Media or Hum Beautiful Urdu Article

0
85

Media Aur Hum Beautiful Inspirational Urdu Article by Pirah Memon

میڈیا اور ہم

 ہمارے ملک کے نوجوانوں میں میڈیا کا بڑھتا ہوا رجحان آنے والی نسل کے مستقبل کی عکا سی کررہا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ آج کل ہمارے میڈیامیں جو  مواد نشر کیا جارہا ہے وہ کسی بھی انسان کی سوچ و افکار پر باآسانی اثر انداز ہو سکتا ہے اور نسلِ نو کے طور طریقوں کو دیکھتے ہوئے ہم اس کے واضع اثرات کا بخوبی اندازہ  کر سکتے ہیں۔اِس کا ثبوت ہماری پاکستانی فلم انڈسٹری اور ڈرامہ انڈسٹری پر نشر کیئے جانے والے وہ پروگرامزہیں جن میں اخلاقی اور مشرقی اقدار کو بالائے طاق رکھ کر بے حودہ مناظر عوام کے آگے فخریہ انداز میں پیش کیئے جارہے ہیں ، جسے ہم پاکستان کی تر قی میں شمار کرتے ہیں ۔

ملک بھر کے ہر شعبے نے تر قی کر لی مگر انسان کی سطحی سوچ نہیں بد لی، جس کااعلیٰ نمونہ ہمیں آج کل کے ڈراموں کی کہانیوں سے ملتا ہے ۔تقریباََ ہر کہانی میں کچھ ایسے منفی کردارلازماََ دکھائے جارہے ہیں جو انسان کی شخصیت کو بُری طرح متاثر کررہے ہیں ۔ حال ہی میں ایک ڈرامہ (میں خیال ہوں کسی اور کا)جس کی کہانی میں شوہر بیوی کو شادی کے دوسرے دن ہی تین طلاق ایک ساتھ دے دیتا ہے ، اور اُس کے باوجود وہ ایک ساتھ رہ رہے ہوتے ہیں ، اُن کے خیال میں یہ طلاق نہیں ہوااور اِسی اُلجھن کو سلجھانے کے لیئے وہ ملاوٗں اور قانون کا رخ کرتے ہیں ۔ جب کہ اسلامی اور شریعتی اعتبار سے تین طلاق کے بعد مرد اور عورت کا ایک ساتھ رہنا جائز نہیں ۔اس طر ح کا مواد عوام کے ذہنوں کو منتشر کررہا ہے ۔حقیقی ذندگی سے یکسر مختلف ایسی کئی کہانیاں آج ہمارے بیچ ہیں جو انسانی زندگی پر بُرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔

اس کی ایک اور مثال (ڈرامہ ۔ پکار ) کی کہانی سے ملتی ہے جس میں ایک بیوہ لڑکی کو فرسودہ رسم و رواجات کی بناء پر سسرال میں قید ی کی حیثیت سے رکھا گیا ہے ،جس میں اُس بیوہ کو اپنی ذندگی کے کسی بھی فیصلے کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا ۔ ایسی بہت سی کہانیاں ہمارے معاشرے کی جہالت کا پتہ دیتی ہیں ، جس سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ تاریخ سے لے کر موجودہ دور تک بھی ایک عورت کو لے کر لوگوں کی سوچ نہیں بدلی ۔ عورت آج سے ہزاروں سال پہلے بھی اُسی مقام پر تھی جہاں آج ہے ،فر ق محض تعلیم اور شعور کا ہے ۔

 مز ید اِس بات کو ایک اور مثال سے واضع کرنا چاہونگی ، جو حالیہ ڈرامہ سیریل (باندی ) کی کہانی سے ملتی ہے ۔یہ کہانی ہے ایک غریب دیہاتی لڑکی کی ، جو اپنے گاوٗں کے عیاش زمیندار کی حوس کا نشانہ بنتی ہے۔ اِس کہانی میں بھی غیر اخلاقی مناظر پیش کیئے گئے ہیں ، جس میں عورت کی بے حد تذلیل کی گئی ہے ۔ ایسی تمام کہانیوں کی اِک طویل فہرصت ہے ، جو کہیں نہ کہیں آج بھی ہمارے زمانہ ء جہالت کی نشاندہی کرتی ہے ۔

ایسے کئی پروگرامز آج ہمارے معاشر ے میں کھلے عام دکھائے جارہے ہیں جو ہماری نوجوان نسل کی بربادی کے لیے ایک بارود کا کام دے رہے ہیں۔ہر کہانی میں کہیں مرد عورت کی بے وفائی ،تو کہیں ظلم و تشدد، کبھی مرد کی دوسری شادی ہورہی ہوتی ہے ، تو کہیں طلاق ،کہیں عورت زات کی توہین ، تو کہیں رشتوں کی نوعیت کو نہ سمجھتے ہوئے مرد اور عورت کے بیچ غیر اخلاقی رشتے ، کبھی عورت طوائف بن رہی ہوتی ہے ، کبھی والدین کے ساتھ نافرمانی اور بغاوت ، غرض کہ انسان زات سے جڑے ہوئے تمام رشتوں کی دھجیاں اُڑائی جاتی ہیں اور عزتیں پامال ہو تی دکھائی جارہی ہیں ۔

اور ہم کہتے ہیں کہ ہمارے ملک  نے ترقی کر لی ۔ یہ کون سی ترقی ہے جس میں عوام کی تفریح کے لیئے بھی ایک عورت زات کو ہی تماشا بنایا جارہا ہے ؟ ایک عورت کو ہی فحش کردارمیں منظرِ عام پر لایا جارہا ہے ۔ یہ ہے ہمارا ملک جو اسلام کو ڈھال بنائے اپنی شناخت برائے نام اسلامی مملکت کی بناء پر کرواتا ہے ؟ اس سے بڑھ کر اور کیا تو ہین ہوگی کہ ایک عورت کو سرِ عام رسوا کیا جائے ۔ 

      ہمارے جاہل معاشرے کا کڑوا سچ تو یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح شہری اور دیہاتی عورت دونوں ہی ایک کشتی کے سوار ہیں جو مظلومیت کا شکار ہر دور میں رہی ہیں ۔ تعلیم اور شعو رنے صرف عورت کو ذندگی جینے کا ڈھنگ سکھایا ہے لیکن بنیادی حقوق سے وہ آج بھی محروم ہے،اور آج بھی ایک عورت وحشی درندوں کا شکار بنتی ہے ۔ایسی صورتِ حال میں میڈیا افسران کو چا ہیئے کہ و ہ اپنی کہانیوں میں ایسے مثبت مواد اور کرداروں کو شامل کریں جو انسانوں میں ایک وسیع سوچ کو جنم دے سکیں ۔

جب کہ موجودہ حالت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عمل اس کے مترادف ہورہا ہے جس کے باعث نوجوانوں میں منفی سوچ پروان چڑھ رہی ہے ۔ہماری نوجوان نسل بھی اگر انہی کہانیوں کی بناء پر اپنی اسی سوچ کو قائم رکھتے ہوئے آگے بڑھتی رہی تو اس قوم کا حال کبھی نہیں بدل سکتا۔ کیوں کہ میڈیاکے زریعے ٹیلی ویزن پر نشر کیئے جانے والے وہ تمام منفی پروگرامز اخلاقی حدود کو یکسر فراموش کیئے ہوئے ہیں جوپُر امن معاشر ے کی تشکیل میں رُکاوٹ کے عناصر میں سے ایک ہے ۔ جس کی روک تھام کے لیئے ایسے عملی اقدامات کرنے کی بے انتہا ضرورت ہے جو لوگوں کے اوسط درجے کی سوچ کوتبدیل کر نے میں کارآمد ثابت ہوسکیں۔ 

تحریر : پرھ اعجاز کراچی 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here