Uljhi Suljhi si Kahani Urdu Novel 11 Episode

0
162

Uljhi Suljhi si Kahani Urdu Novel 11 Episode by Areesha Abid

گیارویں قسط۔

آج شام حیرت انگیز طور پر خالہ کی بیٹیوں میں سے کوئی بھی نہیں اٹھی چائے بنانے تب عایشہ ہی اٹھ کے کچن میں آئی دو دن سے اسے کچن میں گھسنے نہیں دیا جارہا تھا۔ دونوں بہنیں آپ ہی سگھڑ بننے کی دوڑ میں دوڑے جارہی تھی۔

چائے کا پانی چولہے پر رکھ کر وہ چائے کی پتی کا ڈبا ڈھونڈنے لگی۔
کافی دیر بھی ڈھونڈنے پر نہ ملا تو اس نے چولہا بند کرکے امی کو آواز دی۔
“امی چائے کی پتی نہیں مل رہی”
“ابھی تو پورا پیکٹ بھرا تھا میں نے کہاں گیا؟”
امی اس کے ساتھ کیبنیٹ میں ڈھونڈنے لگیں وہاں نہ ملنے پہ امی نے دوسری جگہوں پر جب ڈھونڈا تو کیبنیٹ کے پیچھے سے برآمد ہوا اور سارا ڈبا خالی فرش پر الٹا ہوا تھا۔

“یہ کیا ہے؟ عایشہ کوئی عقل کوئی ڈھنگ ہیں؟ اس طرح سے پورا پیکٹ ضائع کردیا۔ کوئی سستی آتیں ہیں چیزیں”
امی نان اسٹاپ اس پر شروع ہوچکی تھی۔
“امی دو دن سے میں کچن میں نہیں آئی ہوں”
تب خالہ اور ان کی بیٹیاں بھی صحن میں آگئیں
“پتہ نہیں کس نے کیا یہ کسے ہوا ہے ویسے؟”
اس کی حیرت کی انتہا نہیں رہی جب دونوں بہنیں انجان بن کر ان ہی سے پوچھنے لگی۔

امی اس پر غصے میں بڑبڑاتی دوسرا پیکٹ نکالنے لگیں۔
اور عایشہ یہ سوچنے لگی کہ حد ہے ڈھٹائی اور بےغیرتی کی۔
اللّٰہ اللّٰہ کر کے خالہ کی فیملی رخصت ہوئی اور وہ اپنے روز مرہ کے معمولات میں لگ گئے۔
زندگی کا یہی اصول ہوتا ہے۔
وقت کبھی نہیں ٹھرتا رواں ہی رہتا ہے۔
اس روانی کا حصہ رہنے والے ہی کامیاب ٹھرتے ہیں۔
لیکن بیتی باتیں اور یادیں اس روانی میں بھی آڑ پیدا کر کے اسے بھٹکا دیتی ہیں۔

کبھی کبھی بیتی باتیں اور یادیں بہت زیادہ جڑ پکڑ لیتیں ہیں تو انسان اس روانی سے نکل کر چند پل ٹھر جاتا ہے اور یہی چند پل ان یادوں کے نام نظرانہ ہوتے ہیں جس کی واپسی و آدائیگی قطعی ممکن نہیں۔
عایشہ کو کبھی کبھی اپنے گھر اور پپا کی بہت یاد آتی تھی۔
وہ اکثر پرانی تصویریں نکال کر کبھی دادو کبھی پپا کبھی دادا کبھی پھوپھو کی شبیہہ سے باتیں کرنے لگتی تھی۔
اب اس نے لکھنا سیکھ لیا تھا۔

اپنی تکلیف اپنے درد وہ ڈائیری میں نظم یا نثر کی صورت قلم بند کرنے لگی تھی۔
اس نے اپنا تحریری نام “انمول” رکھا تھا۔
اسے لگتا تھا کہ وہ بےمول ہے لیکن نام تو انمول رکھنے میں کوئی برائی نہیں۔

اور ویسے بھی اس عمر میں یہ سب محسوس کرنا بھی کمال ہی تھا جس عمر میں وہ بچپن کو جینے کے بجائے خود سے جنگ کرنے میں مصروف تھی۔
آج بہت دنوں بعد وہ ماموں گھر آئی تھی امی کے ساتھ۔
ماموں کا گھر سنگل اسٹوری تھا۔
گراؤنڈ فلور پہ ہی سب رہتے تھے فرسٹ فلور پہ منجھلے ماموں رہتے تھے کیونکہ وہ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے تھے تو ان کے روز و شب کا کوئی حساب نہیں ہوتا تھا۔

وہ لوگ ممانی کے بیڈروم میں بیٹھے تھے۔ الٹے سائیڈ پر دیوار سے ڈبل بیڈ لگایا ہوا تھا اس کے سامنے ڈریسنگ اور الماری رکھی ہوئی تھیں
بیڈ کے سیدھی طرف دو سوفے اور ان کے بیچ ایک چھوٹی ٹیبل تھی۔
ممانی اور امی سوفوں پر تشریف فرما تھیں جبکہ وہ اور فیصل ان کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گئے تھے۔
کراچی میں الیکٹریسٹی کے بڑے مسائل ہیں۔ دن میں تین ٹائم لوڈ شیڈنگ برداشت کرنی پڑھتی ہے۔

وہ بھی کسی علاقے میں ایک گھنٹے کی، کہیں دیڑھ گھنٹہ،تو کہیں پورے دوگھنٹے کی لائیٹ کی عدم موجودگی زندگی کو رک جانے پر مجبور کردیتے ہے۔
دن تو خیر سے قدرتی اجالے میں گزر جاتے ہیں۔
رات کے اندھیرے میں اکثر مسائل درپیش ہوتے۔
ابھی بھی لائیٹ نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ ممانی کے کمرے میں ہی بیٹھ گئے تھے کیونکہ ممانی کے کمرے کے ساتھ ہے صحن تھا جہاں اوپر کھلی ڈک ہونے کی وجہ سے ہوا اور چاند کی روشنی سیدھا کمرے میں آتی تھی۔
چارجنگ لائٹ بھی اپنی بیٹری لو ہونے پر مدھم ہوچکی تھی۔
لیکن جب دلوں میں سکون اور آسودگی ہو تو اندھیرے کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے۔

وہ لوگ ممانی کے ساتھ بہت سی باتیں کررہے تھے۔
ادھر ادھر کی بےشمار باتیں۔
اچانک عایشہ کو اندھرے میں اپنی کمر پر گدگدی سی محسوس ہوئی اس نے چڑ کر فیصل کو تھپڑ لگایا کیونکہ وہ اکثر ایسی مستیاں کرتا رہتا تھا۔
“سکون سے نہیں بیٹھ سکتے تم”
“کیا ہے میں نے کیا کیا؟”
“کیا مسئلہ ہے کیوں لڑ رہے ہو آپس میں؟”
امی نے غصے سے ڈانٹا۔
“امی یہ مجھے کمر میں گدگدی کر رہا ہے”.
عایشہ نے فوراً شکایت کی۔
“میں نے نہیں کیا کچھ امی”
“اب جھوٹ مت بولو تم”
وہ آپس میں لڑنے لگے۔

“منہ بند کرو دونوں اور اب لڑے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ سکون سے اپنے ہاتھ پیر اپنے تک رکھ کر بیٹھو دونوں۔”
امی نے ڈانٹ کر چپ کرایا۔
دو منٹ گزرے تو پھر عایشہ کو کمر میں گدگدی محسوس ہوئی اب کی بار عایشہ نے باقاعدہ دھموکا فیصل کی کمر میں دے مارا۔
“امی یہ پھر گدگدی کرہا ہے”.

“میں نے نہیں کی مارے جارہی ہے بار بار میں نہیں بیٹھ رہا جارہا ہوں میں”.
فیصل غصے میں وہاں سے چلا گیا۔
“یہ لڑکا بہت بد معاش ہے ہر وقت مستی کرنی ہوتی ہے اس نے”.
امی فیصل کے جانے کے بعد بولی۔
وہ پھر آپس کی باتوں میں لگ گئے۔
پانچ منٹ بعد پھر عایشہ کو اپنی کمر پر واپس کوئی چیز رینگتی محسوس ہوئی۔

“یہ کیا اب تو فیصل بھی نہیں بیڈ پر تو میں اکیلے بیٹھی ہو پھر کیا چیز ہے” سوچ کے بھی عایشہ کو خوف سے ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ محسوس ہوئی۔
” اب شکایت کی تو امی مجھے بہت ڈانٹیں گی”
چاند کی اور چارجنگ لائٹ کی مدھم روشنی صرف بیڈ کے شروع کے حصے پر جہاں عایشہ بیٹھی تھی اور سوفے پر پڑرہی تھی باقی اندھیرا گھپ تھا۔

پہلے صرف ایک بار چھو کر کر ہٹ رہی تھی لیکن اب اس چیز کے رینگنے میں تیزی آنے لگی۔
جاری ہے….

پچھلی قسط پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

اگلی قسط پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

از قلم: عریشہ عابد

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here