Uljhi Suljhi si Kahani Urdu Novel 07 Episode

0
244

Uljhi Suljhi si Kahani Urdu Novel 07 Episode by Areesha Abid

اُلجھی سلجھی سی کہانی

ساتویں قسط۔

کالج کی کینٹین کی بیک سائیڈ کافی اسپییس تھی جسے بینچ اور کرسیاں وغیرہ لگا کر استعمال کے قابل بنایا گیا تھا۔
اکثر مس طاہرہ کی کلاس بنک کر کے آدھی سے زیادہ لڑکیاں یا تو لایبریری میں چلی جاتی تھی یا اس جگہ ٹائم پاس کرتی تھی۔
یہ جگہ کالج سے کافی الگ تھلگ تھی تو وہاں بیٹھنے میں کبھی مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔

مس طاہرہ کالج میں سب سے بور ترین ٹیچر تھی۔ وہ فزکس و میتھس کی کلاس لیتی تھی۔
چونکہ یہ لوگ پری میڈیکل کی اسٹوڈنٹس تھے تو انہیں صرف ایک ہی پیریڈ میں ان سے سامنا ہوتا تھا، اصل مسئلہ بےچاری پری انجینئرنگ والیوں کا تھا جنہیں مس طاہرہ کو دن میں تین مرتبہ برداشت کرنا پڑتا تھا۔
وہ تھی بھی سینیئر اسٹاف میں تو ان کی کمپلین کرنے کا مطلب تھا کہ اپنے پریکٹیکل میں بلاوجہ کے روڑے اٹکانا اور دو چار نمبر بدلے کے طور پر کٹوادینا۔

اس لیے ساری معصوم حسینائیں انہیں چپ چاپ برداشت کر لیتی تھی۔
اتفاق سے ان کا پیریڈ ہوتا بھی بریک کے بعد تھا تو 100 میں سے بمشکل 35 لڑکیاں ہی بریک کے بعد واپس کلاس میں جاتی تھی۔
ان کی کلاس میں کبھی کسی کو یہ سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ وہ پڑھا کیا رہیں ہیں۔

اکثر تو وہ آکر بس لیکچر دینا شروع ہوجاتی تھی کسی کو یہ ہی نہیں معلوم ہوتا تھا کہ ٹاپک کیا ہے۔
تو آدھی سے زیادہ تعداد لڑکیوں کی ان کی کلاس سے دور ہی رہتی تھی۔
مس طاہرہ کی اکثر کلاسز عایشہ بھی قرت الدر کے ساتھ بنک کرتی تھی۔
آج بھی وہ بنک کر کے مزے سے برگر اور فرایز سے لطف اندوز ہورہیں تھی کہ آمنہ بھاگتی ہوئی آی۔

“بھاگو چھپ جاؤ مس طاہرہ کا میٹر آج شارٹ ہوگیا ہے”
“ارے ہوا کیا ہے؟”

“یار روز 30 35 لڑکیاں دیکھ کر ان کو شک تو ہوتا تھا اب ابھی انہوں نے اٹینڈینس رجسٹر منگوا کر دیکھا تو صبح میں 80 لڑکیاں اور ابھی کلاس میں صرف 30 کی تعداد دیکھ کر دماغ پھر گیا ہے ان کا ڈھونڈ ڈھونڈ کر لڑکیاں برآمد کر رہیں ہیں وہ۔”

“ارے یار اب کیا کریں بہت بڑا مسئلہ ہوگیا یہ تو”
قرت الدر ہواس باختہ ہوکر بولی تھی۔
“میں بول بھی رہی تھی آج ان پکاؤ میڈم کی کلاس لے لیتے ہیں کم ازکم چہرے تو دیکھ لیتیں ورنہ پریکٹیکل میں گھسنے بھی نہیں دینگی۔”
“اب واپس تو جا نہیں سکتے کریں کیا؟”
“ایک طریقہ ہے”
آمنہ بولی۔
“کیا؟”

دونوں یک زبان بولیں۔
“انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے پیچھے اسٹور میں چھپ جاتے ہیں وہاں سے آدھے گھنٹے بعد نکل کر بایولوجی لیب میں پریکٹیکل اٹینڈ کرلیں گے”
“بہترین چلو بھاگو پھر”۔

تمام بنک والی لڑکیاں بوکھلائ پھر رہیں تھیں کیونکہ پری میڈیکل والیوں کا مونوگرام گرین تھا تو پکڑے جانا بہت آسان تھا۔
وہ تینوں باتھ رومز والی سائیڈ کی طرف نکل گئی کیونکہ وہاں بیک سائیڈ سے انجنیرنگ ڈپارٹمنٹ قریب تھا اور وہاں جاتا بھی کوئی نہیں تھا کیونکہ وہاں فالتو کباڑ اور درختوں کے پتوں کا ڈھیر تھا بس۔ اور مشہور بھی تھا کہ کوہک جن بھوت وغیرہ بھی ہے، لیکن اس وقت ان لوگوں کو مس طاہرہ نامی بلا سے جو خطرہ تھا وہ کسی بھی جن بھوت کو مات دینے کے لیے کافی تھا۔

وہ لوگ درود پڑھتی اور کچرے اور کباڑ سے دامن پچتی بچاتی انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے پیچھے بنے اسٹور میں گھس کر بیٹھ گئی۔
اسٹور کا دروازہ سالوں سے ٹوٹا ہوا تھا تو انہیں اندر جانے میں مسئلہ نہیں ہوا۔
یہ کوئی 60 گز کا بڑا ہال نما کمرہ تھا جس میں پرانی ٹوٹی بینچ، ٹیبل، چیئرز، بورڈز اور بہت سا فضول سامان تھا۔ اوپر کی طرف دو روشندان کھلے تھے اور پچھلی دیوار کی ایک کھڑکی جس کی وجہ سے گھپ اندھیرا نہیں تھا، اتنی روشنی تھی کہ باآسانی دیکھا جاسکتا تھا۔

“یار ایسی اسٹور ٹائپ کی جگھوں پر اکثر چوہے وغیرہ ہوتے ہیں۔”
آمنہ کی زبان میں بہت غلط وقت پر کھجلی ہوئی تھی۔
“آمنہ میں نے تمہارا پھیکے شلجم جیسا منہ توڑ کر اسی کباڑ میں پھینک دینا ہے”

عایشہ غصے سے گویا کوئی، وہ اور قرت الدر بڑی کمزور دل کی لڑکیاں تھیں چوہے کا نام سن کے ان کی چیخ نکلتے بچی تھی۔
“اور نہیں تو کیا ابھی ہماری چیخیں نکلی تو لینے کے دینے پڑ جانے بدنامی الگ ہوگی کالج میں”
“ڈرو نہیں پاگل عورتوں میں ہوں ناں مجھے نہیں ڈر لگتا”
“تم اپنی یہ زبان بند کرلو نہیں تو پٹ پٹا جاوگی مجھ سے”
عایشہ نے گھرکا۔

“پٹ پٹا؟ پہلی بار سنا ہے بھئی لیکن مزےدار کمبینیشن ہے”
آمنہ نے مزے لیے۔
“چھوڑ ناں یار آدھا گھنٹہ نکالنا ہے، اللّٰہ اللّٰہ کر کے نکال لو۔”
قرت الدر نے مک مکا کروایا۔
آدھا گھنٹہ گزار کر وہ فتح کے نشے میں چور بایولوجی لیب پہنچیں تو باہر 50 لڑکیوں کی بھیڑ دیکھ کر ان کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔

“آئیے آئیے محترمین آئیے تشریف لائیے آپ لوگوں کے لیے ٹیبل چیئر منگوائیں”
مس طاہرہ طنز سے ان لوگوں سے گویا ہوئیں۔
کہتے برا وقت آنا ہوتا ہے تو کتنا بھی بھاگ لو آکر رہتا ہے۔
مس طاہرہ نے جو جو کلاس میں موجود تھیں ان کو لیب میں بھیج کر خود اٹینڈینس رجسٹر کے ساتھ لیب کے گیٹ پر منکر نکیر بن کر کھڑی ہوگئی اور جو جو بچ گئیں تھیں سب کو ہاتھوں ہاتھ لے رہیں تھیں۔
“ہاں جی تو کونسا چیمبر ڈھونڈ لیا آپ نے کالج کا جہان سے آپ کو ڈھونڈنا مشکل ہی نہیں ناممکن ٹھہرا ہم لوگوں کے لیے؟”

وہ تینوں باقیوں کی طرح سر جھکائے کھڑی ہوگئی۔
“روز مجھے شک ہوتا کہ صبح کے ٹائم پوری کلاس بھری ہوتی ہے اور میرے پیریڈ میں گنتی کی 30 40 لڑکیاں تو ان کو آسمان نگلتا ہے یا زمین اور میرے پیریڈ کے ختم ہوتے ہی آسمان یا زمین جو بھی نگلتا ہے فوراً اگل بھی دیتا ہے ان لوگوں کو۔ آج نہیں چھوڑوں گی۔ یہ کوئی طریقہ ہے ایک سے بڑھ کر ایک نکمی اور پرھائ چور، ابھی پرنسپل کو بلا کر کرتوت بتاتی ہوں سب کے بڑا شوق ہے ناں بنک مارنے کا۔”

ان سب بنکرز کی شاندار طنزیہ کلاس لے کر مس طاہرہ نے جب پرنسپل کو بلایا تو ان کے بنک کی وجہ پوچھنے پہ ساری لڑکیوں نے بھی مس طاہرہ کے ساتھ کوئی لحاظ رکھے بنا ان کی ایک ایک شکایت ان کے سامنے پرنسپل کو کرڈالی اتفاق سے انجینئرنگ والیوں کی بریک تھی تو وہ بھی وہاں آگئیں اور موقع غنیمت جان کر اپنے دکھڑے سنا ڈالے پرنسپل کو، تو جو بنکرز ڈھونڈ مہم مس طاہرہ نے ان لوگوں کے لیے شروع کی تھی وہ ان کے اپنے گلے آگئی تھی کہ 100 لڑکیاں کوئی جھوٹ تو نہیں بولیں گی۔
آخر ان لوگوں کو وارننگ دے کر اور مس طاہرہ کو بھی سمجھا بجھا کر پرنسپل نے سب کو واپس کلاس میں بھیج دیا۔

“یار ایک بات تو بتاؤ تم لوگ چھپی کہاں تھے کہ کوئی پراکٹر تم لوگوں کو ڈھونڈ نہ پایا؟”
سب فری ہو کے جب کلاس میں آئیں تو ایک لڑکی نے ان لوگوں سے پوچھا۔
عایشہ نے آمنہ کا ہاتھ دبا کے اشارے میں منع کیا کہ بتانا نہیں پھر خود ہی شاندار جواب بھی دے ڈالا۔
“وہ کل ہیری پوٹر میں دیکھا تھا کہ غائب کیسے ہوتے تو بس ٹرائے کیا تو ہم بھی ہوگئی غائب”
وہ لڑکی منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔

“مجھے بےوقوف سمجھا ہے نہیں بتانا تو نہ بتاؤ لمبی لمبی تو نہ چھوڑو۔”
بول کر وہ آگے بڑھ گئی اور پیچھے وہ لوگ دیر تک ہستی رہیں۔
آج اس نے تجربے کے طور پر آلو قیمہ بنایا تھا۔
صبح امی سے ریسیپی پوچھیں پھر کوکنگ میگزین کھنگالا پھر سب طریقوں سے ایک ایک اسٹیپ لے کر اپنا ہی کوئی الگ انداز میں کھانا تیار کیا، جو کہ تجربہ کامیاب رہا۔

ایک پلیٹ میں ڈال کر ماموں کے گھر لے کر آگئی۔
منجھلے ماموں کھانا کھانے بیٹھے تھے ان کے آگے ہی پلیٹ رکھ دی ممانی نے۔
پہلا نوالہ لے کر انہوں نے بہت تعریف کی۔
“واہ بیٹا بہت زبردست۔ کھانا تو اچھا بنا لیتی ہو، مزا آگیا۔”
انعام کے طور پر خوش ہو کر انہوں نے اسے 100 کا نوٹ دیا پھر پوری روٹی قیمے سے ہی تناول فرمائی۔

اسے بہت اچھا لگا پپا کی یاد بھی آئی کیونکہ پپا بھی اس کے کوئی چیز اچھی بنا لینے پہ ایسے ہی تعریف کرتے تھے۔
وہ بہت خوش ہو کر واپس گھر آئی تھی۔
“تم دروازہ نہیں کھولوگی تو کیا میں اندر آ نہیں سکتا”
بلال بھائی کی بات اسے عجیب سی لگی تھی وہ کمرے میں اپنا دوپٹہ لینے کے لیے گئی۔

اچانک جو ہوا وہ اس کے وہم وگمان میں نہیں تھا۔

جاری ہے…..

پچھلی قسط پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

اگلی قسط پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

از قلم: عریشہ عابد

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here