Uljhi Suljhi si Kahani Urdu Novel

0
300

Uljhi Suljhi si Kahani Urdu Novel First Episode by Areesha Abid

الجھی سلجھی سی کہانی

پہلی قسط

لوگوں کا ہجوم تھا ہر کوئی اسے چپ کرانے کی کوشش کررہا تھا مگر وہ روے جارہی تھی۔

کسی نے کہا چہرہ دیکھ لو اس نے دیکھا وہ ہستی جو اس کا سب کچھ تھے اب نہیں رہے،اسے چھوڑ کر جارہے تھے۔

اچانک اس نے چیخ چیخ کر رونا شروع کر دیا

اس دوران اسے لگا کسی نے جھنجھوڑا ہے آنکھ کھلی تو امی پاس بیٹھیں پوچھ رہی تھی

“کیا ہوا اچھے کیوں رو رہی ہو کیا دیکھ لیا خواب میں”

وہ آنکھیں پھاڑے انہیں دیکھ رہی تھی اسے بولا نہیں جا رہا تھا۔

پھر ہمت کر کے اس نے کہا،

“امی پپا پپا کو

امی پپا چلے گئے” 

امی

“کہاں چلے گئے؟”

“امی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے دیکھا کہ پپا۔ ۔ ۔ ۔ “

اس سے آگے اس سے بولا نہیں جا رہا تھا۔

“امی میں نے میت دیکھی ہے اور وہ پپا۔ ۔ ۔ ۔ ۔”

یہ کہہ کر اس نے رونا شروع کر دیا۔

امی نے سمجھتے ہوئے کہا،

“دیکھو بیٹا کسی کی موت دیکھتے ہیں تو اس کی زندگی بڑھتی ہے،

ڈرو نہیں پپا کو کچھ نہیں ہوگا”

امی کی اس بات پر اسے تھوڑا سکون آیا لیکن ڈر ابھی بھی اپنی جگہ تھا۔

اسے یہ بات بہت عجیب لگتی تھی کہ جب سے پپا نے پھوپھو سے پیسے ادھار لیے تھے پھوپھو ہر دوسرے دن ان کے گھر آکر ان کی کوئی نہ کوئی چیز پر طعنہ دیتی تھی۔

جبکہ وہ اپنا قرض اتارنے کے لیے پپا کی اپنی جاننے والی کے پاس کمیٹی ڈلوا چکی تھی کہ جب بھی پپا کا نمبر ہوگا جو پیسے آئینگے وہ سارے پھوپھو لینگی۔

لیکن آئے دن ان کا آنا اور نکتہ چینی عائشہ کو بہت برا لگتا تھا۔

پھر قرض پپا پرچڑھا بھی تو کس لیے ان کی اپنی ماں بہن کی شوشا اور دیکھاوے کی وجہ سے۔

دو سال پہلے جب ابا (عائشہ کے دادا) کا انتقال ہوا تو یہی پھوپھو اور دادی کے قول تھے کہ کچھ بھی کرو ہمارے ابا کا جنازہ سویم اور دیگر (نام نہاد) رسومات شان سے ہونی چاہیے۔

تب پپا نے اپنے کریڈٹ کارڈ کا استعمال کر کے جہاں جہاں جو جو وہ دونوں کہتی گئی خرچ کرتے جاتے۔

اس کے بعد چاچو کو گاڑی لینی تھی قسطوں پر لے تو لی  پیسے اتارنے کے لئے یہی پپا کا کریڈٹ کارڈ استعمال کیا گیا۔

پھر جب بینک سے فون آنا شروع ہوئے تو گالیاں پپا نے سنی کہ بچوں کو بےجا چیزیں دلاتے ہیں خرچ کرتے بچوں پر فضول۔

ایک بینک کے پیسے تو پھوپھو سے لے کر ادا ہوگئے،

لیکن پھوپھو نام کی تلوار ہمارے سروں پر لٹک گئی۔

ہم پر پپا کا پیسہ خرچ ہوتا تو ان کو بہت کھلتا لیکن خود ہر دوسرے تیسرے دن ان کو ان کے بیٹے کو کپڑے، جوتے، کھانے پینے کے مہنگے آئیٹم، کھلونے اور اس طرح کی بے شمار اشیاء سے انصاف کرتے دیکھ عایشہ سوچتی تھی کہ اگر وہ بہن بھائی کچھ لیں تو فضول خرچ ہے تو یہ سب کس زمرے میں آتا ہے؟

زندگی اپنی رفتار سے رواں دواں تھی۔

آج پھر اس نے پھوپھو سے کیڈبری چاکلیٹ کھانے پر گھنٹہ بھر باتیں سنیں تھیں کہ ان بہن بھائی کو تو باپ کا احساس نہیں خرچہ کرواتے ہیں قرضے باپ بھگتتا ہے۔

آج اس نے پپا سے بات کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا

“پپا آپ بھائی کو جو دلاتے ہیں دلائیں لیکن میں آج کے بعد کوئی چیز نہیں لونگی”

پپا اس کا چہرہ دیکھ کر حیران رہ گئے جو آنسو روکنے کی کوشش میں بےحال تھی۔

“کیوں کیا ہوا بیٹا ایسا”

“پپا پھوپھو اور دادو آئے دن طعنے دیتی ہیں کہ آپ کے اوپر ہماری وجہ سے قرض چڑھ گیا ہے”

پپا نے اسے پاس بٹھایا اور کہا،

“دیکھو بیٹا دادو کی بات کا برا نہیں منائیں کیونکہ وہ وہی بولتی ہیں جو پھوپھو کہتی ہیں، رہی بات پھوپھو کی۔ ۔ ۔ تو ایسا ہے کہ پھوپھو کے پاس بہت پیسہ ہے لیکن اس پیسے کو وہ نہ خرچ کرسکتیں ہیں نہ اپنی خواہشات پوری کرسکتیں ہیں، ۔ ۔ ۔ وجہ ان کی حد سے زیادہ حسد ہے کہ اگر میں خرچ کروں گی تو مجھے سسرال میں سب کو بھی دینا ہوگا اپنی اس سوچ کی وجہ سے وہ خود بھی جلتی ہیں دوسروں کو بھی جلاتی ہیں۔

انسان کسی کو نہیں دیتا اللّٰہ دیتا ہے اس لیے جو وہ کہتی ہیں خاموشی سے برداشت کرلیا کرو۔

جو میں تم لوگوں کے لیے کرتا ہوں وہی ان کے اور ان کے بچے کے لیے کرتا ہوں میرے لیے سب برابر ہیں۔

تمہارے نزدیک اہم یہ ہونا چاہیے کہ تمہارے پپا تمہیں خوش رکھیں اور دوسروں کو بھی، تم اس بات پہ دھیان مت دو، بولتی ہیں بولنے دو، بس یہ سمجھ لو ہم کسی کو نہیں کھلاتے اللّٰہ کھلاتا ہے اور وہی وسیلہ بناتا ہے۔”

پپا کی اس بات سے اسے تھوڑا سا دل بہل گیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ آیندہ دادو پھوپھو کی کوئی بات جو بری محسوس ہو نظر انداز کردے گی۔

آج 17 اپریل تھی دو دن بعد 19 اپریل کو اس کی سالگرہ تھی۔

آج کل اس کے میٹرک کے امتحانات بھی جاری تھے۔

پہلا پیپر وہ پپا کے ساتھ جا کر دے آئ تھی دوسرے پیپر میں پانچ دن کا گیپ تھا اور جو اسلامیات کا تھا وہ رلیکسڈ تھی کہ تیاری بہت اچھی کی ہوئی تھی۔

آج کل اس کی آنکھوں میں انفیکشن ہوگیا تھا جو ایک دن تو رہنا تھا، آنکھیں لال ہورہی تھی جو وہ ٹیوب لگا کے تکلیف دور کر رہی تھی۔

17 اپریل کی رات تھی کوئی 10 بج رہے تھے

وہ اپنے پپا کے ساتھ بیٹھی کامیڈی فلم دیکھ رہی تھی۔

اس کے پپا میں اس کی جان تھی، وہ جب آفس سے آتے وہ ایک منٹ انہیں اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔

ان کے پاس ہی بیٹھی رہتی تھی پھر چاہے دادو لاکھ برا بھلا کہتیں وہ ایسے بن جاتی جیسے کچھ سنا ہی نہیں ہو۔

ابھی بھی وہ پپا کے پاس بیٹھی فرمائش کر رہی تھی 

“پپا مجھے اس برتھ ڈے پر موبائل فون چاہیے”

“موبائل؟ کیوں؟ گھر میں ٹیلی فون ہے ناں آپ کو جسے بھی کرنا ہو کر لینا”

“پپا دادو مجھے دوستوں سے بات نہیں کرنے دیتی جب کام سے بھی فون کرنے کی ضرورت ہو تو وہ کہتی ہیں نہیں بل آتا ہے کوئی ضرورت نہیں اور پھوپھو سے وہ سارا دن بات کرتی ہیں۔ لیکن مجھے ایک فون بھی نہیں کرنے دیتی”

“بیٹا آپ میرا فون لے لیا کرو جب بھی ضرورت ہو.”

لیکن پپا آپ ہر وقت تو نہیں ہوتے ناں کبھی آپ کی غیر موجودگی میں ضرورت ہو تو وہ بہت باتیں سناتی ہیں ایک فون کرنے پر بھی”

“اچھا دیکھتے ہیں میں پرامس نہیں کر رہا لیکن دیکھیں گے”

وہ اسی بات سے خوش ہو گئی۔

“اوکے پپا تھینک یو”

رات کو 12 بجے پپا اپنے دوستوں سے ملنے اور ٹائم گزارنے باہر چلے گئے۔

یہ ان کی روز کی روٹین تھی، شادی کے شروع میں امی نے کوشش کی کہ سمجھائیں لیکن دادو پھوپھو نے وہ ہنگامہ مچایا کہ ہمارے بھائی کو قید میں ڈالنا چاہتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

تو امی پھر خاموش ہو گئی۔

کہتی بھی تو کیا 15 سال میں ان کے باپ بھائیوں نے چند مرتبہ ہی چکر لگایا تھا جیسے بہن بھا کر کوئی بوجھ اتارا ہو،ماں تو تھیں نہیں جو بیٹی کی خبر لیتیں وہ تو کب کی اللّٰہ میاں کو پیاری ہوچکی تھی۔

رات کے کوئی 1 بج رہے تھے پپا واپس آئے بائیک اندر رکھی اوپر روم میں آکر گرنے کی حالت میں بیٹھ گئے۔

پپا ہارٹ اور شوگر پیشنٹ تھے اور بائی پاس سرجری بھی ہو چکی تھی ان کا بی پی بھی ہائی رہتا تھا۔

امی٬

“کیا ہوا آپ کو طبعیت ٹھیک تو ہے ناں”

پپا،

“نہیں گھبراہٹ ہورہی ہے ایسا لگتا ہے گیس ہوگئی ہے”

امی نے ان کو گیس کی دوائی اور سیرپ وغیرہ دیا۔

وہ کونے میں آنکھوں میں آئی انفیکشن ٹیوب ڈالے لیٹی سوچ رہی تھی کہ جلدی سے 5 منٹ گزریں اور وہ آنکھیں کھول کہ پپا کو دیکھ سکے ہاتھ پیر دبا سکے کیونکہ امی نے کہا تھا پانچ منٹ بعد آنکھیں کھولنا۔

پپا کی حالت بگڑنے لگی

اچانک وہ غصے میں بولے

“کیسی بیٹی ہو میری حالت خراب دیکھ کر بھی آنکھیں بند کر کے لیٹی ہو”

“نہیں نہیں پپا میں نے ٹیوب لگائی ہے”

وہ ٹیوب والی آنکھیں کھول کر ٹشو سے صاف کر کے ان کے پاس آکر بیٹھ گئی۔

“سوری بیٹا مجھے درد میں سمجھ نہیں آیا”

“سوری نہیں بولیں پپا آپ بتائیں میں دادو کو بولوں کہ چاچو سے کہہ کر ڈاکٹر کو بلادیں؟”

“نہیں نہیں امی کو نہیں بلاؤ وہ بنا بات کے طعنے دینگی، قرضے کی بات اٹھائینگی۔”

اسی طرح تڑپتے آدھا گھنٹہ ہوگیا اچانک پپا بولے،

 “بلالو چاچو کو۔”

وہ بھاگی فوراً جاکے بولا ڈاکٹر کا دادو قرضے کی بات شروع ہوئی تو اس نے ہاتھ جوڑ کر کہا ابھی نہیں خدا کے لیے ان کی حالت خراب ہے پلیز۔

اتنے میں پپا امی کے ساتھ نیچے اترے ان کا سہارا لے کر، چاچو تب تک پپا کے ایک دوست کو لے آئے ان کی گاڑی میں پپا کو لے جانے کے لیے۔

دادو نے امی کو ہٹایا کہ میں جاؤں گی، تب پپا نے منع کیا،

“نہیں اس کو جانے دو میری دوائی اور ساری کیس ہسٹری اس کو پتہ ہے”

تب وہ پیچھے ہٹیں۔

پپا کے جانے کے بعد وہ بھائی کو لے کر دادو کے پاس آگئی۔

دادو نے پھوپھو کو فون لگایا کہ پپا کو ہاسپٹل لے کر گئے ہیں۔ پھر وہ بھی ان کے پاس آکر لیٹ گئی۔

14 سال کی وہ ہونے جارہی تھی 18 اپریل لگ چکی تھی۔

ساری زندگی وہ گھر اور اسکول کے گرد ہی رہی تھی۔

اس نے دادو پھوپھو کو جو بھی منتیں مانگتے دیکھا تھا وہ وہی سب دھرانے لگی

کہ بس کیسے بھی کر کے اللّٰہ میاں اس کے پپا کو ٹھیک کردیں۔ اس کے پپا ٹھیک ہو جائیں

واپس آجائیں جلدی سے۔

2:30 بجے دعائیں اور سورتیں پڑھتے اس کی آنکھ لگ گئی۔

بہت دور سے شور اور چیخ پکار کی آوازوں نے اسے ہوش کی دنیا میں کھینچنا شروع کر دیا۔

آہستہ آہستہ آنکھیں کھلی تو یاد آیا پپا ہاسپٹل گئے تھے۔

پھر یہ شور کیسا چیخ پکار کیسی؟

…..جاری ہے

اگلی قسط کے لیئے یہاں کلک کریں

ازقلم عریشہ عابد

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here