Sajda urdu Story

0
215

Sajda A Heart touching beautiful urdu story 

سجدہ

وہ کئی دنوں سے بے سکون بے قرار تھی
رونا چاہ رہی تھی مگر آنکھوں سے آنسو نہی آرہے تھے بس ایک عجیب سی بے چینی تھی،
معصوم بچے کی طرح اپنی نظریں آسماں کی جانب اٹھائی، دل میں بہت سے سوال تھے، وہ خدا سے باتیں کرنا چاھتی تھی،

وہ جسے رگ جاں سے زیادہ قریب تھا اس کی ناراضگی کو محسوس کر رہی تھی آسماں کی جانب دیکھ کے اپنا سر جھکا دیا، وہ بہت شرمسار ہونے لگی 
کیوں کہ وہ رب سے بہت دور ہوگئی تھی 
کئی دن بیت گئے وہ پتھر بنتی گئی بہت رونا چاہتی تھی مگر ایک بھی آنسو نہیں نکلا، اندر ہی اندر وہ بہت بے چین ہوتی گئی..

اس رات وہ تہجد کی نماز کے لیے اٹھی اور کئی دیر سجدے میں گر کر رونے لگی روتے روتے خدا کو پکارنے لگی،
بے حساب آنسوں کے ساتھ اس نے خدا کو کئی بار پکارا 
اللہ اللہ اللہ…. اور کچھ نہیں کہہ پارہی تھی 
اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کہوں
ہونٹ چپ تھے مگر آنسوں بول رہے تھے 
پتا نہیں کتنے دنوں سے بے چین تھی
سکون ہی نہیں تھا کہیں بھی.

وہ پھر سجدے میں گر کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ رونے لگی
آنسو بے حساب جا نماز پے گرتے رہے
وہ اللہ سے اللہ کو مانگنا چاہتی تھی، روتے روتے یے دعا مانگی 
“اے اللہ میں تجھے پانا چاہتی ہوں تجھ سے تجھے چاہتی ہوں اور کچھ نہیں چاہتی بس اپنی محبت دے دے
میں تجھ سے دور کیوں ہوگئی مجھے پہر سے اپنا کردے
یے دنیا یے دنیا کی محبتیں سب کچھ فریب ہے، دل سے دنیا کی محبت نکال کر بس اپنی محبت میں مبتلا کردے اپنا پیار اپنا قرب دے دے.

بہت تھک گئی ہوں یارب اور میرا سکون بس توہی ہے،مجھے خود سے جدا نہ کر مجھے اپنا بنا مجھے اپنا بنا….
مجھ سے بات کریں مجھے جواب دیں
یے کہتے کہتے پہر زار زار رو کر سجدے میں گر گئی،
وہ سجدے سے اٹھنا نہیں چاہتی تھی.

وہ وہیں پے سونا چاہتی تھی،اس نے اپنی آنکھیں بند کرلی تو اسے ایسا لگا جیسے کسی نے اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرا ہو اسے عجب سا ایک سکون محسوس ہوا کہ جیسے کسی نے تسلی دی ہو
وہ خدا کی محبت کو محسوس کرنے لگی وہ خدا کو اتنا قریب محسوس کر رہی تھی کہ جیسے خدا اس کے سامنے ہی ہو
وہ سجدے میں زمین کو چومنے لگی اور اتنا سکون ملا کے جیسے اس نے خدا کو پالیا ❤.

“بیشک خدا ہی انسان کو ایسی جگہ لاتا ہے جہاں اس کی اصل حقیقت سے روشناس کروادیتا ہے اور اس کا ہاتھ تھام کر اس کو سیدھی راہ پے لاتا ہے”

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here