Uljhi Suljhi si Kahani Urdu Novel 05 Episode

1
225

Uljhi Suljhi si Kahani Urdu Novel 05 Episode by Areesha Abid

الجھی سلجھی سی کہانی

پانچویں قسط

صبح امی نے اسے کالج جانے نہیں دیا اور ساتھ لے کر پپا کے آفس پہنچ گئی۔

وہاں جا کر پتہ چلا کہ صبح سے پھوپھو اور پھوپھا نے آفس والوں کا فون کر کر کے دماغ خراب کیا ہوا تھا اور دھمکیاں دے رہے تھے کہ اگر امی کو جاب دی گئی تو وہ لوگ بہت برا کرسکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

یہ سن کر امی جی ایم کے سامنے رو پڑھیں۔

وہ جی ایم بہت اچھی عورت تھی پپا کے ساتھ بہن بھائی جیسا تعلق تھا۔

“آپ فکر نہ کریں بہن ہم آپ کو نوکری ضرور دیں گے۔ لیکن میرا مشورہ مانیں تو ابھی آپ اپنے ابو کے گھر چلی جائیں ورنہ یہ لوگ جہالت میں کچھ بھی کرسکتے ہیں۔”

“لیکن ان بچوں کے کالج اسکول کا کیا ہوگا؟”

ایک ہفتے کی لیو لے لیں لیکن فل حال یہاں مت رہیں ان لوگوں سے کچھ بعید نہیں”

پپا کے آفس اسٹاف نے ان لوگوں سے بہت اچھا برتاؤ کیا اور پپا کا کیبن وغیرہ بھی دکھایا جسے دیکھ کر ان کی آنکھیں بھر آئیں۔

راستے میں امی نے فیصلہ کرلیا کہ انہیں آج دونوں بہن بھائی کو لے کر گھر سے نکلنا ہے نہیں تو ان لوگوں کا واقعی کوئی بھروسہ نہیں ہے۔

راستے سے ہی امی نے ان لوگوں کے لیے کھانا پیک کروایا تاکہ گھر جا کر یہ لوگ الگ ہی کھائیں دادو کی بات امی کے دل پر جا کر لگی تھی اس لیے وہ اب ان سے کچھ نہیں لینا چاہتی تھی۔

گھر پہنچنے پر سب کے منہ بنے ہوئے تھے اور امی کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہے تھے۔

امی ان دونوں کو لے کر اوپر آگئی۔

کھانے سے فارغ ہو کر امی نے اپنی بہن کو پپا کے موبائیل فون سے کیا اور سارا واقعہ بتایا۔

یہ بھی شکر تھا کہ پپا کا موبائیل فون ان کے پاس تھا ورنہ پی ٹی سی ایل پر تو دادو نے لاک باکس لگایا ہوا تھا جس کی چابی صرف ان کے پاس ہوتی تھی کی کہیں امی اپنے گھر والوں سے بات نہ کرلیں ان کی غیر موجودگی میں۔

“آپی اب آپ ہی بتائیں کیا کیا جائے؟”

“میں انور کو بھیج رہی ہوں تم پہلے بالکنی سے ضرورت کا سامان پھینک دینا پھر نیچے آنا ورنہ یہ لوگ سامان کے ساتھ دیکھ کر تمہیں روکنے کے لیے ہنگامہ کریں گے، تمام ڈاکیومنٹ اور ضروری کاغذات لے کر نکلنا”

“سہی ہے آپی آپ انور کو بھیج دیں”

امی نے جلدی جلدی تمام کاغذات اور ڈاکیومنٹ پیک کیے ان دونوں بہن بھائی کے چند کپڑے اپنے کپڑے پیک کر ک بڑے دو بیگ تیار کرلیے۔

انور نے آکر مس بیل دی تو امی نے پہلے بالکنی سے بیگ پھیکے جسے اس نے آرام سے کیچ کرلیا پھر دونوں بہن بھائی کو لے کر نیچے اتری دادو پھوپھو سمجھیں کہ ایسے ہی باہر جارہے ہیں اس لے روکا نہیں ورنہ بہت بڑا ہنگامہ ہوتا۔

محلے کی ایک آنٹی نے امی کو بیگ پھینکتے دیکھ لیا تھا ان لوگوں کے نکلتے ہی انھوں نے جاکر دادو پھوپھو کو بول دیا جس پر پورا راستہ فون بجتا رہا مگر امی نے نہ اٹھایا۔

خالہ کے گھر پہنچے تو وہ ماموں سے فون پر بات کر رہیں تھیں۔ امی کو ریسور دیا۔

“ہاں بیٹا صحیح کیا تم نے ان لوگوں کے فون پہ فون آرہے ہیں دھمکیوں کے اب کچھ عرصہ تم نازمین کے گھر رہو ورنہ یہاں آکر یہ لوگ دیکھیں گے تو واپس لے جانے کی ضد کریں گے۔”

“جی بھائی میں یہی ہوں۔ عایشہ کے پپا کے آفس میں بات ہوئی ہے نوکری کی ان لوگوں نے پازیٹیو رسپانس دیا ہے اور کہا ہے جب تک کنفرم نہیں ہوتا آپ یہاں نہ رہیں”

“صحیح ہے اب تم سکون سے وہاں رہو، نازمین کے گھر تو یہ لوگ نہیں آئیں گے لیکن یہاں ہو سکتا ہے آئیں”

پھر چند ایک دو بات کے بعد فون بند کردیا گیا۔

دادو پھوپھو نے ماموں کو صاف منع کر دیا تھا کہ وہ امی کو نوکری نہیں کرنے دیں گیں اور امی بھی اپنی بات پہ آڑ گئی تھی کہ وہ نوکری ہر حال میں کریں گی۔

پہلے کی طرح گھر بھی دیکھیں گی کھانا بھی بنا کے دیں گی دادو کو لیکن ان کے کچن سے نہ خود کھائیں گی نہ بچوں کو کھانے دیں گی اب۔

معاملہ بہت الگ صورتحال لے چکا تھا دادو پھوپھو کے پریشر کے جواب میں امی نے دو ٹوک کہ دیا کہ ان کا بھائی نہیں رہا تو اب کیسی ساس اور کیسی نند اب ان کا کوئی حق نہیں کے وہ امی کو روکیں یا pressurized کریں۔

اتنے سال کے دباؤ اور گھٹن کا شکار امی دادو پھوپھو کے ہاتھ کسی صورت نہ آرہیں تھیں اور ان کا پلس پوائنٹ ان کے بچے تھے جو اپنی ماں کا ساتھ دے رہے تھے دادو پھوپھو کی گالیوں کے باوجود۔

کیونکہ وہ اپنی ماں کے شب وروز کی اذیت اور تکلیف سے واقف تھے جو دادو پھوپھو کی وجہ سے ان کی ماں نے 15 سال جھیلی تھیں۔

معاملہ دونوں جانب سے گرم تھا کوئی بھی جھکنے کو تیار نہیں تھا اب بات یونین کونسل تک پہنچ گئی تھی اور پہلی پیشی کے لیے دونوں جانب کے افراد کو بلایا گیا تھا۔ جاری ہے…..

پچھلی قسط پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

اگلی قسط پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

از قلم: عریشہ عابد

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here