Falsafa-e-Zindagi 

1
300

What is life? Falsafa-e-Zindgi Beautiful Urdu Article 

فلسفہ ء زندگی 

زندگی کا فلسفہ بھی کتنا عجیب ہے ،یہ کبھی ہنسا دیتی ہے تو کبھی ایک پل میں رُلا دیتی ہے ۔ ہماری ذندگی بھی شطرنج کی مانند ہے جس میں کب بازی پلٹ جائے اور کب شہ مات آجائے ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا ۔ سچ ہے کہ ہر قدم پر زندگی ہم سے روپ بدل بدل کر اپنا تعارف کرواتی ہے ۔کبھی حسین خواب دکھانا سکھاتی ہے، تو کبھی ہم سے خواب دیکھنے کا حق بھی چھین لیتی ہے ۔

کبھی یوں لگتا ہے کہ وقت تھم سا گیا ہے، لیکن در حقیقت وقت ریت کی مانند پھسل رہا ہوتا ہے ۔ کبھی ہم ایک ہی راہ پر چلنا پسند کرتے ہیں، تو کبھی ذہنی تھکاوٹ کو دور کرنے کے لیئے ہم اپنی راہیں تبدیل کر لیتے ہیں ۔ کتنا عجیب سلسلہ ہے ذندگی کا ،جس میں کوئی خوشیوں کو پانے کے لیئے روتا ہے ،تو کوئی دکھوں کی  پناہ میں روتا ہے ،کوئی بھروسہ کیئے جانے کے لیئے روتا ہے ، تو کوئی بھروسہ کرکے روتا ہے ۔ یوں ہی کئی بار ہماری شامیں نہیں گزرتیں تو کبھی صدیاں گزرتی چلی جاتی ہیں ۔ 

اِسی تیز رفتار سے زندگی بھاگ رہی ہوتی ہے اور ہم اس دوڑ میں بھا گتے بھاگتے کئی راستے عبور کر جاتے ہیں۔ یوں تو وقت گزرتا رہتا ہے اور ہم بھی خود کو وقت کے بہاوٗ میں بہتا ہوا چھوڑ دیتے ہیں ۔ لیکن ہمیں وقت گزرنے کا احساس تب ہوتا ہے جب ہم خود کو اُنہی رنجشوں اور حسرتوں کے بو جھ تلے دبا ہوا محسوس کرتے ہیں ۔پھر نہ دردِ دل میں کمی ہوتی ہے نہ ہی آنکھوں سے غموں کا دُ ھند کم ہوتا ہے ۔

    یہ ذندگی بھی ہمیں نہ جانے کس دوراہے پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے جہاں کبھی ہنسنا تو دور کی بات ہم رو بھی نہیں پاتے ۔ پھر یوں ہی کبھی تنہائی میں رو لیتے ہیں، تو کبھی آ نسووٗں کو چھپالیتے ہیں۔کبھی گھڑی کی سو ئیوں کو دیکھکر وقت گزارتے ہیں تو کبھی وقت کے بہاوٗ کا اندازا ہی نہیں ہوتا ۔ ذندگی بھی رنگوں کا امتزاج ہے ، اس لیے ہم کبھی رنگوں میں ذندگی  تلاش کرتے ہیں تو کبھی یہی زندگی بے رنگ سی محسوس ہوتی ہے۔

یہ کبھی دل کے زخموں کا ٹانکا اُدھیڑتی ہے تو کبھی مصنوعی خوشی کے ساتھ جینا سکھا دیتی ہے ۔ ہماری ذندگی میں یہ کبھی نہ ختم ہونے والا سلسہ یوں ہی چلتا رہتا ہے ۔ کبھی دھوپ تو کبھی چھاوٗں کی مانند ا س سفر میں بھی کبھی دشواریاں ہیں تو کبھی آسانیاں ۔شائد اِسی کا نام ذندگی ہے ۔ یہ احساس بھی کتنا دل فریب ہے کہ ذندگی کبھی دھنک رنگوں کی مانند رنگین اور خوبصورت لگتی ہے جسے محسوس کرکے روح کو تسکین ملتی ہے ۔ اک پل کے لیئے دل کرتا ہے کہ کاش یہ ہمیشہ ایک سی رہتی ، ہر انسان کی ذندگی میں کبھی نہ ختم ہونے والی خوشیاں ہوتیں، اور کبھی کسی کی ذندگی میں غموں کی گرد نہ ہوتی ۔ آہ ہ ۔۔۔ اس معصوم سی خواہش کا احساس بھی بہت حسین ہے جو دل کو ایک عجیب سی خوشی دیتا ہے ۔ 

” ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے ، بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے “

یہ تو انسان کی فطرت ہے کہ وہ جتنا چاہے خواہشیں کرلے ، مگر حقیقتاَ ہوتا اُس کے برعکس ہے ، جو ہم سوچ لیں وہ کبھی نہیں ہوتا اور کئی بار ذندگی میں وہ سب کچھ ہوجاتا ہے جس کاوہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ ذندگی کے کھیل بھی نرالے ہیں کبھی روشنی تو کبھی اندھیرے ہیں ۔ دیکھا جائے تو یہ ذندگی ہر کسی کے لیئے ایک سی رنگین کتاب ہے ، فرق محض اتنا ہے کہ کوئی اس کتاب کے اوراق پڑ ھ کر سمجھ لیتا ہے تو کوئی بنا سمجھے ہر ورق پلٹتا چلا جاتا ہے ۔ کوئی حالات کے آگے اپنی ہار تسلیم کرلیتا ہے ،تو

 کوئی ہار کر بھی دل میں جیتنے کی اُمنگ پیدا کرتا ہے ۔ یہ ذندگی بھی ہماری اُستاد ہے جو ہمیں کہیں نہ کہیں بہت گہرے سبق سکھا دیتی ہے ۔ کبھی تنہائی میں جینا سکھاتی ہے ، تو کبھی لوگوں کے ہجوم میں بھی اکیلا چھوڑ دیتی ہے۔ یہی ہماری ذندگی کا المیہ ہے کہ ہم کبھی بے انتہا آزمائشوں سے گزرتے ہیں تو کبھی عشق کا روگ لگا بیٹھتے ہیں.

کبھی اپنے ہی درد کو قلم بند کرتے ہیں، تو کبھی دل میں دفن کردیتے ہیں ۔ کبھی کسی کو پانے کی آرزو کرتے ہیں ، تو کبھی حالات سے ڈرتے ہیں۔ کبھی ہم گھنٹوں رب کے آگے عاجزی کے ساتھ ندامت کے آنسوں بہاتے ہیں۔کبھی کسی کی چاہ میں ہماری دعاوٗں کا سلسلہ طویل ہو جاتا ہے ،تو کبھی خاموشی کی زبان میں رب سے التجا کر تے ہیں ۔ پھر یوں ہی اِسی ڈگر پر یہ سفر رواں دواں رہتا ہے اور عمریں بیت جاتی ہیں ۔

 تحریر : پرھ اعجاز کراچی 

 

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here