھی مگر امی کا کہنا تھا کالج گھر سے پیدل کی واک پر ہے لیکن وہ تیار نہیں تھیں، پھوپھو تو بار بار آرٹس کے پیچھے پڑ جاتی کہ آرٹس لے لیتی اب کون لانا لے جانا کرے گا پپا تو رہے نہیں۔

زبردستی کر کے وین لگادی گئی وہ سوچتی امی کے پاس پیسے تو ہیں نہیں کہاں سے بھریں گے وین کی فیس لیکن پھوپھو دادو مان کر نہیں دیں مجبوراً امی نے وین کی ہامی بھرلی کہ کرلیں گے کچھ نہ کچھ۔

آج وہ اپنے معمول کے ٹائم سے تھوڑا لیٹ ہوگئی تھی۔

وین والے انکل نے اسے پہلے چھوڑنے کے بجائے دوسری ایک لڑکی کو پہلے ڈراپ کیا جو کافی دور گھر تھا۔ 

گھر میں آتے ہی دادو نے باتیں سنانی شروع کر دی 

“کہاں تھی اتنی دیر”

“دادو وین دوسری لڑکی کو ڈراپ کرنے چلی گئی تھی اس کا گھر دوسرے ایریا میں تھا جس کی وجہ سے لیٹ ہوگئی”.

“اب بیوقوف بھی بناؤ گی کالج دور ہی کتنا ہے اور تم اب آرہی ہو”.

تب امی نے مداخلت کی

“پیدل تو آی نہیں ہے وین میں ہی آی ہے تو یقیناً وین والے کی وجہ سے ہی لیٹ ہوگئی ہے”

دادو چپ کر گئی لیکن اسے بہت عجیب لگا پہلے کبھی کسی نے اس پر ایسے شک نہیں کیا تھا۔

وقت کا کام ہے گزرنا وہ اپنی رفتار سے رواں دواں تھا۔

بھائی کے اسکول میں بھی نئی کلاسز کا آغاز ہوچکا تھا وہ 4th کلاس پاس کر کے 5th میں گیا تھا اب۔

آئے دن کوئی نہ کوئی بدمزگی ہوجاتی تھی پر وقت گزر رہا تھا کوئی بڑی بات نہیں ہوئی تھی۔

شاید سکون آگیا تھا زندگی کو۔

لیکن ہی صرف اس کی سوچ تھی وقت اور حالات کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا کب کیا ہوجاتا ہے انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔

ابھی بہت سے مرحلے باقی تھی جو عایشہ کے وہم و گمان میں نہ تھے وہ بس اپنی کالج اور گھر کی روٹین میں مصروف  تھی۔

امی نے ماموں کے گھر عایشہ اور فیصل کو لے کر اکیلے جانے کی بات کی، وہاں سے انہیں اپنے بھائی کی فیملی کے ساتھ دوسرے شہر بائی روڈ جانا تھا، امی کے جاننے والوں میں انتقال ہوا تھا اور وہ لوگ پپا کے عیادت کرنے اتنی دور سے آئے تھے، تو امی نے بھی جانے کی ضد باندھ لی۔

 جس پر دادو نے کافی ھنگامہ کیا شام تک پھوپھو بھی آگئی اور پھر دونوں مل کر امی کو کنوینس کرنے لگی کہ یا تو وہ اپنے بھائی کو بولیں کے وہ ان کو آکر لے کر جائیں یا وہ دادو یا پھوپھو کے ساتھ جائیں وہ ان کو چھوڑ کر آجائیں گی۔

لیکن امی نہ مانی۔

“تم تن تنہا اکیلی کیسے جاسکتی ہو بھائی کو بولو آکر لے جائیں”

“میں کوئی بچی نہیں ہوں اتنے بڑے بچوں کی ماں ہوں اور میرے بھائی کوئی فارغ نہیں بیٹھے کہ اتنی دور آکر لے کر جائیں اور میں تو صبح کے ٹائم جاؤں گی تم تو شام کے ٹائم تن تنہا بس سے اکیلی اتنی دور آگئی تو کچھ نہیں ہوا بس جو انہونی ہوگی میرے ہی انتظار میں ہوگی جیسے۔ اتنے بڑے بچوں کے ساتھ ہوں گی میں کوئی تنہا نہیں”

غصے میں امی نے دونوں کو باتیں سنائیں وہ بھی 15 سال میں پہلی بار، دونوں خاموش تو ہوگئی کیونکہ امی نے پھوپھو کے اکیلے آنے پر طعنہ دیا تھا لیکن قائل نہیں ہوئی تھی۔

اگلے دن امی دونوں بچوں کو لے کر نکلنے لگی تو دادو پھوپھو کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کیسے روکیں لیکن دونوں کے منہ بری طرح بنے ہوئے تھے۔

امی نے بھی نظر انداز کیا اور باہر نکل گئی بچے لے کر۔ 

دادو پھوپھو خاموشی سے کھرآلود نظروں سے امی کو جاتا دیکھتی رہیں لیکن یہ خاموشی طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔

……جاری ہے

پچھلی قسط پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

اگلی قسط کے لیئے یہاں کلک کریں

 

از قلم: عریشہ عابد

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here