Deen Main Tahqeeq

0
252

Deen main Tahqeeq a Beautiful and Inspirational Urdu Article by Bint-e-Ikhlaq

پاکستان کے تقریباً ہر گھر میں مسنون دعاؤں کی خاص مکاتب کی موجودگی لازم ہے. جب بھی ہم کسی مشکل میں گھرے ہوں یا اللہ سے کچھ خاص طلب ہو تو ہم سب ان کتابوں کا رخ کرتے ہیں. ان کتابوں میں بہت سے درود اور دعائیں لکھی ہوتی ہیں اور ساتھ ان کے فوائد اور فضائل بھی درج ہوتے ہیں. ہم سب ان درودوں کے گرویدہ ہیں مگر کیا کبھی ہم نے ان درودوں اور دعاؤں کے مسنون اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے کی تحقیق کی ہے؟ 

ہم ان دعاؤں کی کتابوں کو اپنی آسانی کے لئے پڑھ لیتے ہیں مگر کیا کبھی کسی نے یہ سوچا ہے کہ یہ بلاشبہ قرآنی آیات تو نہیں ہیں کیونکہ قرآن کا اپنا ایک خاص طرز اور ربط ہے، تو اگر یہ درود اور دعائیں حدیث سے بھی ثابت نہیں ہیں تو کیا ان کا ورد غلط طرزعمل نہیں ہے؟ کیا یہ طرز عمل کفار کی پیروی کرنا نہیں ہے؟ کیا انسانی تشکیل کردہ یہ تمام دعائیں اور درود اللہ تعالیٰ کے کلام سے بڑھ کر درجہ رکھتے ہیں؟

اللہ تعالی قرآن پاک میں باریا فرماتا ہے

کہہ دیجئے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل لانا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل لانا ناممکن ہے گو وہ ( آپس میں ) ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں ۔

سورت بنی اسرائیل

کیا ان آیات کا اطلاق صرف کفار کی حد تک ہی تھا؟ کیا قرآن پاک جو قیامت تک ہمارے لئے ہدایت اور مشعل راہ ہے اس کی یہ آیات مسلمانوں پر لاگو نہیں ہوتی؟ کیا قرآن اور حدیث سے ثابت دعائیں اللہ اور اس کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور قربت حاصل کرنے کے لئے ناکافی ہیں جو ہم انسانی تشکیل کردہ آیات سے مدد طب کرتے پھرتے ہیں؟

میں ان دعاؤں اور درودوں کو خلاف نہیں ہوں مگر بحیثیت مسلمان کیا یہ ہمارا فرض نہیں کہ ہم اسلام میں تحقیق کریں. اللہ تعالیٰ نے انسان کو جوعقل دی وہ دین اور کفر میں تفریق کرنے کے لئے دی. اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ

اے ایمان والوں جب اللہ کی راہ میں نکلا کرو تو خوب تحقیق کر لیا کرو. سورت النساء

پھر اللہ فرماتا ہے کہ

اور ان سے جب کبھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالٰی کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا.

سورت البقرۃ

کیا یہ جملہ سنا سنا سا نہیں لگتا؟ جب ہم اپنے بڑوں یا کسی سے دین کے معاملے میں اصلاح کی بات کریں تو وہ با آسانی کہہ دیتے ہیں کہ یہ کام تو ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں. کیا یہ کافرانہ طرز عمل نہیں؟ ہمارے باپ دادا پڑھے لکھے نہیں تھے اور بہت سال ہندوستان میں رہے اس بنا پر انہوں نے بہت سی غیر اسلامی رسومات کو اپنا لیا. مگر آج کا مسلمان تو پڑھا لکھا ہے. ہم ہندوؤں کی غلامی سے بھی آزاد ہیں مگر صدیوں کی غلامی ابھی بھی ہماری رسومات پر چھائی ہوئی ہے. ان کتابوں سےہٹ کر بھی اگر دیکھیں تو جو 6 کلمات ہم اپنی آنے والی ہر نسل کو سکھانا ضروری سمجھتے ہیں اور یہ تصور کرتے ہیں کہ ان کے بغیر ہمارا دین ہی مکمل نہیں ہوتا وہ بھی دین سے ثابت ہیں یا نہیں. دوئم کلمہ شہادت ہے، تیسرا اور چوتھا کلمہ حدیث نبوی سے ثابت دعائیں ہیں. مگر باقی تین کا کوئی ثبوت کسی مستند دینی کتاب سے نہیں ملتا.

میری تمام باتیں پڑھ کر کفر کا فتویٰ لگانے سے پہلے ایک دفعہ میری کی گئی باتوں کی تحقیق ضرور کیجئے گا. انشا اللہ اللہ اپنے دین کی تلاش میں نکلے انسانوں کی رہنمائی ضرور کرتا ہے. اٹھیں اور دین میں تحقیق کریں تاکہ کل کو اللہ تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہو سکیں.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here