ڈی این اے – HOW DNA WORKS

0
239

ڈی این اے
۔۔
ہر جاندار خلیے میں موجود ایک زپ نما مالیکیول ہے۔ 
#_تخلیق_کا_پورا_عمل اسی میں چھپا ہے۔ ویسے تو DNA میں ایک پوری کائنات چھپی ہے، لیکن اس وقت ہمارا موضوع DNA نہیں بلکہ Chromosome ہے۔

کروموسوم
۔Chromosomes تخلیق کے مرکزی کردار ہیں-
ڈی این اے کے اندر 46 کروموسومز ہوتے ہیں اور مرد کا آدھا ڈی این اے یعنی 23 کروموسومز اور اسی طرح عورت کا آدھا ڈی این اے یعنی 23 کروموسومز مل کر بچے کی خصوصیات کا تعین کرتے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک مردانہ سپرم میں 23 کروموسومز ہوتے ہیں جبکہ ایک زنانہ بیضے میں بھی 23 کروموسومز ہوتے ہیں اور تخلیق کے عمل میں کروموسومز کے یہی 23 جوڑے حصہ ڈالتے ہیں، ہر جوڑا مختلف خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔

خصوصیات
مثلاً بچے کی فیزیک ،نیچر یعنی طبیعت، رنگ، ہاتھوں پیروں کی بناوٹ، قد، نین نقوش، ذہانت یہاں تک کے آنکھوں اور بالوں کے رنگ اور ہر ہر خصوصیت کا تعین کروموسومز کے یہی 23 جوڑے کرتے ہیں اور انہی 23 میں سے 1 جوڑا جنس کا تعین بھی کرتا ہے۔
جنس کا تعین کرنے والے کروموسومز کی شکل انگریزی کے حروف ایکس X اور وائے Y سے مشابہت رکھتی ہے تبھی انہیں ایکس اور وائے کروموسومز کہا جاتا ہے۔

؛ X+X = Female Baby
؛ X+Y = Male Baby

ماں کے ڈی این اے میں جنس کا تعین کرنے والے دونوں کروموسومز ہمیشہ XX ہوتے ہیں۔ اس لیے ماں ڈی این اے کا جو بھی آدھا حصہ ٹرانسفر کرے ہر دو صورتوں میں ایکس کروموسومز ہی ٹرانسفر ہوگا۔
جبکہ باپ کے ڈی این اے میں جنس کا تعین کرنے والے دو کروموسومز میں سے ایک ہمیشہ X اور دوسرا یا تو X ہوگا یا Y۔ اس لیے باپ کی طرف سے ڈی این اے کا آدھا ٹرانسفر کیا جانے والا حصہ کبھی تو وائے کروموسوم ٹرانسفر کر دیتا ہے کبھی ایکس، آسان لفظوں میں یہ سسٹم “ٹاس” کی ہی طرح کام کرتا ہے۔
یعنی بائے چانس۔۔۔ #_ہیڈ_یا_ٹیل **

“مرد کی پیدائش کے عمل کی شروعات میں ہمیشہ ایکس کروموسوم ہی نشوونما پاتا ہے اور پہلے پانچ سے چھ ہفتے ہر شخص۔۔۔ جی ہاں ہر شخص عورت ہی کی طرح بنتا ہے۔ اور پھر پینتیس سے چالیس دن کے بعد وائے کروموسوم ایکٹو ہوتا ہے۔
یوں زنانہ آرگنز کی تخلیق رک جاتی ہے اور مردانہ آرگنز کی تخلیق شروع ہوتی ہے-

اس سب سے یہ بھی ثابت ہوا کہ پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا انحصار سو فیصد مرد پر ہوتا ہے لیکن علم و تحقیق سے نا آشنا معاشرے میں طعنے عورت کو دیئے جاتے ہیں- یہاں جب ایک عورت مسلسل لڑکیاں پیدا کرتی ہے تو مرد دوسری عورت تلاش کرتا ہے۔
حالانکہ سائنسی اصول کے تحت تو عورت کو دوسرا مرد تلاش کرنا چاہئیے : )
اور ہاں…. اب یہ سب کچھ جان لینے کے بعد “آپکو” عورت کو خود سے کمتر سمجھنے سے باز آ ہی جانا چاہیے-

#_ضروری_نوٹ۔۔
پاکستان کا میڈیا ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی سے دور لے کر جا رہا ہے، ہمارے سو سے زائد ٹیلی ویژن چینلز سائنس اور ٹیکنالوجی کے متعلق کوئی ایک پروگرام دکھانے سے بھی قاصر ہیں، البتہ میڈیا پر فضولیات اور لغویات پےشمار۔
ایسے میں ہمیں بحیثیت فرد اور بحیثیتِ کمیونٹی سائنس کو سمجھنے اور اس کے متعلق جاننے اور کائنات پر غور فکر کرنے کی ازخود کوشش کرنی ہے۔
۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here