Uljhi Suljhi si Kahani Urdu Novel 10 Episode

0
118

Uljhi Suljhi si Kahani Urdu Novel 10 Episode by Areesha Abid

الجھی سلجھی سی کہانی

دسویں قسط۔

آج خالہ اور ان کی بیٹیوں نے ان کے گھر رکنے آنا تھا۔
صبح ہی فون کر کے آرڈر دےدیا گیا تھا کہ
“خالہ جانی آپ بریانی اچھی بناتی ہیں آج ضرور بنائیے گا”.
امی کچن میں مصروف تھیں۔
عایشہ سوچ رہی تھی کہ شاید ان تین چار دنوں میں وہ ان لوگوں سے اٹیچ ہوجائے۔

ابھی ان کے آنے میں وقت تھا۔
اس نے امی کے ساتھ مل کر دوسرے بستر بھی نکالے تاکہ سب سکون سے سوسکیں رات میں۔
“امی شفیع بھائی بھی رکیں گے؟”
“ہاں لگ تو رہا ہے”.
“تو وہ کہاں سوینگے”.

“اس کو دوسرے کمرے میں سلادینگے۔ ہم سب ادھر ہی سوجاینگے۔”
گیٹ پر بیل بجتی ہے وہ بالکنی سے دیکھتی ہے تو خالہ لوگ ہی ہوتے ہیں۔
وہ نیچے جاکر گیٹ کھول کر سلام کرتی ہے مگر سب جواب دیے بغیر اوپر چڑھ جاتے ہیں۔
“خالہ جانی بریانی بہت مزے کی بنائی تھی آپ نے”.
کھانے کے بعد سندس نے تعریف کی۔
امی خوش ہوگئی۔
مہمان اللّٰہ کی رحمت ہوتے ہیں ان کی خاطر مدارت کرنے سے اللّٰہ پاک خوش ہوتے ہیں۔
پھر بریانی کی تعریف پر امی کا یوں خوش ہونا،
عایشہ نے مسکرا کر سوچا۔

“اب میں واپس کوشش کرتی ہوں کہ یہ لوگ مجھ سے دوستی کر لیں امی کی خوشی کی خاطر ہی سہی”.
اور یہ دوسروں کی خوشی ہی تو ہوتی ہے جو ہم نہ چاہتے ہوئے بھی وہ سب کرتے ہیں جس سے ہمارے اپنے خوش رہیں۔
دراصل ہر انسان کی خوشی و غمی کا دارومدار اس کے اپنوں کے گرد ہی گھومتا ہے۔
وہ چاہے کسی بھی مرحلے میں ہو اپنے سے جڑے رشتوں کے جذبات و خیالات کے مطابق ہی رواں ہوتا ہے، پھر چاہے شعوری طور پر ہو یا لاشعوری۔
اگلے دن ناشتہ بنانے میں امی کی مدد کرنے لگی۔
پراٹھے عایشہ بہت اچھے بناتی تھی۔
ناشتہ سب نے سیر ہو کر کیا۔
ناشتہ کے بعد امی برتن دھونے لگیں اور وہ گھر کی صفائی کرنے لگی۔
اتنے میں بڑی خالہ کا بڑا بیٹا فرخ ان کے گھر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر آیا۔

“خالہ جانی فرخ کو ہم نے بلایا ہے آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے ناں؟”
خزینہ نے امی سے پوچھا۔
“بیٹا اعتراض تو کوئی نہیں ہے لیکن ایسے کبھی اپیا کے ساتھ فرخ آتا نہیں اور اب آئےگا تو اپیا کو اعتراض ہوگا کے میں نے یہاں  بلایا ہے تم لوگوں کے آنے پر۔”
امی نے مناسب لفظوں میں سمجھانا ضروری سمجھا۔
“خالہ جانی وہ مسئلہ نہیں اصل میں فرخ ہمارے گھر رکتا ہے تو خالہ جان دوسرے دن آکر دیکھتیں ہیں کہ ہمارے یہاں تو نہیں آیا۔
اس لیے ہم نے یہاں بلایا ہے”.
“ارے پریشان نہ ہو رومی اپیا کو کوئی پتہ نہیں لگنا یہاں کونسا وہ آجائیں گی۔”
نازی خالہ نے بات رفادفا کرنے کی کوشش کی تو امی بھی چپ ہوگئی۔
لیکن عایشہ کو سمجھ آگیا ان کی آمد کا مقصد صرف اور صرف خزینہ فرخ اور سندس کا کھل کے ملنا جلنا تھا۔
ایک بات بڑی ہی عجیب تھی۔

منگیتر خزینہ تھی فرخ کی لیکن اس سے ہر وقت سندس چمٹی رہتی۔
حتیٰ کہ ھود میں بھی بیٹھ جاتی اور خالہ ہنستی رہتی کہ لاڈلی ہے فرخ کی۔
جبکہ اپنے دو بڑے بھائیوں سے کبھی ایسے فری نہیں ہوئی تھی۔
انور تو فرخ کا ہم عمر تھا۔
ان لوگوں کی باتوں کو سمجھنے کے لیے دماغ کی دوسری سائیڈ کی کھڑکی کھولنی پڑتی تھی اس لیے عایشہ اگنور کر کے اپنے آپ میں مگن رہتی تھی۔
دوپہر میں سندس نے رولا ڈالا کہ,
” خالہ جانی میں مونگ کی دال بناؤں گی”
“بنا لو بیٹا جو دل کرے”
اور لنچ میں آدھی کچی آدھی پکی مونگ کی دال کھانی پڑی وہ بھی بنا مطلب کی تعریفیں کر کے۔

برتن سارے عایشہ نے دھوے۔
ابھی شام نہ ہوئی تو پھر اس کو نکال کر کچن میں گھس گئیں دونوں کے چائے ہم بنائیں گے۔
پھر اللّٰہ جانے کیا کیا کرتی رہیں اندر دونوں۔
وہ الگ بات کے چائے کے سارے برتن سمیٹے بھی عایشہ نے اور دھوے بھی اسی نے۔
رات میں خزینہ کچن میں گھس گئی کہ میں کڑھائی بناؤں گی اور اس کا دماغ خراب ہونے لگا کیونکہ دونوں گندے برتن وافر مقدار میں سنک میں چھوڑ دیتیں اور کھاتے وقت بس نہیں چل رہا ہوتا کہ ایک ایک بندے سے اٹیسٹ کروا کے لکھوائیں کہ کھانا ان دونوں نے اچھا بنایا ہے۔
اللّہ اللّٰہ کر کے ایک دن تو گزر گیا۔

چونکہ ان کا گھر نانا اور چھوٹے ماموں کے گھر سے قریب تھا تو دوپہر میں چھوٹے ماموں اور رات میں خالہ نے نانا کے گھر جانے کا پروگرام بنایا۔
فرخ صاحب ارلی مارننگ اپنی منگیتر کے درشن کے لیے حاضر تھے۔
“امی چھوٹے ماموں کے گھر میں نہیں جارہی۔”
“میں بھی نہیں جارہی آپ ہو کر آجائیں”.
خزینہ اور سندس دونوں نے صاف منع کر دیا۔

عایشہ جانے کے موڈ میں تھی مگر ان دونوں کی وجہ سے اسے بھی رکنا پڑا اور فیصل کی ویسے ہی چھوٹے ماموں کی ثمین سے ان بن رہتی تھی تو اسے بھی گھر چھوڑ کر خالہ اور امی خود چلی گئیں۔
ان کے جاتے ہی انڈین اور انگلش فلموں کا مکسچر حقیقت میں پہلی بار دیکھا تھا عایشہ اور فیصل نے۔
ان لوگوں کے پپا کا کمپیوٹر آن کر کے اس میں سی ڈی پہ گانے لگا کر فرخ وقتاً فوقتاً کبھی خزینہ اور کبھی سندس کے ساتھ کپل ڈانس کرنے لگا۔
پیر پر پیر رکھ کر وہ لوگ کافی دیر ڈانس کرتے رہے اور وہ بڑی مشکلوں سے فیصل کا منہ دوسری طرف رکھنے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی۔
“تم انسان کے بچوں کی طرح بیٹھ نہیں سکتے؟”
عایشہ نے غصے سے فیصل کو ڈانٹا۔

“میں امی کو بتاؤں گی کہ تم بار بار منع کرنے پر بھی ادھر دیکھ رہے تھے”.
اس نے دھمکی دی
“فری میں فلمی سین لائیو چل رہے ہوں تو میں کیوں نہ دیکھوں”.
فیصل نے دوبدو جواب دیا۔
“منہ تڑوانا ہے یا انسان بننا ہے؟”
فیصل بدمزا ہوکر دوسری طرف دیکھنے لگا۔
لیکن ان تینوں کی بےحیائ عروج پر تھی۔
رات میں خزینہ نے کہہ دیا کہ وہ سیخ کباب کا قیمہ بنائے گی۔
امی اب خود بھی زچ ہو چکی تھی لیکن چپ تھی کہ پہلی بار یہ لوگ گھر رکنے آئیں تھیں۔

طے یہ پایا کہ امی، خالہ، سندس اور فیصل نانا کے گھر جاینگے اور چونکے فرخ گھر ہے تو خزینہ یہی رکے گی جس کی وجہ سے عایشہ بھی باونڈ ہوگئی تھی۔
عایشہ کو بہت غصہ آرہا تھا اس بیچ امی اکیلے نہیں ملی کہ وہ ان سے کچھ کہہ سکتی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے۔
خزینہ اور فرخ اس کے سامنے ہی بےشرموں کی طرح بیٹھے تھے وہ اٹھ کر دوسرے کمرے میں آگئی۔
ان میں تو غیرت، شرم اور حیا نام کے لیے بھی نہ تھیں لیکن عایشہ کی تربیت ایسی نہ ہوئی تھی۔
اپنے ددھیال میں لڑکا لڑکی سارے کزنز میں آپس میں سگے بہن بھائی کا سا احترام تھا۔

اور یہاں تو صرف بےحیائ تھی۔
پتہ نہیں وہ بار بار کیوں اپنے ننھیال اور ددھیال کا موازنہ کرنے لگتی تھی۔
اور اس موازنے میں اسے ہمیشہ رشتوں کے تقدس، احترام، محبت اور عزت میں ددھیال کا پلڑا بہت بھاری لگتا تھا۔

جاری ہے…..

پچھلی قسط پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

اگلی قسط پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

از قلم: عریشہ عابد

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here