Uljhi Suljhi si Kahani Urdu Novel 06 Episode

0
269

Uljhi Suljhi si Kahani Urdu Novel 06 Episode by Areesha Abid

الجھی سلجھی سی کہانی

چھٹی قسط

آج امی نے دادو پھوپھو کا سامنا کرنا تھا یونین کونسل آفس میں جاکر۔

ماموں امی کے ساتھ گئے تھے۔ عایشہ کو امی لے کر نہیں گئی تھی فیصل گیا تھا ان کے ساتھ۔

وہ بہت ڈر رہی تھی پریشان بھی تھی سمجھ نہیں آرہا تھا کیا ہوگا۔

دادو پھوپھو کیسی بھی صحیح لیکن وہ ان سے محبت بھی کرتی تھی۔

وہ گھر سے اسے محبت تھی وہ گھر اس کا سب کچھ رہا تھا۔

عایشہ ان بچوں میں سے تھی جنہیں اپنے گھر سے عشق ہوتا ہے۔

وہ دعائیں مانگنے لگی اللّٰہ اللّٰہ کر کے امی اور ماموں واپس آئے۔

امی کا چہرہ کہہ رہا تھا کہ کچھ اچھا نہیں ہوا۔

آتے ہی امی پھوٹ پڑیں۔

“تمہاری دادی کہہ رہی ہیں ان کا بیٹا نہیں رہا تو اس کی اولاد سے بھی ان کے کوئی رشتے نہیں ہیں”

اور وہ آنکھیں پھاڑے کبھی امی کبھی ماموں کو دیکھنے لگی۔

‘ایسا کیسے ہوسکتا ہے دادو ایسے تو نہیں کہہ سکتیں”

“پوچھ لالو یہ فیصل کھڑا ہے سامنے اس کے سامنے بولا ہے انھوں نے”

اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کہا جارہا ہے۔

ماموں نانا کو تفصیل بتانے لگے۔

“وہ لوگ تو اسی بات پہ آڑ گئی تھی کہ ہم نوکری نہیں کرنے دیں گے تو ہم نے تجویز دی کہ ٹھیک ہے پھر ان بچوں اور رامین(امی) کا خرچ 8000 مہینہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں تو نہیں کرے گی رامی نوکری، تو بڑی بی نے فوراً ہامی بھرلی لیکن جب بولا کہ یہی بات اسٹیمپ پیپر پہ لکھ دو تو مکر گئے اور صاف کہہ دیا ہمارا بیٹا نہیں رہا تو ان لوگوں سے بھی ہمارا کوئی رشتے نہیں”.

وہ منہ کھولے بیٹھی ماموں کی بات سن رہی تھی۔

“بس اب ایک دو دن میں جاکر سامان اٹھانا ہے ان لوگوں کا پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔”

یعنی اب یہ لوگ الگ رہیں گے۔

رات میں بڑے اور منجھلے ماموں بڑے رسان سے ان لوگوں کو سمجھانے لگے کہ سامان ڈایریکٹ الگ گھر میں شفٹ کریں تاکہ وہ بھی سکون سے اپنی زندگی جی سکیں اور دوسروں کو بھی کوئی پریشانی نہ ہو گھر کا کرایہ منجھلے ماموں دیں گے کیونکہ سالوں سے وہ اکیلے ہیں شادی ہوئی تو وہ بھی ختم ہوگئی دوبارہ انھوں نے شادی کی نہیں۔

زندگی نے ابھی بہت سے رنگ دکھانے تھے یہ تو بس شروعات تھی۔

سامان لینے جب وہ پہنچے تو وہاں دادو نے کافی لوگوں کو اکھٹا کیا ہوا تھا۔

ان میں وہ بے غیرت اور منحوس عورت بھی تھی جس نے ان کے پپا کو کافی لوٹا تھا، جو ایک طوائف سے بدتر تھی کیونکہ طوائف تو پھر بھی کھلے عام اپنا جسم بیچتی ہے اس عورت نے تو لوگوں کے اعتماد کے ساتھ کھلواڑ کیا تھا، سب کچھ جانتے بوجھتے بھی دادو پھوپھو اسے نہیں دور کرتی تھی جبکہ ان کے بیٹے کو قبر میں پہنچانے میں آدھا ہاتھ اس عورت کا بھی تھا جس کی وجہ بے وجہ کے مانگنے پر لاکھوں کا خرچ کیا تھا۔

کبھی کبھی عایشہ سوچتی کہ اس کی ماں جو اس کے پپا کی بیوہ ہے اس سے یہ برتاؤ کہ زندگی جہنم بنانا چاہتے اور اس غلیظ عورت کو جانتے بوجھتے دادو پھوپھو کیوں گھر میں گھساتی ہیں، دادو پھوپھو کی وجہ سے ان لوگوں کو اس کو منہ دینا پڑتا تھا جس کا منہ نوچنے کا دل کرتا تھا۔

اس کے بچوں کے ساتھ کھیلنا پڑتا تھا جس کے بچوں کی بےجا خواہشیں مانگ مانگ کر پوری کرنے کے چکر میں وہ ان کے باپ کو لوٹنے کی کوشش کرتی تھی۔

عایشہ اکثر خواب میں اس عورت کو بہت مارتی تھی اس عورت کو قبر میں ڈال آتی تھی اس کو اتنی نفرت تھی اس عورت سے اتنی ہی اس کی ماں کو بھی تھی لیکن وہ لوگ کبھی دادو پھوپھو اور پپا کے آگے اس چیز کے خلاف بولنے کی ہمت نہیں کرپاے۔

سامان میں امی کے زیورات کچھ دادو کے پاس تھے امی نے مانگے تو دادو نے بولا کہ وہ ان کی طرف والے زیورات واپس کریں گی تو ان کو وہ زیورات واپس ملیں گے۔

امی اپنا سارا لحاظ بھول گئی اور ان کا بس نہیں چل رہا تھا یا تو مار دیں یا تو مر جائیں۔

“طلاق نہیں لی ہے تمہارے بیٹے سے رابعہ بانو جو اس طرف اور اس طرف کے زیورات کی بات ہو بیوہ ہوں اس کی حق ہے ہر چیز پر میرا۔ اس سب سے زیادہ تو اس طوائف پہ لٹا چکا تمہارا بیٹا وہ نظر نہیں آتا لیکن جائز حقدار کا حق مارتے شرم نہیں آتی تم بے غیرتوں کو۔”

وہاں موجود نفوس نے بڑی مشکل سے امی کو ٹھنڈا کیا کیونکہ سب جانتے تھے غلط کون ہے لیکن بولنا فضول تھا کیونکہ دادو اور پھوپھو نے کسی کی سننا اور سمجھنا سیکھی نہیں تھی وہ صرف بات تھوپنا جانتیں تھیں۔

آخر طے یہ پایا کہ وہ زیورات عایشہ کی شادی میں دے دیں گی۔

امی روتی اور بد دعائیں دیتی نکلی تھی وہاں سے ماموں نے سمجھایا کہ

” ابھی بحث نہ کرو ابھی تمھارے پروویڈنٹ فنڈ والے پیسے بھی نکلوانے ہیں ان کے اس رشتےدار سے”

امی خاموش تو ہوگئی لیکن ان کا غصہ عروج پر تھا۔

پروویڈنٹ فنڈ کے پیسے نکالنے کے لیے ایک مہینے کا وقت دےدیا تھا

اس بیچ پھوپھو کا فون آیا کہ امی کا مہینہ منافع کے بارے میں

” 4250روپے آیا ہے جس میں سے بھائی جان کی قرضے والی کمیٹی کے کاٹ کر 250 روپے بچے ہیں آکر لے جاؤ”.

“وہ پیسے کی مٹھائی منگواو اور میرے بچوں کی جان کا صدقہ کے طور پر کھا کر اپنے جہنم کی آگ میں اور اضافہ کرو”.

کہہ کر امی نے فون پٹخ دیا۔

پروویڈنٹ فنڈ کے پیسے لینے کے لیے امی کو واپس اس رشتے دار نے دادو پھوپھو کے گھر بلایا کہ یہاں آکر لیں گی تو دوں گا نہیں تو بھول جائیں پیسے، جس پر دادو پھوپھو کا اترانا کم نہیں ہورہا تھا۔

“دیکھا! آی ناں ناک رگڑتے، پیسے لینے، امین  سیٹھ کبھی بھی نہیں دیتا اگر یہاں نہیں آتی”

امین سیٹھ اور اس کی بیگم وہاں بیٹھے تھے۔

ان کی بیگم تسبیح کے دانے گھماے جارہی تھی اور اسے ان سب سے گھن آرہی تھی یہ نام کے امین اور حاجی اور یہ تسبیح کے دانے گراتی پاک بیبی بنتی بےایمان عورت جو اس کی ماں کے پیسے کے ساتھ ناانصافی کرنے والے تھے۔

امین سیٹھ اپنے چاپلوسی والے لہجے میں میمنی زبان میں بولنے لگا جس کا مطلب یہ تھا،

“میں ان کے پیسے تو دے رہا ہوں لیکن اس میں سے 35000 روبینہ (پھوپھو) کے ہیں جواد نے قرضے کی جو کمیٹی ڈالی تھی اس کے بقایا”

امی سے برداشت نہ ہوا وہ برا بھلا کہنے لگی تو ماموں نے چپ کرایا اور لے کے جانے لگے۔

دادو اس کے کان میں بولی٬

” تم دونوں بہن بھائی واسطے اوپر کمرہ خالی ہے اوپر آکر رہ لو”

“امی بھی؟”

“ناں تیری ماں نہیں خالی تم لوگ.”

“امی بغیر ہم نہیں رہ سکتے”

“کیوں ہم کچھ نہیں لگتے تم لوگوں کی ماں ہی سب ہے”

“آپ نے تو یونین کونسل میں بولا کہ ہمارا بیٹا نہیں رہا تو اس کے بچوں سے کیا رشتہ ہے اب”

“تیری ماں نے بھی تو بولا کہ میرا شوہر نہیں تو کیسی ساس اور نند”

“تو مطلب آپ نے بدلہ اتارا؟”

اور دادو پھر ہم صحیح تم غلط والی کہانی شروع ہوئی تو وہ خاموش ہوگئی بولنا بےکاد تھا۔

امی کی آفس میں جاب ہوگئی تھی وہ صبح کی گئی شام 7 بجے آتیں گھر کا کرایہ ماموں دے رہے تھے۔

لیکن اس سب میں اس نے ایک عجیب چیز نوٹ کی جب سب کزنز ساتھ ہوتے ماہا اور خالہ کی بیٹیاں آپس میں لگی رہتی وہ جاتی تو اسے یا تو اگنور کیا جاتا یا بات بات پر زلیل کیا جاتا کہ اس کا رنگ کالا ہے اوروہ لوگ زیادہ گوری۔

روزانہ اکیلے کالج بس سے آنا جانا وہ بھی اس لڑکی کے لیے جو گھر سے گاڑی میں بیٹھ کر نکلتی تھی اور گاڑی میں واپس آتی تھی جو کبھی گلی میں کیسی کے گھر اکیلے نہ گئی تھی وہ میلوں کا سفر اکیلے طے کرتی کون سمجھ سکتا تھا اس کرب کو۔

اس کے کزنز اس کا مزاق اڑاتے اس کے بھائی سے نانا کے علاؤہ سبھی پیار کرتے بس اس کو اگنور کیا جاتا موقع سے فائدہ اٹھا کر بات بے بات زلیل کیا جاتا۔

اور جب وہ یہ سب امی سے کہتی تو وہ اسے اور پپا کو کوسنے لگتیں کہ اتنے سال ان کے باپ کی وجہ سے وہ اپنوں سے نہیں مل سکی اور اب وہ جھگڑے کروانا چاہتی ہے۔

صرف بلال بھائی تھے جو اس کی باتیں سنتے تھے اور اس سے بات کرلیتے تھے ورنہ کوئی اس سے بات کرنا پسند نہیں کرتا تھا۔

لیکن بلال بھائی کے بارے میں خالہ کی بیٹیاں کہتی کہ وہ گندے ہیں اور ان کی نیت اچھی نہیں ہے۔ لیکن اس کو اس سب کی سمجھ نہیں تھی کہ گندی نیت کیا ہوتی ہے کو ایجوکیشن میں پڑھنے کے باوجود کبھی ایسی صورتحال نہیں آی تھی وہ سب کلاس فیلو اچھے دوست تھے اور ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے، گندی نیت سے عایشہ کا کبھی سامنا نہیں ہوا تھا لیکن پھر بھی وہ بلال بھائی سے ایک فاصلہ رکھ کے بات کرتی تھی۔ اس کے دل میں پپا اور ایک بڑے بھائی جیسا احترام تھا ان کے لیے۔

ماموں کا گھر ایک ہی گلی میں ہونے کی وجہ سے وہ بہن بھائی دن میں چلے جاتے لیکن کبھی کبھی  نانا کا برتاؤ بہت برا ہوجاتا۔

ایک مرتبہ تو فیصل گرمی سے پریشان ہو کر برف لینے گیا تو نانا نے زلیل کر کے بھگا دیا کہ ہم نے دکان کھولی ہے کیا۔

مجبوراً یہ لوگ امی کی غیر موجودگی میں نل کا پانی پینے لگے۔

 وہ بچے جو سردی میں بھی فریج کا پانی پینے کے عادی تھے وہ جون کی گرمی میں نل کا کھولتا ہوا پانی پنکھے کے نیچے ٹھنڈا کر کے پیتے۔ 

عایشہ کو صرف اسپیگھٹی بنانے آتی تھی اور پراٹھے لیکن چولہا اور ماچس جلانے میں ڈر لگتا تھا صرف 14 کی تو تھی۔

فیصل اس کو ماچس جلا کے دیتا وہ اس کو چولہے پر رکھ کر برنر آن کرتی۔ 

آہستہ آہستہ عایشہ اور بھی ڈشز بنانے لگی کبھی تجربہ صحیح رہتا کبھی کچھ گڑبڑ ہوجاتی۔

لیکن امی کو سہولت ہوگئی تھی کہ کھانا پکا ہوا ملتا تھا۔

وہ لوگ ماموں کے گھر کھانے نہیں جاتے تھے ایک بار برف پر زلیل ہوچکے تھے اب کھانے پہ طعنہ نہیں سننا تھا، اس لیے عایشہ روز کوئی نہ کوئی تجربہ کرکے کھانے بنانے لگی تھی۔

ایک دن امی آفس میں تھیں بھائی کھیلنے گیا تھا یہ لوگ اوپر کے پورشن میں رہتے تھے نیچے مالک مکان رھتے تھے۔ 

ان کی بیل الگ تھی جس پر یہ لوگ آنے والے کو بالکنی سے دیکھ کر نیچے جاکر دروازہ کھول دیتے تھے۔

بلال بھائی دو بار آکر جا چکے تھے اس نے دیکھ کے بول دیا ابھی امی نہیں ہیں بعد میں آیئے گا۔

وہ کچن میں کام کر رہی تھی جب اسے کسی کے آنے کا احساس ہوا اس نے صحن میں آکر دیکھا تو بلال بھائی تھے۔

” آپ کیسے آگئے؟”

وہ دوپٹہ لینے کمرے میں بھاگی۔

“تم آکر نہیں کھولوگی دروازہ تو کیا میں آ نہیں سکتا؟” 

جاری ہے…..

پچھلی قسط پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

اگلی قسط پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

از قلم: عریشہ عابد

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here