قائد اعظم ہمیشہ کلیئے انگلستان چلے گئے

0
180

قائد اعظم ہمیشہ کلیئے انگلستان چلے گئے
۔۔۔۔۔
وہ وقت جب قائد اعظم 1931 میں ہندو رہنماؤں کے رویئے سے دلبرداشتہ ہو کر ہمیشہ کے لیے انگلستان چلے گئے ۔۔۔۔مگر 1935 میں ایسا کیا ہو گیا کہ وہ فورا ًاپنی بے آسرا قوم کی مدد کے لیے واپس آ گئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔

تاریخ کی عظیم شخصیتوں اور انسانوں میں کچھ ایسے لوگ بھی گزرے ہیں، جنھوں نے قیادت کا اپنا ایک خاص رنگ ڈھنگ اور اپنی خاص روایات خود پیدا کی ہیں اور انھی سے ان شخصیتوں کے خصوصی ذہن و فہم کی جھلکیاں ہماری نظروں کے سامنے آتی ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح اسی قسم کے قائدین میں سے تھے۔

عظمت ان پر کہیں باہر سے تھوپی نہیں گئی۔ انھوں نے خود اپنی اندرونی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو اجاگر کیا، جو ان کی عظمت کا وسیلہ ٹھہریں۔ انھوں نے اپنے خصوصی کردار کی ایسی تعمیر کی جس کے سہارے وہ گوناگوں تبدیلیوں اور گردشوں سے گزر کر اسی طرح بے داغ ابھرے جس طرح سونا بھٹی میں تپ کر نکھرتا اور کندن بن جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے قائداعظم نے اپنی نوجوانی میں وہ پیشہ اختیار کیا تھا جس نے ان کے مضمر فطری خصائل و اوصاف کو شگفتہ اور بار آور ہونے کی بڑی گنجایش بہم پہنچائی۔ وہ اپنے راستے کی دشواریوں اور رکاوٹوں سے کبھی دل برداشتہ نہ ہوئے نہ ہمت ہاری۔
اس کے برعکس انھوں نے حیرت انگیز ثابت قدمی دِکھائی اور اپنی ذہانت و فطانت سے راستہ ہم وار کیا اور قانون کے پیشے میں ترقیاں کیں اور بالآخر برعظیم کی ایک اعلیٰ عدالت کے قانونی حلقے میں سربلند ہوئے اور ’’بار‘‘ کے لیڈر ہوگئے۔ یہ قابلِ رشک مرتبہ تھا جو انھیں حاصل ہوا اور ان کی شہرت دُور دُور پھیلی۔

ان کو بار کے اندر جو کام یابی حاصل ہوئی، اس میں کچھ کم دخل ان صلاحیتوں کا نہ تھا، جو اپنی بات منوا لینے والے سلیقہ مند مقرر اور قوتِ استدلال سے آراستہ ہُنرمند اور موثر ’’ڈیبیٹر‘‘ کی ان کے اندر موجود تھیں، ان سب نے مل جُل کر ان کو کام یاب کیا تھا، بلکہ یہی ذہنی توانائی اور تہذیبی شائستگی کا جوہر تھا جس نے لازماً ان کو وسیع تر میدان سیاست میں اُترنے کی دعوت دی اور بالآخر وہ عوامی قیادت اور ہمہ گیر سیاسیات کی بلند ترین منزل پر پہنچ گئے۔

قائداعظم نے ابتدا ہی سے اپنے جذبات کو مرتب رکھنے، اخلاقی قدروں کو اپنے اندر جذب کرنے اور اپنی نگاہ کو وسعت و ہمہ گیری مہیا کرنے کا ہنر سیکھ لیا تھا۔ ان کے جذبات و احساسات قلب ماہیت کے مرحلوں سے ایسے گزرے کہ ان کی تمام تر سرگرمیاں، اخلاقی رفعت کے سانچے میں ڈھل کر تہذیبی تصورات کی طرف یکسو ہو گئیں۔
ان کی ذات بلند اور خودی بیدار ہوگئی، جس نے چمکتے دمکتے زرہ بکتر اور آلات حرب کی طرح ان تمام لوگوں کی ترکیبوں اور کارستانیوں کی صفیں چیردیں جو مسلم قوم کو مغلوب و محکوم بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں کہ قائداعظم جذبات سے عاری تھے اور ان پر جذباتی ردعمل کچھ نہ ہوتا تھا۔

وہ جب انسانوں کو فقر و فاقہ میں مبتلا اور مصائب و آلام سے چُور دیکھتے تھے تو ان پر بے انتہا اثر ہوتا تھا، لیکن وہ اپنے جذبات کو عقل و دانش کی راہ پرلگانے کا ہُنر جانتے تھے۔ انھوں نے محسوس کرلیا تھا کہ اگر اپنی قوم کی واقعی خدمت کرنی ہے تو اپنے جذبات و میلانات کو ایک ایسی آتشِ سوزاں میں تبدیل کرلینا ضروری ہے، جو عملی سرگرمی کے لیے مستقل حرارت مہیا کرتی رہے۔ قائداعظم کے ساتھ جن لوگوں کو کام کرنے کا اتفاق ہوا ہے، وہ ان کی انسان دوستی کے شدید جذبے کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکے اور یقیناً یہ ان کی انسان دوستی ہی کا جذبہ تھا جو مصائب میں گِھری ہوئی قوم اور اس کے بے یار و مددگار افراد و ارکان کے حالات سُدھارنے پر مرکوز ہوگیا تھا۔

قائداعظم اگر شدید قسم کا نظم و ضبط نافذ کرنے والے قواعد پسند تھے تو سب سے پہلے وہ نظم و ضبط کے یہ اصول اپنی ذات پر نافذ کرتے تھے اور اپنے جذبات و احساسات اور اپنی پسند و ناپسند پر مکمل کنٹرول رکھتے تھے۔ جذبات ان کے اندر بھی تھے اور شدید تھے، لیکن وہ اپنے جذبات و احساسات اور رجحانات کو ہمیشہ بلند تر مقاصد اور اعلیٰ اصولوں کے تابع رکھتے تھے۔

دُنیا کو آج تک معلوم نہ ہوسکا کہ قائداعظم کو نجی طور پر کیسی کیسی تکلیف پہنچی اور ان کے دل کو کیا کیا زخم لگے۔ وہ اتنے خوددار تھے اور ان کو عزتِ نفس کا اتنا شدید احساس تھا کہ ان باتوں کی بھنک بھی کسی کو ملنے نہ دی۔ جن لوگوں نے ذاتی طور پر ان کو تکلیف پہنچائی۔
انھیں تو وہ فوراً معاف کردیتے تھے، لیکن قومی مفادات کے معاملے میں اگر کسی نے غلط قدم اُٹھایا اور غداری کی تو اس کی گرفت کرنے میں پس و پیش بھی نہیں کرتے تھے۔قائداعظم نے اپنی عوامی زندگی مجلسِ قانون ساز کے رکن کی حیثیت سے شروع کی تھی اور یہی ان کی عوامی نمایندگی اور قومی قیادت کی جانب پہلا قدم تھا۔

پارلیمانی جنگیں انھوں نے خوب خوب لڑیں اور کتنی ہی پارلیمانی جنگیں ایسی تھیں کہ جب وہ میدان میں اُترے تو ہمیشہ کام یاب ہوئے۔ 1909 میں جب مسلمانانِ بمبئی کی طرف سے منتخب ہو کر ان کی ترجمانی کے لیے امپیریل لیجسلیٹو کونسل میں پہنچے تو اسی وقت سے ان کو بڑے بڑے مقررین اور بحث کرنے والے زباں آوروں سے ایوان کے اندر سابقہ پڑا، لیکن دیکھا گیا کہ وہ اپنا طرۂ کامرانی لہراتے ہوئے نکلے۔

ان کی پارلیمانی تقریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیر بحث موضوع کچھ بھی ہو، اس پر ان کی گرفت قادرانہ ہوتی تھی اور ان کے دلائل و براہین کی کاٹ ایسی ہوتی تھی جس کا مقابلہ ناممکن ہوجاتا تھا۔ مجلسِ قانون ساز میں ان کی شائستہ مزاجی، شان دار اندازِ بحث اور نفیس و لطیف اسلوب تقریر ان کی پارلیمانی زندگی کا نچوڑ ہے۔
ان کی ظاہری وضع قطع کی نفاست ایک طرف اور ان کی ذہانت و فطانت اور شخصیت کا حُسن دوسری طرف، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے پارلیمانی قیادت کے لیے قدرت نے شروع ہی سے ان کو الگ کر رکھا تھا۔وہ سستی شہرت کو ناپسند کرتے تھے۔ انھوں نے کبھی ایسا لیڈر بننا پسند نہیں کیا جو عوامی امنگ ترنگ اور عوامی جذبات کی رو میں صرف اس لیے بہہ جائے کہ اس طرح اس کو ایک کلغی اپنی ٹوپی میں لگالینے کا موقع ملے گا۔

بعض لوگوں کو ان کی اس ادا سے یہ غلط فہمی ہوئی کہ ان کے الگ تھلگ رہنے کا سبب ان کی سرد مزاجی ہے، حالاں کہ اس کا سبب یہ تھا کہ بعض لوگ اور بعض سیاست داں خود اپنی زندگی کی ایک راہ نکالنے کے لیے عوام کی بے خبری و سادہ مزاجی سے فائدہ اُٹھانے اور ان کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ بات ان کو پسند نہ تھی۔ ایک زمانے میں یہ کہا جاتا تھا کہ قائداعظم مغرور ہیں۔ لیکن ایسا کہنے والوں کی نظر سے یہ بات ہمیشہ اوجھل رہی کہ وہ اگر ’’مغرور‘‘ تھے یا ان میں ’’اکڑ‘‘ تھی تو اس کی بنیاد آخر کیا تھی۔

قائداعظم مغرور تھے تو صرف اس مفہوم میں کہ مسلم انڈیا کے نمایندہ و ترجمان ہونے کی وجہ سے انھوں نے مسلم انڈیا کی ساکھ اور مرتبے کو کسی حال میں بھی گِرنے نہیں دیا۔ کانگریسی لیڈروں کے سروں میں طاقت ور ہونے کی جو رعونت پیدا ہوگئی تھی اس کے مقابلے میں وہ یقیناً مغرور تھے۔ قائداعظم صرف وہیں مغرور تھے جہاں مسلم انڈیا کی عزت اور مفادات کا مسئلہ زد میں آتا تھا۔
ورنہ ان لوگوں کے لیے جو منکسر المزاج تھے اور ان لوگوں کے لیے جو مسلم قوم کے سادگی پسند اور نیک نفس خدمت گزار تھے۔راقم الحروف اپنے ذاتی تجربات کی بناء پر یہ کہہ سکتا ہے کہ قائداعظم روشنی کا مینار تھے اور جو شخص بھی عوام کی بے غرضانہ خدمت کرنا چاہتا تھا، اس کے لیے وہ زندگی بخشی، خیال انگیزی اور حوصلہ مندی کا مستقل سرچشمہ تھے۔

ان کی موجودگی میں آپ ہمیشہ اپنے آپ کو سرفراز اور اپنی روح کو مالا مال محسوس کرتے اور یہ بات خود بھی اپنی جگہ ان کی سچی عظمت کی ایک نشانی ہے۔ یہ بات اعجاز سے کسی طرح کم نہیں ہے کہ قائداعظم نے ایک مُردہ قوم کو زندگی بخش دی۔
یہاں تک کہ مسلم انڈیا کو برعظیم کی دستور سازی کی اسکیم میں جزو ترکیبی کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا اور یہ حقیقت بھی نمایاں ہوگئی کہ مسلم انڈیا کی رضامندی کے بغیر نہ تو کوئی دستور بنایا جاسکتا تھا نہ اس کو نافذ کیا جاسکتا تھا۔فطری بات ہے کہ جس وقت سے قائداعظم نے مسلمانوں کی تنظیم، تحفظ حقوق سے بڑھ کر حصول حریت کے لیے شروع کی، وہ کانگریس کی طرف سے اور دوسرے ہندو حلقوں کی طرف سے، پسندیدہ شخص نہیں رہے۔

ان لوگوں نے ان کو بہت بُرا مشہور کر رکھا تھا اور کہنے لگے تھے کہ یہ شخص آزادیٔ ہند کی راہ میں زبردست رُکاوٹ ہے۔ کوئی بدگوئی، کوئی تہمت و بہتان کوئی الزام تراشی، کوئی بدزبانی ان لوگوں نے اُٹھا نہیں رکھی تھی۔ قائداعظم پر ہرطرف سے مسلسل حملے ہورہے تھے، لیکن وہ اپنے قدم جمائے چٹان کی طرح ان تمام یلغاروں کے مقابل کھڑے رہے۔

ان کو نہ تو خوشامد بہکا سکی، نہ بڑی سے بڑی تعریف ہی اپنی جگہ سے ہٹاسکی۔ نہ کوئی قیمت ان کو خرید سکی، نہ کوئی لالچ ان کو لبھا سکی۔ مخالفیں کی بدزبانی اور تلخ نوائی کا اثر لیے بغیر، وہ اپنی مخصوص شان و شوکت اور عظمت کے ساتھ آخری وقت تک اپنی جگہ ڈٹے رہے۔

مسلمانوں کی حُریت و آزادی کے خلاف مسلسل سازشیں ہوتی رہیں اور طرح طرح کی چالیں چلی گئیں، مگر وہ اس کے چکر میں کسی طرف نہ آئے۔ مسلمانوں کو پھانسنے اور نقصان پہنچانے کے لیے جتنی بھی کارروائیاں مخالفین کی طرف سے کی گئیں، ان سب کو تہس نہس اور ناکام و نامراد کردینے کا عجیب گر ان کو معلوم تھا۔
قائداعظم نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کے لیے سال ہا سال انتھک کوششیں کی تھیں، لیکن اس وقت وہ بالکل مایوس ہوگئے جب برطانوی حکومت کی منعقد کردہ گول میز کانفرنس 1930 اور 1931 میں پہنچ کر ہندوؤں نے، بشمول مسٹر گاندھی، ہندو مسلم معاہدے کے تمام امکانات کا خاتمہ کردیا۔ یہ معاہدہ بنگال اور پنجاب میں مسلمانوں کی چند نشستوں کے لیے ہونا تھا۔

قائداعظم نے اس قدر دل برداشتگی محسوس کی کہ انھوں نے انڈیا کو یہیں سے خیرباد کہہ دیا اور انگلستان ہی میں اقامت اختیار کرلی۔ حکومتِ برطانیہ نے جب 1935 کا ایکٹ منظور کیا اور صوبائی خوداختیاری کی ابتدا کرنے پر مائل ہوئی تو قائداعظم نے محسوس کیا کہ میری قوم نہایت ہی نازک مرحلے سے گزر رہی ہے، اس لیے مجھے قوم کے پاس واپس جانا چاہیے۔
اور وہ انڈیا واپس آگئے اور اس عزم کے ساتھ آئے کہ مسلمانوں کو ازسرنو منظم کریں اور برعظیم کی سیاست میں ان کے لیے وہ مرتبہ و مقام حاصل کریں جو ان کا حق ہے۔ یہیں سے ان کی قیادت کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ عظیم الشان دور۔ہندو اکثریت کے صوبوں میں کانگریسی وزارتیں برسرِ اقتدار آئیں تو مسلمانوں کے لیے انتہائی خطرناک صورت حال پیدا ہوگئی۔

1937 میں ہندو اپنے جذبے اور عمل دونوں اعتبار سے مسلمانوں کے دشمن ہورہے تھے۔ اس وقت ایک ایسے حوصلہ مند، بلند نظر اور صاحبِ فراست راہ نما کی ضرورت تھی جو مسلمانوں کو اس خارزار سے کسی طرح بہ حفاظت نکال لے جائے۔ مسلمان اس وقت دو جہنموں کے بیچ میں گِھرے ہوئے تھے۔
ایک طرف برطانوی نوکر شاہی تھی اور دوسری طرف کانگریس۔ ہندو اکثریت کے صوبوں میں مسلمانوں کے حوصلے و کردار کو دبانے اور کُچلنے کا اور ان کی تہذیبی و معاشی پامالی کا سلسلہ جاری تھا۔ مسلمانوں کو سیاسی خوشامدیوں کی حد تک گِرا دیا گیا تھا اور وہ دل شکستگی و مایوسی کے عالم میں ایک ایسے شخص کی تلاش میں تھے جو ان کو اس پستی سے نکالے اور امید و عمل کے نئے راستے پر لگا کر آگے بڑھے۔

آخر قائداعظم پر ان کی نظر جم گئی، جو 1906 سے برعظیم کے سیاسی نشیب و فراز کا عملی تجربہ رکھتے تھے اور انھوں نے بھی اپنے کردار کی پختگی اور عقل و دانش کے فطری اوصاف کی بناء پر مسلمانانِ برعظیم کو اُبھارا اور بھرپور عملی مہم میں لگادیا۔
قائداعظم کے جو زبردست قدرداں تھے وہ بھی ان کی صلاحیت، خوداعتمادی اور قوتِ عمل پر حیران رہ گئے، جس کی بناء پر انھوں نے قیادت سنبھالی اور پھر مختصر ترین مدت میں وقفے وقفے سے کچھ لیڈروں کو جس طرح اُٹھایا، کچھ لیڈروں کو جس طرح گِرایا۔
اس میں ان کی سیاسی بصیرت، دُور اندیشی و بلند نظری اور قوتِ ارادی، خود آگے بڑھنے اور دوسروں کو آگے بڑھانے کی صلاحیت اور تنظیم قومی وملی کی قابلیت، شدید آزمایشوں سے گزری اور پھر ایک مثالی کام یابی و کام رانی بن کے اُبھری۔

جس نے دوستوں اور دشمنوں دونوں کی آنکھوں کو خیرہ کردیا اور اس نے ان کے اس نئے کردار و عمل کو اور بھی زیادہ نام وری بخشی۔
۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here